خطاب بہ جوانان اسلام

خطاب بہ جوانان اسلام

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

علامہ اقبال کی یہ نظم ان کے مجموعہ کلام ’بانگِ درا‘ سے ماخوذ ہے، جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر حال کی پستی سے نکلنے کا درس دیا ہے۔

شعر نمبر 1

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

مشکل الفاظ کے معانی:

تدبر: غور و فکر کرنا، سوچنا۔

گردوں: آسمان۔

ٹوٹا ہوا تارا: زوال یافتہ، اپنے اصل سے بچھڑا ہوا۔

مفہوم:

اے مسلمان نوجوان! کیا تو نے کبھی اس حقیقت پر غور کیا ہے کہ تیرا ماضی کتنا بلند تھا؟ تو اس آسمان کا حصہ تھا جس سے ٹوٹ کر اب تو زمین پر بے وقعت پڑا ہے۔

تشریح:

علامہ اقبال اس شعر میں مسلمان نوجوانوں کو خود شناسی کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج کا مسلمان نوجوان اپنی اصل حقیقت اور اپنے اسلاف کی عظمت کو بھول چکا ہے۔ اقبال نے یہاں “گردوں” (آسمان) سے مراد مسلمانوں کا وہ شاندار ماضی لیا ہے جہاں وہ علم، حکمت اور طاقت کے عروج پر تھے۔ مسلمان قوم ایک وقت میں دنیا کی رہنمائی کر رہی تھی اور ستارہ بن کر چمک رہی تھی۔ لیکن آج کا نوجوان اس آسمان سے ٹوٹے ہوئے تارے کی مانند ہے جو اپنی چمک اور مقام کھو چکا ہے۔ جب کوئی تارا آسمان سے ٹوٹتا ہے تو وہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے اور اندھیروں میں غائب ہو جاتا ہے۔ اقبال نوجوانوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا تم نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچا کہ تمہارے آباؤ اجداد کون تھے؟ تمہارا تعلق کس عظیم تہذیب سے تھا؟ تم محض ایک عام انسان نہیں بلکہ اس عظیم قوم کے وارث ہو جس نے دنیا کو جینے کا ڈھنگ سکھایا۔ یہ شعر دراصل ایک تازیانہ ہے جو سوئی ہوئی غیرت کو جگانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنی موجودہ پست حالت پر ماتم کرنے کے بجائے اس بلندی کو یاد کریں جہاں ان کے بزرگ فائز تھے۔ جب تک انسان اپنی اصل کو نہیں پہچانتا، وہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان اپنے ماضی کے آئینے میں اپنا حال سنوارنے کی کوشش کریں۔

بقولِ شاعر:

تجھے آبا سے اپنے کوئي نسبت ہو نہيں سکتي

کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سےارا

شعر نمبر 2

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت ميں

کچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاجِ سرِ دارا

مشکل الفاظ کے معانی:

آغوشِ محبت: محبت کی گود۔

تاجِ سرِ دارا: ایران کے عظیم بادشاہ دارا کا تاج (مراد عظیم سلطنتیں)۔

مفہوم:

تیری پرورش اس بہادر قوم کی گود میں ہوئی ہے جس کی ٹھوکروں میں بڑے بڑے بادشاہوں کے تاج تھے اور جنہوں نے قیصر و کسریٰ کی شان و شوکت کو خاک میں ملا دیا تھا۔

تشریح:

اس شعر میں اقبال مسلمانوں کی عسکری اور سیاسی طاقت کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ نوجوان کو یاد دلاتے ہیں کہ تم اس نسل سے ہو جس نے دنیا کی بڑی بڑی سپر پاورز کو شکست دی۔ “دارا” ایران کا ایک بہت بڑا اور طاقتور بادشاہ تھا، جس کا تاج اس کی عظمت کی علامت تھا۔ لیکن جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو مسلمانوں نے اپنی ایمانی قوت سے اس جاہ و جلال کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ اقبال کہتے ہیں کہ تمہاری پرورش کسی بزدل یا غلام قوم کے سائے میں نہیں ہوئی، بلکہ تم ان غازیوں اور شہیدوں کی اولاد ہو جنہوں نے اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنے کے لیے قیصر و کسریٰ کے تکبر کو مٹا دیا۔ تمہاری قوم نے تمہیں وہ غیرت اور ہمت ورثے میں دی ہے جو کسی مادی طاقت سے نہیں ڈرتی تھی۔ آج کا مسلمان نوجوان اگر احساسِ کمتری کا شکار ہے تو یہ اس کی اپنی نادانی ہے، ورنہ اس کے خون میں تو ان فاتحین کی حرارت موجود ہونی چاہیے جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا۔ اقبال یہاں تاریخ کے حوالے سے نوجوانوں کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ مادی وسائل کی کمی کبھی بھی مسلمانوں کی ترقی میں رکاوٹ نہیں رہی، بلکہ ان کی اصل طاقت ان کا ایمان اور بلند کردار تھا۔ اگر آج بھی مسلمان اپنے اسی جذبے کو بیدار کر لیں تو وہ دوبارہ دنیا کی امامت کر سکتے ہیں۔

بقولِ شاعر:

غرض ميں کيا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشيں کيا تھے

جہاں گير و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا

شعر نمبر 3

تمدن آفريں خلاقِ آئينِ جہاں داري

وہ صحرائے عرب يعني شتربانوں کا گہوارا

مشکل الفاظ کے معانی:

تمدن آفریں: تہذیب پیدا کرنے والے۔

خلاق: پیدا کرنے والا، خالق۔

آئینِ جہاں داری: دنیا پر حکومت کرنے کے اصول۔

شتر بان: اونٹ چرانے والے۔

مفہوم:

وہ عرب کے صحرا نشین جو بظاہر اونٹ چرانے والے تھے، انہوں نے ہی دنیا کو تہذیب سکھائی اور ملک چلانے کے عظیم قوانین عطا کیے۔

تشریح:

اقبال اس شعر میں اسلام کے ابتدائی دور کے عربوں کی عظمت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو دنیا “شتربان” (اونٹ چرانے والے) کہہ کر حقیر سمجھتی تھی، جب ان کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ اور ایمان کی شمع روشن ہوئی تو وہی ریگستان کے رہنے والے دنیا کے معلم بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف ملک فتح کیے بلکہ “آئینِ جہاں داری” یعنی حکمرانی کے وہ اصول وضع کیے جن کی مثال آج بھی دنیا پیش کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جس میں عدل، انصاف اور مساوات تھی۔ عرب کا وہ صحرا جو کبھی جہالت کا گہوارہ تھا، اسلام کی بدولت علم و حکمت کا مرکز بن گیا۔ اقبال یہاں یہ نکتہ واضح کر رہے ہیں کہ اسلام انسان کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ ایک عام چرواہا جب قرآن کے سائے میں آتا ہے تو وہ عمر فاروق ؓ بن کر آدھی دنیا پر عدل کا نظام قائم کر دیتا ہے۔ یہ تمدن کی وہ تخلیق تھی جس نے یونان اور روم کی پرانی اور فرسودہ تہذیبوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اقبال نوجوانوں کو بتاتے ہیں کہ تمہارے اسلاف نے صحراؤں سے نکل کر پوری کائنات کو ایک نیا دستورِ حیات دیا، تو تم کیوں آج دوسروں کے دستور اور قوانین کے محتاج بنے بیٹھے ہو؟

بقولِ شاعر:

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

شعر نمبر 4

سماں ‘الفقر فخري’ کا رہا شانِ امارت ميں

”بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زيبا را”

مشکل الفاظ کے معانی:

الفقر فخری: میرا فقر میرا فخر ہے (حدیثِ نبوی ﷺ)۔

شانِ امارت: حکمرانی کی شان و شوکت۔

بآب و رنگ…: خوبصورت چہرے کو بناؤ سنگھار کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مفہوم:

مسلمانوں نے بادشاہی میں بھی فقیری کا دامن نہ چھوڑا، ان کی سادگی ہی ان کا حسن تھی، جیسے کسی قدرتی حسین چہرے کو مصنوعی میک اپ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

تشریح:

اس شعر میں اقبال مسلمانوں کے انوکھے طرزِ حکمرانی کو بیان کر رہے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی کے پاس اقتدار آتا ہے تو وہ عیش و عشرت میں ڈوب جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ تختِ شاہی پر بیٹھ کر بھی “الفقر فخری” کی تصویر بنے رہتے تھے۔ ان کی زندگیوں میں حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت علی ؓ جیسی سادگی تھی۔ وہ دنیا کے فاتح تھے لیکن ان کے لباس پر پیوند ہوتے تھے۔ اقبال فارسی کا ایک مصرعہ بطورِ تضمین استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس چہرے میں قدرتی حسن ہو، اسے غازے، پوڈر یا بناؤ سنگھار کی حاجت نہیں ہوتی۔ اسی طرح مسلمانوں کا کردار اتنا بلند اور شفاف تھا کہ انہیں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے قیمتی محلوں یا زرق برق لباسوں کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کی سادگی ہی ان کی اصل طاقت تھی جس سے بڑے بڑے جابر حکمران تھر تھر کانپتے تھے۔ وہ دلوں کے فاتح تھے، اور دلوں کو فتح کرنے کے لیے مادی چمک دمک نہیں بلکہ روحانی پاکیزگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقبال آج کے نوجوان کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم مادی اشیاء اور مغرب کی ظاہری چمک کے پیچھے مت بھاگو، بلکہ اپنے اندر وہی ایمانی فقر پیدا کرو جو تمہارے اسلاف کا شیوہ تھا، کیونکہ اصل خوبصورتی اور وقار کردار کی بلندی میں چھپا ہوتا ہے۔

بقولِ شاعر:

گدائي ميں بھي وہ اللہ والے تھے غيور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا يارا

شعر نمبر 5

گدائي ميں بھي وہ اللہ والے تھے غيور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا يارا

مشکل الفاظ کے معانی:

گدائی: فقیری، درویشی۔

غیور: غیرت مند۔

منعم: مالدار، دولت مند۔

یارا: ہمت، طاقت۔

مفہوم:

ہمارے اسلاف فقیری میں بھی اتنے غیرت مند تھے کہ کسی مالدار کو یہ ہمت نہ ہوتی تھی کہ وہ انہیں خیرات دے کر ان کی توہین کر سکے۔

تشریح:

اقبال اس شعر میں اسلاف کی “خودداری” اور “غیرت” کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ والے بظاہر دنیاوی مال و متاع سے خالی ہوتے تھے، لیکن ان کی غیرت کا یہ عالم تھا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے۔ ان کے چہروں پر وہ جلال اور وقار ہوتا تھا کہ ایک بہت بڑا دولت مند شخص بھی ان کے سامنے آتے ہوئے ڈرتا تھا کہ کہیں میری بخشش یا خیرات ان کی توہین نہ سمجھی جائے۔ وہ “گدا” (فقیر) کہلاتے تھے لیکن ان کی فقیری میں شاہانہ استغنا تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی ضرورت کے لیے اپنی انا کا سودا نہیں کیا۔ اقبال اس کے ذریعے دورِ حاضر کے مسلمانوں کو یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ آج ہم دوسروں کے آگے قرضوں اور امداد کے لیے ہاتھ پھیلا کر اپنی غیرت کھو چکے ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے فاقوں میں رہنا پسند کیا لیکن کسی انسان کے سامنے جھکنا گوارا نہیں کیا۔ یہ غیرت ہی وہ صفت ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں “بندہِ مومن” بناتی ہے۔ اگر مسلمان دوبارہ وہ غیرت پیدا کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں خرید نہیں سکتی۔ ان کی فقیری دراصل ان کی روحانی دولت کا ثمر تھی جس نے انہیں ہر قسم کے لالچ سے بے نیاز کر دیا تھا۔

بقولِ شاعر:

سماں ‘الفقر فخري’ کا رہا شان امارت ميں

”بآب و رنگ و خال و خط چہ حاجت روے زيبا را”

شعر نمبر 6

غرض ميں کيا کہوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشيں کيا تھے

جہاں گير و جہاں دار و جہاں بان و جہاں آرا

مشکل الفاظ کے معانی:

جہاں گیر: دنیا کو فتح کرنے والے۔

جہاں دار: دنیا پر حکومت کرنے والے۔

جہاں بان: دنیا کی حفاظت کرنے والے۔

جہاں آرا: دنیا کو سنوارنے والے۔

مفہوم:

میں ان صحرا نشینوں کی کیا تعریف بیان کروں؟ وہ بیک وقت فاتح بھی تھے، حکمران بھی تھے، انسانیت کے محافظ بھی تھے اور اس کائنات کی رونق بھی تھے۔

تشریح:

اقبال اس شعر میں مسلمانوں کی جامع صفات کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان عرب کے بدوؤں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی شخصیت میں کمال کے اوصاف پیدا ہو گئے۔ وہ صرف جنگجو نہیں تھے کہ علاقے فتح کرتے پھریں، بلکہ وہ “جہاں گیر” ہونے کے ساتھ ساتھ “جہاں دار” بھی تھے یعنی بہترین منتظم تھے۔ وہ جہاں گئے وہاں انہوں نے امن و امان قائم کیا، اس لیے وہ “جہاں بان” یعنی دنیا کے محافظ کہلائے۔ ان کی حکومت میں ہر مذہب اور ہر نسل کے لوگ محفوظ تھے۔ مزید یہ کہ وہ “جہاں آرا” بھی تھے، یعنی انہوں نے علم و فن، تعمیرات اور اخلاق کے ذریعے دنیا کو خوبصورت بنایا۔ اقبال یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا عروج صرف تلوار کے زور پر نہیں تھا بلکہ ان کے پاس زندگی کے ہر شعبے کے لیے بہترین بصیرت موجود تھی۔ انہوں نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسانوں کو دیوتاؤں کے خوف سے نکال کر ایک خدا کا بندہ بنایا۔ آج کا نوجوان اگر اپنے ان بزرگوں کی تاریخ پڑھے تو اسے معلوم ہوگا کہ دنیا کو سنوارنے کا ٹھیکہ کسی ایک خطے کا نہیں تھا بلکہ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے تاریک دنیا کو روشنی عطا کی تھی۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف تھا۔

بقولِ شاعر:

تمدن آفريں خلاق آئين جہاں داري

وہ صحرائے عرب يعني شتربانوں کا گہوارا

شعر نمبر 7

اگر چاہوں تو نقشہ کھينچ کر الفاظ ميں رکھ دوں

مگر تيرے تخيل سے فزوں تر ہے وہ نظارا

مشکل الفاظ کے معانی:

نقشہ کھینچنا: منظر کشی کرنا۔

تخیل: سوچ، تصور۔

فزوں تر: بہت زیادہ، بلند۔

مفہوم:

اگر میں چاہوں تو اپنے الفاظ کے ذریعے ان کی عظمت کی تصویر دکھا سکتا ہوں، لیکن ان کا مقام اتنا بلند ہے کہ تیری سوچ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔

تشریح:

اس شعر میں اقبال اپنی شاعری کی طاقت اور مخاطب (مسلم نوجوان) کی ذہنی پستی کا تقابل کر رہے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایک شاعر کی حیثیت سے مجھ میں یہ صلاحیت ہے کہ میں اپنے اسلاف کے کارناموں اور ان کی روحانی بلندیوں کو الفاظ کے قالب میں ڈھال دوں اور ایک ایسی تصویر کھینچوں کہ تمہاری آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کا مسلمان نوجوان اس قدر مادہ پرستی اور ذہنی غلامی میں غرق ہو چکا ہے کہ وہ اس عظیم نظارے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ تمہارا “تخیل” (تصور) اس قدر پست ہو چکا ہے کہ تمہارے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی قوم اتنی عظیم بھی ہو سکتی ہے۔ تم نے تو صرف محکومی اور خواری دیکھی ہے، تم شاہین کی پرواز کو کیا سمجھو گے؟ اقبال کا اشارہ اس طرف ہے کہ جب تک ذہن آزاد نہ ہو اور فکر بلند نہ ہو، تب تک تاریخ کے سنہرے ابواب بھی محض کہانیاں لگتے ہیں۔ وہ نوجوان کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اپنی سوچ کے دائرے کو وسیع کرو اور غلامی کی زنجیریں توڑو تاکہ تمہیں اس حقیقت کا ادراک ہو سکے کہ تم کس عظیم ورثے کے وارث ہو۔ تمہاری محدود سوچ ان کی لا محدود عظمت کو پانے سے قاصر ہے۔

بقولِ شاعر:

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

شعر نمبر 8

تجھے آبا سے اپنے کوئي نسبت ہو نہيں سکتي

کہ تو گفتار وہ کردار ، تو ثابت وہ سےارا

مشکل الفاظ کے معانی:

آبا: باپ دادا، اسلاف۔

نسبت: تعلق، مشابہت۔

گفتار: صرف باتیں کرنے والا۔

کردار: عمل کرنے والا۔

ثابت: رکا ہوا، ساکن۔

سیارہ: حرکت کرنے والا، متحرک۔

مفہوم:

تیرا اپنے بزرگوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ تو صرف باتیں بناتا ہے اور وہ عمل کے دھنی تھے؛ تو ایک جگہ رکا ہوا ہے اور وہ مسلسل حرکت میں رہنے والے تھے۔

تشریح:

اقبال اس شعر میں حال کے مسلمان اور ماضی کے مسلمان کا موازنہ کرتے ہوئے ایک کڑوی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محض یہ کہہ دینا کہ “میرے باپ دادا بڑے عظیم تھے” تمہیں ان کا وارث نہیں بنا دیتا۔ وراثت خون سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت ہوتی ہے۔ آج کے مسلمان کی کل کائنات “گفتار” ہے، وہ صرف جلسوں اور تقریروں میں اپنے اسلاف کے قصے سناتا ہے لیکن عمل کے میدان میں صفر ہے۔ اس کے برعکس اسلاف “کردار” کے غازی تھے، وہ بولتے کم اور کر کے زیادہ دکھاتے تھے۔ پھر اقبال نے دو کائناتی اصطلاحات استعمال کیں؛ “ثابت” اور “سیارہ”۔ آج کا مسلمان “ثابت” ہے یعنی وہ سستی اور کاہلی کی وجہ سے ایک جگہ رکا ہوا ہے، اس میں آگے بڑھنے کی تڑپ ختم ہو چکی ہے۔ جبکہ اسلاف “سیارہ” کی مانند متحرک تھے، وہ کبھی علم کی تلاش میں تو کبھی حق کی سربلندی کے لیے سفر میں رہتے تھے۔ ایک جگہ رک جانا موت ہے اور حرکت کرتے رہنا زندگی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب تک تم اپنے اسلاف جیسا کردار اور ویسی ہی تڑپ پیدا نہیں کرتے، تب تک تم ان کا نام لینے کے حقدار نہیں ہو۔ یہ شعر نوجوانوں کو عملی زندگی میں آنے اور سستی چھوڑنے کا درس دیتا ہے۔

بقولِ شاعر:

گنوا دي ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائي تھي

ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

شعر نمبر 9

گنوا دي ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائي تھي

ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

مشکل الفاظ کے معانی:

گنوا دی: کھو دی۔

ميراث: ورثہ۔

ثريا: سات ستاروں کا جھرمٹ (مراد بلندی)۔

مفہوم:

ہم نے اپنے بزرگوں سے ملنے والا وہ عظیم علمی اور اخلاقی ورثہ ضائع کر دیا، یہی وجہ ہے کہ ہم بلندیوں سے گر کر پستیوں میں جا گرے ہیں۔

تشریح:

اقبال اس شعر میں مسلمانوں کے زوال کا اصلی سبب بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری بربادی کی وجہ کوئی بیرونی سازش نہیں بلکہ ہماری اپنی نالائقی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ہمیں علم، تقویٰ، بہادری اور خودداری کی جو “ميراث” دی تھی، ہم نے اسے سنبھال کر رکھنے کے بجائے ضائع کر دیا۔ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا، ہم نے تحقیق و جستجو کا راستہ ترک کر دیا اور اخلاقی زوال کا شکار ہو گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قدرت نے ہمیں آسمان کی بلندیوں (ثريا) سے اٹھا کر زمین کی پستیوں میں دے مارا ہے۔ اقبال یہاں قانونِ فطرت بیان کر رہے ہیں کہ جو قوم اپنی اقدار اور ورثے کی حفاظت نہیں کرتی، زمانہ اسے مٹا دیتا ہے۔ “ثريا” بلندی کی علامت ہے اور زمین پستی کی۔ مسلمانوں کا زوال اتنا شدید ہے کہ وہ جو کبھی دنیا کے امام تھے، آج دوسروں کے محتاج ہیں۔ یہ شعر ایک نوحہ بھی ہے اور ایک تنبیہ بھی کہ اگر اب بھی ہوش نہ آیا تو زمین تمہیں مزید پستیوں میں دھکیل دے گی۔ مسلمانوں کی عزت صرف ان کے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے میں ہی پوشیدہ ہے۔

بقولِ شاعر:

حکومت کا تو کيا رونا کہ وہ اک عارضي شے تھي

نہيں دنيا کے آئينِ مسلم سے کوئي چارا

شعر نمبر 10

حکومت کا تو کيا رونا کہ وہ اک عارضي شے تھي

نہيں دنيا کے آئينِ مسلم سے کوئي چارا

مشکل الفاظ کے معانی:

آئینِ مسلم: مسلمہ اصول، طے شدہ قانون۔

چارا: علاج، راستہ۔

مفہوم:

اقتدار اور حکومت کا جانا کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ یہ تو عارضی چیزیں ہیں، دنیا کا یہ اٹل قانون ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔

تشریح:

اقبال اس شعر میں ایک بہت بڑا فلسفہ بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس بات پر ماتم نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی حکومت چھین لی گئی یا وہ اقتدار سے محروم ہو گئے۔ حکومت، تخت و تاج اور سلطنتیں تو عارضی چیزیں ہیں، آج ایک کے پاس ہیں تو کل دوسرے کے پاس ہوں گی۔ یہ “دنیا کا آئین” ہے کہ یہاں عروج و زوال کا چکر چلتا رہتا ہے۔ اصل رونے کی بات حکومت کا جانا نہیں بلکہ اس “علم” اور “کردار” کا جانا ہے جس کی بنیاد پر حکومت ملی تھی۔ اقبال یہاں مسلمانوں کو تسلی بھی دے رہے ہیں اور اصل نقصان کی طرف متوجہ بھی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم دوبارہ وہی کردار پیدا کر لو تو حکومت دوبارہ مل سکتی ہے، کیونکہ اقتدار تو کردار کا غلام ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی قومیں اقتدار سے محروم ہوئیں لیکن انہوں نے اپنی شناخت اور علم کو زندہ رکھا اور دوبارہ عروج حاصل کیا۔ مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف زمین کے ٹکڑے چھن جانے پر رو رہے ہیں، جبکہ ان کا اصل سرمایہ یعنی ان کی تہذیب اور ان کا دین ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔

بقولِ شاعر:

مگر وہ علم کے موتي ، کتابيں اپنے آبا کي

جو ديکھيں ان کو يورپ ميں تو دل ہوتا ہے سيپارا

شعر نمبر 11

مگر وہ علم کے موتي ، کتابيں اپنے آبا کي

جو ديکھيں ان کو يورپ ميں تو دل ہوتا ہے سيپارا

مشکل الفاظ کے معانی:

علم کے موتی: قیمتی علمی ورثہ۔

آبا: بزرگ، اسلاف۔

سیپارہ: ٹکڑے ٹکڑے ہونا، شدید غمگین ہونا۔

مفہوم:

دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی لکھی ہوئی علم کی بیش قیمت کتابیں آج یورپ کی لائبریریوں میں پڑی ہیں، جنہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

تشریح:

یہ شعر اقبال کے دل کا درد بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میں یورپ گیا اور وہاں کی لائبریریوں میں اپنے بزرگوں (جیسے ابنِ سینا، الفارابی، الکندی) کی لکھی ہوئی کتابیں دیکھیں، تو میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ یہ وہ “علم کے موتی” تھے جو ہماری ملکیت تھے، جن سے ہمارے آباؤ اجداد نے دنیا کو روشن کیا تھا۔ لیکن ہم نے ان کی قدر نہیں کی اور آج وہی علم مغرب کی ترقی کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ یورپ نے ہمارے ہی علم سے فائدہ اٹھا کر دنیا پر حکمرانی شروع کر دی اور ہم اپنی ہی کتابوں سے ناواقف ہو گئے۔ اقبال کا اشارہ اندلس (اسپین) اور بغداد کی تباہی کی طرف بھی ہے جہاں سے مسلمانوں کا علمی ذخیرہ لوٹ کر یورپ لے جایا گیا تھا۔ یہ مسلمانوں کے لیے مقامِ عبرت ہے کہ ان کا ورثہ دوسروں کے کام آ رہا ہے اور وہ خود جاہلیت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ اقبال نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اصل طاقت “علم” ہے، اور جب تک تم اپنا کھویا ہوا علمی ورثہ دوبارہ حاصل نہیں کرتے، تم دنیا میں ذلیل و خوار ہوتے رہو گے۔

بقولِ شاعر:

گنوا دي ہم نے جو اسلاف سے ميراث پائي تھي

ثريا سے زميں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

شعر نمبر 12

”غني! روزِ سياہِ پيرِ کنعاں را تماشا کن

کہ نورِ ديدہ اش روشن کند چشمِ زليخا را”

مشکل الفاظ کے معانی:

روزِ سیاہ: برا دن، مصیبت کا دن۔

پیرِ کنعاں: کنعان کا بوڑھا (حضرت یعقوب علیہ السلام)۔

نورِ دیدہ: آنکھ کا نور (حضرت یوسف علیہ السلام)۔

چشمِ زلیخا: زلیخا کی آنکھ۔

مفہوم:

شاعر غنی کاشمیری کے اس مصرعے کا مطلب ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی بے بسی کا عالم دیکھو کہ ان کا بیٹا (یوسف ؑ) ان سے بچھڑ گیا، اور ان کی آنکھوں کا نور کسی اور (زلیخا) کی آنکھوں کی روشنی بن گیا۔

تش

[contact-form][contact-field label=”Name” type=”name” required=”true” /][contact-field label=”Email” type=”email” required=”true” /][contact-field label=”Website” type=”url” /][contact-field label=”Message” type=”textarea” /][/contact-form]

ریح:

اقبال نے اس نظم کا اختتام ایک فارسی شاعر “غنی کاشمیری” کے شعر پر کیا ہے، جو کہ ایک تمثیل (مثال) ہے۔ یہاں حضرت یعقوب علیہ السلام سے مراد “مسلمان قوم” ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے مراد “مسلمانوں کا علمی و اخلاقی ورثہ” ہے۔ جس طرح حضرت یوسف ؑ اپنے والد سے بچھڑ کر مصر چلے گئے اور وہاں زلیخا کی آنکھوں کی روشنی بنے، اسی طرح مسلمانوں کا علم ان سے بچھڑ کر یورپ (زلیخا) چلا گیا اور آج وہ علم یورپ کو ترقی کی روشنیاں دکھا رہا ہے۔ حضرت یعقوب ؑ اپنے بیٹے کے غم میں رو رو کر اندھے ہو گئے، اسی طرح اج کی مسلم امت اپنے زوال پر نوحہ کناں ہے لیکن اس کا اپنا “نور” دوسروں کے گھر روشن کر رہا ہے۔ یہ ایک بہت گہری چوٹ ہے کہ تمہاری چیز تمہارے کام آنے کے بجائے تمہارے دشمنوں کو طاقتور بنا رہی ہے۔ اقبال اس تمثیل کے ذریعے نوجوانوں کو آخری بار جھنجھوڑتے ہیں کہ اپنی اس “یوسفی” (علم و حکمت) کو واپس حاصل کرو، ورنہ تم یونہی اندھیروں میں روتے رہ جاؤ گے اور دنیا تمہارے ہی چراغوں سے اپنی محفلیں سجاتی رہے گی۔

بقولِ شاعر:

مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

Leave a Reply