جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی(تشریح)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی شعر نمبر 1 جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی مشکل الفاظ کے معانی: آدابِ خود آگاہی: اپنی ذات کو پہچاننے کے طریقے، معرفتِ نفس۔ اسرارِ شہنشاہی: بادشاہی کے راز، حکمرانی کے گر۔ عشق: یہاں عشق سے مراد اللہ اور اس کے

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(غزل)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا جلوہ

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح) شعر نمبر 1: نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر مشکل الفاظ کے معانی: عدم: موت، وہ جگہ جہاں کچھ نہ ہو، آخرت۔ دلِ شاداں: خوش دل، مسرور دل۔ حسرت و ارماں: ادھوری خواہشات، نا

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا(تشریح)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا شعر نمبر 1: دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا مشکل الفاظ کے معنی: اندوہ گیں: غم زدہ، دکھی۔ ہمدم: دوست، ساتھی۔ کہیں: یہاں مراد پاس یا ساتھ ہے۔ مفہوم: جب تک میں اس

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا ( غزل)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا رونے سے کام بس کہ شب اے ہم نشیں رہا  آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا نازُک مزاج تھا میں بہت اس چمن کے بیچ  جب

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو شعر نمبر 1: کیا فرق داغ و گل میں کہ جس گل میں بو نہ ہو کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو مشکل الفاظ کے معنی: بو: خوشبو، مہک۔ داغ: دھبہ، نشان۔ تو: یہاں مراد اللہ

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے

وغیرہ از انور مسعود

وغیرہ از انور مسعود شعر نمبر 1: ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ مفہوم: محبوب کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹ اور اس کے دیگر ناز و انداز پر شاعر اپنی جان و دل نثار کرنے کا اظہار کر رہا ہے۔ تشریح: اس شعر میں انور