نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی

نظم اسلامی مساوات از الطاف حسین حالی الطاف حسین حالی کا تعارف: خواجہ الطاف حسین حالی اردو ادب کے پہلے ریفارمر اور بہت بڑے محسن ہیں۔وہ بیک وقت  شاعر،نثر نگار،نقّاد صاحب طرز سوانح نگار اور مصلح قوم  ہیں جنھوں نے ادبی اور معاشرتی سطح پر زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کیا اور ادب

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر حضرت اکبر الہ آبادی کی یہ خوبصورت نظم فطرت کی عکاسی اور معرفتِ الٰہی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ذیل میں  شاعر کا تعارف اور اشعار کی مفصل تشریح پیش ہے۔ شاعر کا تعارف: اکبر الہ آبادی اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر

خدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہوکر اکبر الہ آبادی کا تعارف : اکبر الہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مضبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کارروائیوں کے

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ حفیظ تائب کی یہ نعت اردو نعت گوئی کے جدید دور کا ایک شاہکار ہے۔ ذیل میں آپ کی ہدایت کے مطابق اس کا مکمل علمی و ادبی جائزہ اور تشریح پیش ہے: شاعر کا تعارف: حفیظ تائب حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ حفیظ تائب کا مختصر تعارف : حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔ آپ عصرِ حاضر میں اردو اور پنجابی نعت گوئی کا ایک نہایت معتبر اور بلند پایہ نام ہیں۔ آپ کو “مجددِ نعت” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے نعت کو روایتی

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا مولانا ظفر علی خان کا مختصر تعارف: ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا مولانا ظفر علی خان کا مختصر تعارف: ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی

با نشئه درویشی – علامہ اقبال کی فکرِ انقلاب کا شاہکار

با نشئه درویشی : علامہ اقبال کی فکرِ انقلاب کا شاہکار با نشئه درویشی – علامہ اقبال کی فکرِ انقلاب کا شاہکار (مکمل تعارف، لفظی معنی، ترجمہ اور فکری و فنی تجزیہ) نظم کا تعارف یہ فارسی نظم عظیم مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال کی شہرۂ آفاق تصنیف زبورِ عجم سے ماخوذ ہے۔ “زبورِ عجم”

خطاب بہ جوانان اسلام

خطاب بہ جوانان اسلام کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے علامہ اقبال کی یہ نظم ان کے مجموعہ کلام ’بانگِ درا‘ سے ماخوذ ہے، جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر حال کی پستی سے نکلنے کا درس دیا ہے۔ شعر نمبر 1 کبھي

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں کچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاج سر دارا تمدن آفريں خلاق آئين جہاں داري