سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں منیر نیازی کی یہ غزل ان کے مخصوص لب و لہجے، خوف، حیرت اور ماضی کی بازگشت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح اور معانی درج ذیل ہیں۔ شعر نمبر 1 سن بستیوں کا

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں کر یاد ان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں صرصر کی زد میں آئے ہوئے بام و در

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم  حسرت موہانی کی خوبصورت غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم۔ حسرت موہانی اردو شاعری میں “رئیس المتغزلین” کے لقب سے جانے جاتے ہیں، جن کی شاعری میں عشق کی پاکیزگی اور سیاست کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔ شعر نمبر 1 اپنا سا شوق

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں شعر نمبر 1 سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں مشکل الفاظ کے معانی: سودا: جنون، عشق کی دیوانگی (سر کی کیفیت)۔ تمنا: خواہش، آرزو (دل کی کیفیت)۔ ترکِ محبت: محبت چھوڑ دینا،

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں لیکن اِس ترکِ محبّت کا بھروسہ بھی نہیں بُھول جاتے ہیں کسی کو مگر ایسا بھی نہیں یاد کرتے ہیں کسی کو، مگر اِتنا بھی نہیں تم نے پُوچھا بھی نہیں، میں نے

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں شعر نمبر 1 دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں مشکل الفاظ کے معنی: دائم: ہمیشہ، مسلسل۔ در: دروازہ، چوکھٹ۔ خاک ایسی زندگی پہ: ایسی زندگی پر لعنت یا افسوس۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح جہاں پہ حرف

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا شعر نمبر 1: دوست غم خواری میں میری سعئی فرمائیں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا مشکل الفاظ کے معانی: غم خواری: ہمدردی کرنا، دکھ بانٹنا۔ سعئی: کوشش، مدد۔ بھرنے تلک: مندمل ہونے تک، ٹھیک ہونے تک۔ مفہوم: میرے دوست

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا شعر نمبر 1 تجاہل، تغافل، تساہل کیا ہوا کام مشکل، توکل کیا مشکل الفاظ کے معانی: تجاہل: جان بوجھ کر انجان بننا، دانستہ بے خبری۔ تغافل: غفلت برتنا، لاپرواہی، بے التفاتی۔ تساہل: سستی کرنا، دیر کرنا، غفلت کرنا۔ توکل: اللہ پر بھروسہ کرنا، معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ مفہوم:

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ