جب تک انسان پاک طینت ہی نہیں

جب تک انسان پاک طینت ہی نہیں

شاعر کا تعارف: جگر مراد آبادی

جگر مراد آبادی (1890ء – 1960ء) اردو غزل کے ایک انتہائی معتبر اور مقبول شاعر ہیں۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا، لیکن وہ اپنے تخلص “جگر” سے پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔ جگر صاحب کو “رئیس المتغزلین” کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی شاعری میں غزل کا روایتی حسن، نغمگی اور تغزل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ ان کا کلام عشق و محبت کی واردات اور انسانی اقدار کے گرد گھومتا ہے۔ جگر کی شاعری کے تین اہم مجموعے “داغِ جگر”، “شعلہۂ طور” اور “آتشِ گل” اردو ادب کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔ ان کی شاعری میں سوز و گداز کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی رندی اور مستی بھی پائی جاتی ہے، لیکن آخری دور میں ان کے کلام میں تصوف اور اخلاقیات کا رنگ نمایاں ہو گیا۔

مزید جگر مراد آبادی کے بارے میں تفصیلی معلومات نیچے دئیے گئے لنک سے ملاحظہ کریں ۔

https://www.rekhta.org/poets/jigar-moradabadi/profile?lang=ur

غزل :

جب تک انساں پاک طینت ہی نہیں

علم و حکمت، علم و حکمت ہی نہیں

وہ محبت، وہ عداوت ہی نہیں

زندگی میں اب صداقت ہی نہیں

سینۂ آہن بھی تھا جس سے گُداز

اب دِلوں میں وہ حرارت ہی نہیں

آدمی کے پاس سب کچھ ہے، مگر

ایک تنہا آدمیت ہی نہیں

بچ کے رہ جائے، وہ غنچہ ہی کہاں؟

گھُٹ کے رہ جائے، وہ نکہت ہی نہیں

حُسن کو سمجھا ہے کیا، اے بُو الہوس!

حُسن معنی بھی ہے، صورت ہی نہیں

صرف نقالی ہے مغرب کی جگرؔ

شعر میں اب مشرقیت ہی نہیں

اگلی پوسٹ میں ہم اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح اور مفہوم لکھیں گے ان شاءاللہ ۔

Leave a Reply