کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو
کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو
کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو
ہووے نہ حول و قوت اگر تیرے درمیاں
جو ہم سے ہو سکے ہے سو ہم سے کبھو نہ ہو
جو کچھ کہ ہم نے کی ہے تمنا ملی مگر
یہ آرزو ہی ہے کہ کچھ آرزو نہ ہو
جوں شمع جمع ہوویں گر اہل زباں ہزار
آپس میں چاہیے کہ کبھی گفتگو نہ ہو
جوں صبح چاک سینہ مرا اے رفو گراں
یاں تو کسو کے ہاتھ سے ہرگز رفو نہ ہو
اے دردؔ زنگ صورت اگر اس میں جا کرے
اہل صفا میں آئینۂ دل کو رو نہ ہو