شکوہ بند نمبر 1

شکوہ بند نمبر 1

کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہُوں؟

فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں

نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں

ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں

جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

Leave a Reply