دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا آج کی اس پوسٹ میں ہم حسرت موہانی جن کو رئیس المتغزلین بھی کہتے ہیں ان کی مشہور غزل کی ” دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا” کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کریں گے ۔ اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں شعر نمبر 1: کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں مشکل الفاظ: مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔ گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔ مفہوم: حقیقی جرات مند