دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا آج کی اس پوسٹ میں ہم حسرت موہانی جن کو رئیس المتغزلین بھی کہتے ہیں ان کی مشہور غزل کی ” دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا” کی تشریح اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کریں گے ۔ اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں شعر نمبر 1 بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں مشکل الفاظ کے معانی: ترکِ الفت: محبت چھوڑ دینا، تعلق ختم کرنا۔ برابر: مسلسل، لگاتار۔ الٰہی: اے میرے اللہ، اے میرے رب۔ کیوں کر: کس طرح،

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت