دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

آج کی اس پوسٹ میں ہم حسرت موہانی جن کو رئیس المتغزلین بھی کہتے ہیں ان کی مشہور غزل کی ” دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا” کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کریں گے ۔

اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔ ذیل میں اس غزل کا مکمل تجزیہ، تشریح اور تعارف پیش ہے۔

شاعر کا تعارف: مولانا حسرت موہانی

سید فضل الحسن، تخلص حسرت، اور قصبہ موہان کی نسبت سے موہانی کہلائے۔ آپ 1881ء میں پیدا ہوئے اور 1951ء میں وفات پائی۔ آپ اردو کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں “رئیس المتغزلین” کا خطاب دیا گیا۔ حسرت کی شخصیت دو متضاد دھاروں کا مجموعہ تھی: ایک طرف وہ کٹر انقلابی اور مجاہدِ آزادی تھے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، اور دوسری طرف وہ غزل کے وہ نازک خیال شاعر تھے جنہوں نے مٹتی ہوئی کلاسیکی غزل میں نئی روح پھونکی۔ ان کی شاعری میں پاکیزہ جذبات، سادگی، اور سوز و گداز نمایاں ہے۔ وہ عشقِ مجازی کو عشقِ حقیقی کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ غزل کی تشریح و معانی ۔

حسرت کے حالات زندگی اور شاعری کی فکری و فنی خوبیاں جاننے کے لیے آپ وکی پیڈیا ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔

https://linkmag.net/s/L4TboSfJ

شعر نمبر 1

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

مدعا: مقصد، حاجت، خواہش۔

شیوہ: طریقہ، دستور، عادت۔

اہلِ رضا: وہ لوگ جو اللہ کی مرضی پر خوش رہتے ہیں۔

مفہوم:

دعا مانگتے ہوئے اپنی حاجتوں کا ذکر کرنا مناسب نہیں، کیونکہ جو لوگ اللہ کی رضا پر راضی ہوتے ہیں، وہ اپنی زبان سے مانگنا پسند نہیں کرتے۔

تشریح:

اس شعر میں حسرت موہانی تسلیم و رضا کے اس بلند مقام کا تذکرہ کر رہے ہیں جہاں بندہ اپنی خواہشات کو رب کی مرضی میں فنا کر دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ دعا عبادت کا مغز ہے، لیکن سچی بندگی یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورتوں کی فہرست پیش نہ کرے۔ اہل اللہ کا یہ ماننا ہے کہ اللہ ہماری رگِ جاں سے زیادہ قریب ہے اور وہ ہمارے بن مانگے بھی سب کچھ جانتا ہے۔ جب ہم خود کو اس کے سپرد کر دیتے ہیں، تو پھر زبان سے مانگنا ایک طرح کی بے ادبی معلوم ہوتا ہے۔ حقیقی عاشق اپنے معشوق کی مرضی میں مگن رہتا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اپنی خواہشات کا بوجھ ڈال کر اس کی رضا میں مداخلت کرے۔ یہ فقر و فاقہ اور درویشی کا وہ مرتبہ ہے جہاں انسان کی انا ختم ہو جاتی ہے اور صرف “رضائے الٰہی” باقی رہتی ہے۔ حسرت یہاں صوفیانہ رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں کہ دعا صرف خدا کی یاد کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ مطالبات کے لیے۔

بقول شاعر:

عاشق تو وہی ہے جو رہے راضیِ برضا

جس حال میں بھی رکھے اسے اس کا کبریا

شعر نمبر 2

طلب میری بہت کچھ ہے، مگر کیا

کرم تیرا ہے اک دریا عطا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

طلب: خواہش، مانگ۔

کرم: مہربانی، بخشش۔

عطا: دینا، بخشنا۔

مفہوم:

میری خواہشات تو بہت زیادہ ہیں لیکن ان کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ تیری مہربانی اور بخشش کا دریا بہت وسیع ہے۔

تشریح:

حسرت موہانی انسانی بے مائیگی اور اللہ کی کبریائی کا موازنہ کر رہے ہیں۔ انسان فطرتاً لالچی اور حریص ہے، اس کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اس کی “طلب” کا دامن ہمیشہ پھیلا رہتا ہے۔ لیکن شاعر کو احساس ہے کہ اس کی طلب جتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ کے خزانے اور اس کی سخاوت کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی صفتِ رحیمی و کریمی ایک ایسے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح ہے جس کے سامنے انسانی حاجات ریت کے ذروں کے برابر ہیں۔ اس شعر میں عاجزی کا پہلو نمایاں ہے کہ بندہ اعتراف کر رہا ہے کہ میں اگرچہ گنہگار اور بہت کچھ مانگنے والا ہوں، مگر تیری عطا کا کوئی حساب نہیں۔ تیرا ایک قطرہِ کرم میری تمام حاجتوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ شعر امید اور رجائیت کا درس دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ “وہاب” اور “کریم” ہے۔

بقول شاعر:

وہ کیا کرے گا مرے مانگنے کی لاج کہ جس کے

سخاوتوں کے لیے کائنات چھوٹی ہے

شعر نمبر 3

کہاں تک ناز اٹھائے آخر اے حسن

ہوس تیرے مزاج خود ستا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

ناز اٹھانا: نخرے برداشت کرنا۔

ہوس: لالچ، بے جا خواہش۔

خود ستا: اپنی تعریف آپ کرنے والا، مغرور۔

مفہوم:

اے حسن! تیرا غرور اور اپنی تعریف میں مگن رہنے والا مزاج آخر کب تک دوسروں سے اپنی خدمت یا توجہ کی توقع رکھے گا؟

تشریح:

یہ شعر حسن اور عشق کی نفسیاتی کشمکش کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حسن کو اپنی خوبصورتی پر ناز ہونا فطری ہے، لیکن جب یہ ناز “خود ستائی” یعنی تکبر کی حد تک پہنچ جائے، تو وہ دوسروں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ عشق اگرچہ قربانی کا نام ہے، لیکن حسن کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ عاشق کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہاں “ہوس” کا لفظ منفی معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ حسن کو صرف اپنی واہ واہ کرانے کی ہوس ہوتی ہے۔ شاعر حسن کو آئینہ دکھا رہا ہے کہ تم اپنی ذات میں اتنے گم ہو چکے ہو کہ تمہیں دوسروں کے خلوص کی پرواہ نہیں۔ یہ خود پسندی حسن کے وقار کو کم کر دیتی ہے۔ حسرت کے ہاں یہاں معاملہ بندی کا رنگ بھی جھلکتا ہے جہاں وہ محبوب کے رویے پر چوٹ کر رہے ہیں کہ ہر وقت اپنی تعریف سننا اور غرور میں رہنا کسی طور مناسب نہیں۔

بقول شاعر:

آئینہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے

آج ہم خود پہ فدا ہونے کو جی چاہتا ہے

شعر نمبر 4

نہیں معلوم کیا اے شاہ خوباں

تجھے کچھ حال اپنے مبتلا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

شاہِ خوباں: خوبصورتوں کا بادشاہ (محبوب)۔

مبتلا: گرفتارِ عشق، مصیبت میں پھنسا ہوا۔

مفہوم:

اے تمام حسینوں کے سردار! کیا تجھے اپنے اس عاشق کے حال کی کوئی خبر نہیں جو تیرے عشق میں تڑپ رہا ہے؟

تشریح:

اس شعر میں حسرت موہانی محبوب سے گلہ کر رہے ہیں، جو کہ اردو غزل کی ایک قدیم روایت ہے۔ وہ محبوب کو “شاہِ خوباں” کہہ کر پکارتے ہیں، جس سے اس کی برتری اور شان ظاہر ہوتی ہے۔ شاعر سوالیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بادشاہ کو اپنی رعایا یا اپنے کسی وفادار کے حال کی خبر نہ ہو؟ میں تیرے عشق میں مبتلا ہوں، ہجر کی تکلیفیں سہہ رہا ہوں اور دنیا بھر کی رسوائیوں کا سامنا کر رہا ہوں، کیا تجھے واقعی میری اس حالت کا علم نہیں؟ یہ سوال دراصل ایک التجا ہے کہ محبوب اپنی بے رخی ختم کرے اور عاشق کی طرف توجہ دے۔ اس میں درد اور کسک چھپی ہوئی ہے۔ حسرت نے بڑی سادگی سے اپنی بے بسی کو بیان کیا ہے کہ میرا حالِ زار تو سب پر عیاں ہے، بس ایک تیری توجہ کی دیر ہے۔

بقول شاعر:

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

شعر نمبر 5

بجائے اسم اعظم آپ کا نام

وظیفہ ہے مرا صبح و مسا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

اسمِ اعظم: اللہ کا وہ نام جس کے ذریعے دعا قبول ہوتی ہے۔

وظیفہ: بار بار پڑھا جانے والا ذکر۔

صبح و مسا: صبح اور شام (ہر وقت)۔

مفہوم:

میرے لیے آپ کا نام “اسمِ اعظم” کی طرح ہے، اور میں صبح و شام اسی نام کا ذکر کرتا رہتا ہوں۔

تشریح:

یہ شعر غلوِ محبت کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ لوگ اپنی حاجتوں کے لیے “اسمِ اعظم” تلاش کرتے ہیں، لیکن میرے لیے تو میرے محبوب کا نام ہی سب سے بڑی برکت اور وسیلہ ہے۔ یہاں محبوب سے مراد اللہ کی ذات بھی ہو سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس بھی (چونکہ حسرت نعت گو شاعر بھی تھے)۔ شاعر کے نزدیک محبوب کی یاد میں ڈوب جانا ہی اصل عبادت ہے۔ وہ ہر لمحہ، ہر گھڑی اپنے معشوق کا نام وردِ زبان رکھتا ہے۔ “صبح و مسا” کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ شاعر کی زندگی کا کوئی بھی لمحہ یادِ محبوب سے خالی نہیں۔ یہ وارفتگی اور جنون کی وہ کیفیت ہے جہاں انسان کو دنیا کی کسی اور چیز کی حاجت نہیں رہتی۔ اس کے نزدیک محبوب کا نام ہی اس کی تمام پریشانیوں کا حل اور اس کی روح کی غذا ہے۔

بقول شاعر:

تیرا نام لیتے ہیں ہم صبح و شام

بڑا پیارا نام ہے تیرا اے میرے صنم

شعر نمبر 6

غضب کا سامنا ہے عاشقوں کو

دیار حق میں افواج بلا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

غضب: قہر، بڑی مشکل۔

دیارِ حق: سچائی کی دنیا، اللہ کی راہ۔

افواجِ بلا: مصیبتوں کے لشکر۔

مفہوم:

حق کی راہ پر چلنے والے عاشقوں کو ہر طرف سے مصیبتوں اور بلاؤں کے لشکروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تشریح:

یہ شعر حسرت موہانی کی زندگی کے سیاسی اور انقلابی پہلو کی عکاسی کرتا ہے۔ حسرت نے خود حق کی راہ میں قید و بند کی بے شمار سختیاں جھیلیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو بھی سچائی کا راستہ (دیارِ حق) اختیار کرتا ہے، آزمائشیں اس کا مقدر بن جاتی ہیں۔ “افواجِ بلا” سے مراد وہ تمام مشکلات ہیں جو ظالم معاشرہ اور حالات ایک حق پرست کے سامنے کھڑی کر دیتے ہیں۔ یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کی راہ ہے۔ عشق چاہے وہ مجازی ہو یا حقیقی یا وطن کا عشق، قربانی مانگتا ہے۔ شاعر کے مطابق حق کا مسافر کبھی تنہا نہیں ہوتا، مصیبتیں اسے گھیر لیتی ہیں، لیکن ایک سچا عاشق ان تمام بلاؤں کا مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے۔ یہ شعر ہمت اور استقامت کا پیغام دیتا ہے کہ حق کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

بقول شاعر:

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

راہِ وفا میں جب تک سر جدا نہ ہوا

شعر نمبر 7

نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم

تقاضا تھا یہی خوئے وفا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

نثار ہونا: قربان ہونا۔

خوئے وفا: وفاداری کی عادت/طبیعت۔

مفہوم:

ہم نے محبوب پر قربان ہو کر بہت اچھا کیا، کیونکہ وفاداری کا اصل تقاضا بھی یہی تھا کہ اپنی جان نچھاور کر دی جائے۔

تشریح:

حسرت موہانی اس شعر میں قربانیِ عشق پر اظہارِ اطمینان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عشق میں جان دے دینا یا سب کچھ لٹا دینا کوئی خسارہ نہیں بلکہ یہ ایک اعزاز ہے۔ وفاداری صرف زبانی دعوؤں کا نام نہیں، بلکہ جب وقت آئے تو عملی طور پر خود کو مٹا دینے کا نام ہے۔ شاعر کو اس بات کی خوشی ہے کہ اس نے اپنی وفاداری کو ثابت کر دیا ہے۔ اس نے دنیا کے نفع و نقصان کی فکر نہیں کی بلکہ محبوب کی خوشی کو مقدم رکھا۔ یہاں “اچھے رہے ہم” کے الفاظ میں ایک خاص قسم کا فخر پایا جاتا ہے کہ ہم نے بزدلی نہیں دکھائی بلکہ مقتل میں سرخرو ہوئے۔ یہ شعر اس صوفیانہ فکر کی ترجمانی کرتا ہے کہ فنا میں ہی بقا ہے۔ جب تک عاشق خود کو نہیں مٹاتا، وہ عشق کی معراج تک نہیں پہنچ سکتا۔

بقول شاعر:

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

شعر نمبر 8

گنہ گارو چلو عفو الٰہی

بہت مشتاق ہے عرض خطا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

عفوِ الٰہی: اللہ کی معافی۔

مشتاق: شوق رکھنے والا، انتظار کرنے والا۔

عرضِ خطا: گناہوں کا اعتراف کرنا۔

مفہوم:

اے گنہگارو! اللہ کی بخشش کی طرف آؤ، وہ تمہارے اعترافِ جرم کا شدت سے انتظار کر رہا ہے تاکہ تمہیں معاف کر دے۔

تشریح:

یہ شعر رجائیت اور اللہ کی رحمت کی وسعت کا آئینہ دار ہے۔ شاعر گنہگاروں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی کی طرف بلا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ غفاری اتنی عظیم ہے کہ وہ اپنے بندے کے توبہ کرنے کا انتظار کرتا ہے۔ یہاں “مشتاق” کا لفظ بہت معنی خیز ہے، گویا اللہ تعالیٰ کو یہ ادا بہت پسند ہے کہ اس کا بندہ عاجزی کے ساتھ اپنے گناہوں کا اقرار کرے۔ یہ شعر قرآن کی اس آیت کی ترجمانی کرتا ہے کہ “اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو”۔ حسرت یہاں ایک مصلح اور مبلغ کے روپ میں نظر آتے ہیں جو انسانوں کو اللہ سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک گناہ انسان کو اللہ سے دور نہیں کرتا، بلکہ گناہ کے بعد کی شرمندگی انسان کو اللہ کے اور قریب کر دیتی ہے۔

بقول شاعر:

گرچہ گناہ میرے حد سے بڑھ گئے

لیکن تیری رحمت کا کوئی حساب نہیں

شعر نمبر 9

تری محفل میں اہل دل کو جلوہ

نظر آ جائے گا شان خدا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

اہلِ دل: صاحبِ بصیرت، عشق والے۔

جلوہ: نظارہ، روشنی۔

شانِ خدا: اللہ کی قدرت اور بڑائی۔

مفہوم:

محبوب! تیری محفل میں بیٹھنے والے اہل مروت اور صاحبِ بصیرت لوگوں کو خدا کی قدرت کا نظارہ دکھائی دے جاتا ہے۔

تشریح:

اس شعر میں شاعر نے تصوف کے اس نکتے کو بیان کیا ہے کہ “مجاز” حقیقت کا زینہ ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ محبوب کا حسن محض گوشت پوست کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اللہ کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ جو لوگ “اہلِ دل” ہیں، یعنی جن کی باطنی آنکھ کھلی ہوئی ہے، وہ محبوب کے چہرے میں اللہ کی کاریگری اور اس کے جمال کا عکس دیکھتے ہیں۔ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ اس لیے کسی حسین چہرے یا کسی نیک ہستی کی محفل میں بیٹھ کر انسان کو خدا کی یاد آتی ہے۔ یہ محفلِ محبوب دراصل ایک ایسی جگہ ہے جہاں دنیاداری کے پردے ہٹ جاتے ہیں اور انسان کو خالقِ کائنات کی عظمت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ حسرت نے بڑی خوبصورتی سے انسانی عشق کو خدائی عشق سے جوڑ دیا ہے۔

بقول شاعر:

کثرت میں ہو رہا ہے جلوہ گر وہ وحدت

آئینے میں دیکھا ہے ہم نے عکسِ الٰہی

شعر نمبر 10

اٹھایا ہے مزا دل نے بہت کچھ

محبت کے غم راحت فزا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

راحت فزا: خوشی بڑھانے والا، آرام دہ۔

مفہوم:

میرے دل نے محبت کے اس غم کا بہت لطف اٹھایا ہے جو بظاہر دکھ ہے مگر حقیقت میں سکون اور راحت دینے والا ہے۔

تشریح:

اردو شاعری میں “غمِ عشق” کو ایک نعمت سمجھا جاتا ہے۔ حسرت موہانی کہتے ہیں کہ محبت کا غم وہ واحد دکھ ہے جس میں لذت چھپی ہوئی ہے۔ عام طور پر غم انسان کو توڑ دیتا ہے، لیکن غمِ محبت روح کو جلا بخشتا ہے۔ اسے “راحت فزا” اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں محبوب کی یاد تڑپاتی بھی ہے اور جینے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ عاشق اس تڑپ کو دنیا کی ہزار خوشیوں پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ وہ میٹھا درد ہے جو دل کو بیدار رکھتا ہے۔ حسرت کا دل اس غم کی لذتوں سے آشنا ہے، وہ اسے بوجھ نہیں سمجھتے بلکہ ایک ایسی کیفیت سمجھتے ہیں جو انہیں عام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ عشق کی تکالیف دراصل عاشق کے لیے راحت کا باعث ہوتی ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے وہ اپنے محبوب سے جڑا رہتا ہے۔

بقول شاعر:

عجب لذت ہے تیرے عشق کے غم میں

کہ ہنسنے سے زیادہ رونے میں مزا آتا ہے

شعر نمبر 11

جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔ

تمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا

مشکل الفاظ کے معانی:

جفا: ظلم، بے وفائی۔

چون و چرا: بحث کرنا، کیوں اور کیسے (اعتراض)۔

مفہوم:

اے حسرت! محبوب کے ظلم کو بھی اس کی وفا ہی سمجھو، کیونکہ تمہیں اس سے سوال کرنے یا اعتراض کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

تشریح:

مقطع میں حسرت اپنے آپ کو مخاطب کر کے تسلیم و رضا کی انتہا پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سچے عاشق کا کام صرف سر تسلیمِ خم کرنا ہے۔ اگر محبوب ظلم کرے یا بے وفائی، عاشق کو چاہیے کہ اسے اس کی عنایت سمجھے۔ “چون و چرا” کی گنجائش وہیں ہوتی ہے جہاں برابری کا دعویٰ ہو۔ عشق میں تو عاشق نے اپنی ہستی ہی فنا کر دی ہوتی ہے۔ اس لیے محبوب کے ہر فیصلے کو، چاہے وہ کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، خندہ پیشانی سے قبول کرنا چاہیے۔ یہ شعر صوفیانہ رنگ میں “رضا” کے مقام کی عکاسی کرتا ہے جہاں بندہ اپنے رب کی ہر آزمایش پر “الحمدللہ” کہتا ہے۔ حسرت یہاں اپنی انا کو مکمل طور پر ختم کر کے خود کو محبوب کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جفا اور وفا کا فرق مٹ جاتا ہے۔

بقول شاعر:

تیری جفا بھی ہمیں ہے قبول، اے ہمدم

وفا کی طرح اسے بھی گلے لگائیں گے

امید ہے کہ آپ حسرت موہانی کی اس غزل کی تشریح پڑھ چکے ہوں گے ۔ فیڈرل اور دوسرے بورڈ کی غزلوں اور نظموں کی  تشریحات بھی آپ ہماری ویب سائٹ سے پڑھ سکتے  ۔ غالب کی غزل ملاحظہ کیجیے ۔

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے از غالب

Leave a Reply