لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں

شاعر کا تعارف: بہادر شاہ ظفر
ابو المظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (1775ء – 1862ء) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ وہ ایک رحم دل انسان، صوفی منش بزرگ اور اردو کے مایہ ناز شاعر تھے۔ ان کا دورِ حکومت سیاسی طور پر انتہائی کمزور تھا، لیکن ادبی لحاظ سے ان کا دربار ذوق اور غالب جیسے اساتذہ کا مسکن تھا۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں نے انہیں رنگون (برما) جلاوطن کر دیا، جہاں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور قنوطیت پائی جاتی ہے، وہ ان کے ذاتی دکھوں اور سلطنت کے زوال کا عکس ہے۔ “ظفر” ان کا تخلص تھا۔
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں
یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں
بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں