شکوہ بند نمبر 29
قمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہُوئیں
پتیاں پُھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہُوئیں
وہ پُرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہُوئیں
ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہُوئیں
قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گٌلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی