دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

 

نعت از افتخار عارف

 

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

وہ پاس مدحت خیرالامم نہیں کرتے

دعا بغیر اجازت بغیر اذن بغیر

ہم ایک لفظ سپرد قلم نہیں کرتے

کتاب حق نے جنہیں مصطفیٰ قرار دیا

جز ان کے اور کوئی ذکر ہم نہیں کرتے

کریم ایسے کہ انعام کرتے جاتے ہیں

جواد ایسے کہ نعمت کو کم نہیں کرتے

جو ان کے جادۂ رحمت سے منحرف ہو جائیں

زمانے ان کو کبھی محترم نہیں کرتے

میسر آتی ہے جن کو درود کی توفیق

کسی بھی حال میں ہوں کوئی غم نہیں کرتے

نظر میں طائف و مکہ رہیں تو ان کے غلام

جواب میں بھی ستم کے ستم نہیں کرتے

Leave a Reply