خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

حفیظ تائب کی یہ نعت اردو نعت گوئی کے جدید دور کا ایک شاہکار ہے۔ ذیل میں آپ کی ہدایت کے مطابق اس کا مکمل علمی و ادبی جائزہ اور تشریح پیش ہے:

شاعر کا تعارف: حفیظ تائب

حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔ آپ عصرِ حاضر میں اردو اور پنجابی نعت گوئی کا ایک نہایت معتبر اور بلند پایہ نام ہیں۔ آپ کو “مجددِ نعت” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے نعت کو روایتی مبالغہ آرائی سے نکال کر قرآن و سنت کے ٹھوس حقائق، علمی وقار اور ادبی چاشنی سے روشناس کرایا۔ آپ کی نعت گوئی میں محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کا درد اور اصلاح کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ آپ کے شعری مجموعوں میں ‘صلو علیہ وآلہ’، ‘سک مترایاں دی’ اور ‘تعبیر’ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو ‘تمغہ امتیاز’ اور ‘صدارتی اقبال ایوارڈ’ سے بھی نوازا۔

حفیظ تائب کے بارے میں مزید تفصیل سے پڑھنے کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں ۔

https://urli.info/1s2xV

شعر نمبر 1

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش نژاد و خوش نہاد و خوش نظر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

خوش خصال: بہترین عادات والا۔

خوش خیال: پاکیزہ سوچ رکھنے والا۔

خوش خبر: اچھی خبر لانے والا (بشیر)۔

خوش نژاد: اعلیٰ نسب والا۔

خوش نہاد: نیک فطرت، بلند سیرت۔

خیرالبشر: تمام انسانوں میں سب سے بہتر (مراد رسول اللہ ﷺ)۔

مفہوم:

اے تمام انسانوں میں سب سے بہتر ہستی! آپ ﷺ بہترین عادات، پاکیزہ خیالات اور خوشخبریاں لانے والے ہیں۔ آپ ﷺ کا نسب سب سے اعلیٰ، آپ ﷺ کی فطرت سب سے نیک اور آپ ﷺ کی نظر سب سے بلند ہے۔

تشریح:

اس مطلع میں حفیظ تائب نے صنعتِ تکرار اور صفاتی القاب کا سہارا لے کر رسول اللہ ﷺ کی ہمہ جہت شخصیت کا احاطہ کیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو حسن و جمال اور کمال کا مرقع ہے۔ آپ ﷺ کی عادات (خصال) ایسی تھیں کہ دشمن بھی آپ کو صادق اور امین پکارتے تھے۔ آپ ﷺ کی سوچ (خیال) انسانیت کی فلاح اور رضائے الٰہی پر مبنی تھی۔ آپ ﷺ ‘خوش خبر’ ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے بھٹکی ہوئی انسانیت کو جنت اور اللہ کی رضا کی خوشخبری سنائی۔

دوسرے مصرعے میں آپ ﷺ کے خاندانی وقار اور ذاتی شرافت کا ذکر ہے۔ ‘خوش نژاد’ کہہ کر آپ ﷺ کے قریشی اور ہاشمی نسب کی پاکیزگی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کی گواہی تاریخ دیتی ہے۔ ‘خوش نہاد’ آپ ﷺ کی اس جبلت اور فطرت کو ظاہر کرتا ہے جو بچپن سے ہی برائیوں سے پاک تھی۔ ‘خوش نظر’ سے مراد آپ ﷺ کی وہ دور اندیشی اور بصیرت ہے جس نے ذروں کو آفتاب بنا دیا۔ گویا آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ مجموعہ کمالات ہے۔

بقولِ شاعر:

اللہ رے حسنِ خلق، کہ دشمن بھی شاد ہے

اک معجزہ ہے آپ کی ہر ہر ادا، نبیﷺ

شعر نمبر 2

دل نواز و دل پذیر و دل نشین و دل کشا

چارہ ساز و چارہ کار و چارہ گر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

دل نواز: دل کو سکون دینے والا، مہر و محبت کرنے والا۔

دل پذیر: دل کو پسند آنے والا۔

دل نشین: دل میں گھر کر جانے والا۔

دل کشا: دل کو کھولنے والا، مسرت بخش۔

چارہ ساز / چارہ گر: علاج کرنے والا، مشکل کشا، مددگار۔

مفہوم:

آپ ﷺ کی ذات دلوں کو تسکین دینے والی اور پسندیدہ ہے۔ آپ ﷺ ہی انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے والے اور بگڑے ہوئے کام بنانے والے ہیں۔

تشریح:

حفیظ تائب اس شعر میں حضور ﷺ کی رحیمانہ صفات کا ذکر کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ کی گفتگو اور اخلاق ایسا تھا کہ جو ایک بار مل لیتا، آپ ﷺ کا گرویدہ ہو جاتا۔ ‘دل نواز’ اور ‘دل پذیر’ کے الفاظ اس سحر انگیزی کو بیان کرتے ہیں جو آپ ﷺ کی شخصیت میں موجود تھی۔ آپ ﷺ نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا اور مایوس روحوں کو جینے کا حوصلہ دیا۔

مصرعِ ثانی میں آپ ﷺ کو ‘چارہ گر’ کہا گیا ہے۔ جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی اور انسانیت دم توڑ رہی تھی، تب آپ ﷺ نے ایک مسیحا بن کر معاشرے کے ناسوروں کا علاج کیا۔ آپ ﷺ نے رنگ، نسل اور طبقے کی تمیز ختم کر کے انسان کو انسان کا بھائی بنایا۔ چارہ سازی سے مراد صرف جسمانی علاج نہیں بلکہ روحانی اور سماجی اصلاح بھی ہے۔ آپ ﷺ نے زندگی گزارنے کا وہ ڈھنگ سکھایا جس سے دنیا اور آخرت دونوں سنور سکیں۔ آج بھی اگر انسانیت تڑپ رہی ہے تو اس کا واحد علاج آپ ﷺ کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔

بقولِ شاعر:

وہ دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

شعر نمبر 3

سر بہ سر مہر و مروت، سر بہ سر صدق و صفا

سر بہ سر لطف و عنایت، سر بہ سر خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

سر بہ سر: مکمل طور پر، سر سے پاؤں تک۔

مہر و مروت: محبت اور لحاظ/مروت۔

صدق و صفا: سچائی اور پاکیزگی۔

لطف و عنایت: مہربانی اور کرم۔

مفہوم:

آپ ﷺ کی پوری ذات سراپا محبت، لحاظ، سچائی اور پاکیزگی ہے۔ آپ ﷺ اول سے آخر تک سراسر اللہ کا فضل اور مہربانی ہیں۔

تشریح:

اس شعر میں ‘سر بہ سر’ کی تکرار نے ایک خاص وجدانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شخصیت کا کوئی ایک پہلو نہیں بلکہ وجودِ مبارک کا ہر ذرہ مہر و مروت کا پیکر ہے۔ مروت کا یہ عالم تھا کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہ موڑا اور کبھی اپنے دشمن سے ذاتی انتقام نہ لیا۔ ‘صدق و صفا’ آپ ﷺ کی وہ صفات ہیں جو نبوت سے پہلے بھی مکہ میں ضرب المثل تھیں۔

دوسرے مصرعے میں آپ ﷺ کو ‘لطف و عنایت’ کا مجسمہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے “وما ارسلنٰک الا رحمۃ للعالمین”۔ یعنی آپ ﷺ کی بعثت ہی اللہ کی طرف سے کائنات پر ایک بہت بڑا احسان ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ مخلوقِ خدا پر شفقت کرتے ہوئے گزرا۔ حفیظ تائب بڑے خوبصورت انداز میں یہ واضح کر رہے ہیں کہ خیرالبشر ﷺ کی ذات میں کسی قسم کی کوئی کمی یا نقص نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی ہر ادا رحمت ہی رحمت ہے۔

بقولِ شاعر:

تیری ذات ہے سر تا پا مہر و مروت

تیر اخلاق ہے عالم میں وجہِ شہرت

شعر نمبر 4

صاحبِ خلقِ عظیم و صاحبِ لطفِ عمیم

صاحبِ حق، صاحبِ شق القمر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

خلقِ عظیم: بلند ترین اخلاق (قرآنی اصطلاح)۔

لطفِ عمیم: عام اور بے پناہ مہربانی۔

صاحبِ حق: سچائی کے مالک، اللہ کے سچے رسول۔

شق القمر: چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا معجزہ۔

مفہوم:

آپ ﷺ بلند ترین اخلاق اور عام مہربانی کے مالک ہیں۔ آپ ﷺ حق لے کر آئے اور چاند کو دو ٹکڑے کر دینے والے معجزے کے حامل ہیں۔

تشریح:

حفیظ تائب اس شعر میں قرآنی گواہی اور معجزاتِ نبوی ﷺ کو یکجا کر رہے ہیں۔ ‘خلقِ عظیم’ کی اصطلاح سورہ القلم سے لی گئی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ خود آپ ﷺ کے اخلاق کی بلندی کی قسم کھاتا ہے۔ آپ ﷺ کا اخلاق وہ تھا کہ آپ ﷺ نے کوڑا پھینکنے والی بڑھیا کی عیادت کی اور طائف کے بازاروں میں لہولہان ہو کر بھی بددعا نہ دی۔ ‘لطفِ عمیم’ سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رحمت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ جانوروں، درختوں اور کافروں کے لیے بھی عام تھی۔

مصرعِ ثانی میں آپ ﷺ کی حقانیت اور معجزاتی طاقت کا ذکر ہے۔ ‘شق القمر’ ایک ایسا تاریخی معجزہ ہے جس نے کفارِ مکہ پر آپ ﷺ کی نبوت ثابت کر دی۔ مگر شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ معجزات سے زیادہ آپ ﷺ کی سیرت اور اخلاق کو اجاگر کرتے ہیں۔ آپ ﷺ صاحبِ حق ہیں، یعنی آپ ﷺ جو دین لے کر آئے وہ اٹل حقیقت ہے اور قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

بقولِ شاعر:

ہو تذکرہ معجزات کا یا کہ ذکر ہو اخلاق کا

ہر رنگ میں اے میرے نبیﷺ، تصویرِ کمال ہو تم

شعر نمبر 5

کارزارِ دہر میں وجہِ ظفر، وجہِ سکوں

عرصۂ محشر میں وجہِ درگزر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

کارزارِ دہر: دنیا کی جنگ گاہ، زندگی کی جدوجہد۔

وجہِ ظفر: کامیابی کا سبب۔

عرصۂ محشر: قیامت کا میدان۔

وجہِ درگزر: معافی کا ذریعہ، شفاعت کا سبب۔

مفہوم:

اس دنیا کی مشکلات اور معرکوں میں کامیابی اور دل کا سکون آپ ﷺ کی اتباع میں ہے، اور قیامت کے دن اللہ کی بخشش کا ذریعہ بھی آپ ﷺ کی ذات ہے۔

تشریح:

یہ شعر دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں حضور ﷺ کی مرکزیت کو بیان کرتا ہے۔ ‘کارزارِ دہر’ یعنی زندگی کے ہنگامے اور مشکلات۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر مسلمان آج دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ آپ ﷺ کے اسوہ سے دوری ہے۔ اگر ہمیں فتح (ظفر) اور قلبی اطمینان (سکون) چاہیے تو ہمیں سیرتِ طیبہ کی پناہ لینا ہوگی۔ آپ ﷺ کی زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے جو ہمیں سکھاتی ہے کہ باطل کے سامنے کیسے ڈٹ جانا ہے۔

دوسرے مصرعے کا تعلق آخرت سے ہے۔ قیامت وہ ہولناک دن ہوگا جہاں ہر نفس ‘نفسی نفسی’ کر رہا ہوگا، وہاں صرف آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ‘امتی امتی’ کی پکار کرے گی۔ آپ ﷺ کی شفاعت ہی گناہگاروں کے لیے ‘وجہِ درگزر’ بنے گی۔ حفیظ تائب یہاں عقیدہ شفاعت کو بڑے ادبی پیرائے میں بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ ہی وہ وسیلہ ہیں جن کے طفیل اللہ تعالیٰ بندوں کی لغزشوں سے درگزر فرمائے گا۔

بقولِ شاعر:

وہ جس کے لیے محشر میں کھلی ہیں زلفیں

وہ جس کے لیے دنیا میں بچھا ہے مصلّٰی

شعر نمبر 6

رونما کب ہوگا راہِ زیست پر منزل کا چاند

ختم کب ہوگا اندھیروں کا سفر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

رونما: ظاہر ہونا۔

راہِ زیست: زندگی کا راستہ۔

منزل کا چاند: مراد کامیابی یا مقصد کا حصول۔

اندھیروں کا سفر: جہالت، گمراہی اور پریشانی کا دور۔

مفہوم:

اے اللہ کے رسول ﷺ! ہماری زندگی کے راستے پر کامیابی کا چاند کب چمکے گا؟ ہماری زندگیوں سے یہ جہالت اور پریشانیوں کے اندھیرے کب ختم ہوں گے؟

تشریح:

اس شعر میں حفیظ تائب ایک نعت خواں سے بڑھ کر ایک دردمند مفکر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ موجودہ دور کے انسان اور بالخصوص مسلمان کی بے چینی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ‘اندھیروں کا سفر’ استعارہ ہے اس گمراہی، بے راہ روی اور ظلم و ستم کا جس میں آج کی انسانیت گھری ہوئی ہے۔ ہم منزل سے بھٹک چکے ہیں اور ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔

شاعر حضور ﷺ سے فریاد کر رہے ہیں کہ اب آپ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی ہی ہمیں اس بن باس سے نکال سکتی ہے۔ ‘منزل کا چاند’ اس امن اور خوشحالی کی علامت ہے جو صرف نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ سے ممکن ہے۔ یہ شعر مایوسی کا اظہار نہیں بلکہ ایک تمنا اور دعا ہے کہ اے خیرالبشر ﷺ! آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کا سورج دوبارہ کب طلوع ہوگا جو ہماری زندگیوں سے ان کالی راتوں کا خاتمہ کر دے؟ یہ پکار دراصل امت کے اجتماعی شعور کی آواز ہے۔

بقولِ شاعر:

کب تڑپ ختم ہوگی، کب سکوں ملے گا

ہم اندھیروں میں ہیں، روشنی دکھائیے

شعر نمبر 7

کب ملے گا ملتِ بیضا کو پھر اوجِ کمال

کب شبِ حالات کی ہوگی سحر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

ملتِ بیضا: روشن امت (مراد امتِ مسلمہ)۔

اوجِ کمال: بلندی کی انتہا، عروج۔

شبِ حالات: حالات کی تاریک رات (مراد موجودہ برا دور)۔

سحر: صبح۔

مفہوم:

اے نبیِ کریم ﷺ! امتِ مسلمہ کو اپنا کھویا ہوا عروج دوبارہ کب حاصل ہوگا؟ ان دگرگوں حالات کی سیاہ رات کی صبح کب ہوگی؟

تشریح:

حفیظ تائب نے اس شعر کو امتِ مسلمہ کے سیاسی و سماجی زوال کے پس منظر میں لکھا ہے۔ ‘ملتِ بیضا’ وہ روشن قوم تھی جس نے دنیا کو تہذیب اور علم سکھایا، مگر آج وہی امت پستی کا شکار ہے۔ شاعر بڑے تڑپ کر پوچھتے ہیں کہ وہ ‘اوجِ کمال’ یعنی وہ عظمتِ رفتہ دوبارہ کب نصیب ہوگی؟ کیا ہم ہمیشہ اسی طرح مغلوب اور پریشان حال رہیں گے؟

‘شبِ حالات’ سے مراد وہ تمام تر سیاسی، معاشی اور نظریاتی بحران ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو جکڑ رکھا ہے۔ شاعر کی نظر میں ان تمام مسائل کا حل حضور ﷺ کی ذات کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔ وہ اس ‘سحر’ یعنی اس انقلاب کے منتظر ہیں جو امت کو دوبارہ سے دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز کر دے۔ یہ شعر محض فریاد نہیں بلکہ مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے کہ اپنی صبحِ نو کے لیے انہیں دوبارہ سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی کی ضرورت ہے۔

بقولِ شاعر:

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسمِ محمدﷺ سے اجالا کر دے

شعر نمبر 8

در پہ پہنچے کس طرح وہ بےنوا، بے بال و پر

اک نظر تائب کے حالِ زار پر، خیرالبشرﷺ

مشکل الفاظ کے معانی:

بےنوا: جس کے پاس آواز نہ ہو، بے سہارا، غریب۔

بے بال و پر: جس کے پر نہ ہوں، بے بس، مجبور۔

حالِ زار: پریشان حال، بری حالت۔

تائب: شاعر کا تخلص (توبہ کرنے والا)۔

مفہوم:

اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ جیسا بے بس اور بے سہارا انسان آپ ﷺ کے درِ اقدس تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ آپ ﷺ اپنے اس گناہگار اور پریشان حال تائب پر ایک نظرِ کرم فرما دیجیے۔

تشریح:

نعت کے مقطع میں شاعر اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کر رہے ہیں۔ حفیظ تائب اپنے لیے ‘بےنوا’ اور ‘بے بال و پر’ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، جو ان کی انتہا درجے کی مسکینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ میرے پاس نہ تو اتنے نیک اعمال ہیں اور نہ ہی ایسے وسائل کہ میں مدینہ منورہ کی حاضری دے سکوں۔ میں تو ایک ٹوٹے ہوئے پروں والے پرندے کی مانند ہوں جو اڑنے کی سکت نہیں رکھتا۔

آخری مصرعے میں وہ اپنے تخلص ‘تائب’ کو استعمال کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ اے خیرالبشر ﷺ! اگرچہ میں آپ ﷺ کے در تک نہیں پہنچ سکتا، مگر آپ ﷺ کی رحمت تو ہر جگہ موجود ہے۔ آپ ﷺ کی ایک نظرِ کرم ہی میرے تمام دکھوں کا مداوا کر سکتی ہے اور میری بگڑی بنا سکتی ہے۔ یہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کی تڑپ ہے جو اپنی تمام تر محرومیوں کا علاج صرف اور صرف نگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں دیکھتا ہے۔

بقولِ شاعر:

حاضر ہیں درِ دولت پہ تیرے ادنیٰ سوالی

بھر دے مری جھولی، میں نہیں جانے والا خالی

Leave a Reply