نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

شعر نمبر 1:

نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر

کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر

مشکل الفاظ کے معانی:

عدم: موت، وہ جگہ جہاں کچھ نہ ہو، آخرت۔

دلِ شاداں: خوش دل، مسرور دل۔

حسرت و ارماں: ادھوری خواہشات، نا آسودہ تمنائیں۔

مفہوم: اس دنیا سے کوئی بھی شخص خوشی خوشی رخصت نہیں ہوا بلکہ ہر انسان اپنے ساتھ بے شمار ادھوری خواہشات اور حسرتوں کا بوجھ لے کر گیا۔

تشریح:

غلام حمدانی مصحفی اس شعر میں انسانی زندگی کی ایک ایسی تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا خواہشات کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اس کے دل میں بے شمار امیدیں انگڑائی لیتی ہیں۔ وہ پوری زندگی ان مادی مقاصد کے حصول میں گزار دیتا ہے، لیکن موت اسے مہلت نہیں دیتی۔ جب کوچ کا وقت آتا ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ابھی تو بہت سے کام ادھورے ہیں، بہت سے خواب پورے ہونا باقی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انسان موت کا استقبال خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اس کا دل ملال اور حسرتوں سے بھرا ہوتا ہے۔ مادی دنیا کی رنگینیاں انسان کو اس قدر جکڑ لیتی ہیں کہ وہ آخرت کے سفر کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔ شاعر نے انسانی نفسیات کی بہترین عکاسی کی ہے کہ انسان جتنا بھی حاصل کر لے، اس کی طلب ختم نہیں ہوتی۔

بقول شاعر:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے (مرزا غالب)

شعر نمبر 2:

باغِ دشتِ جنوں تھا کہ کبھی جس میں سے

گئے نہ ثابت قد و گریباں لے کر

مشکل الفاظ کے معانی:

باغِ دشتِ جنوں: عشق کی دیوانگی کا جنگل۔

ثابت قد: سلامت بدن، سیدھا قامت۔

گریباں: قمیص کا چاک والا حصہ (دیوانگی کی علامت)۔

مفہوم: یہ دنیا عشق و جنون کا ایسا جنگل ہے جہاں سے کوئی بھی سلامت جسم اور ثابت گریباں لے کر نہیں گزر سکا، یعنی ہر ایک کو عشق کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تشریح:

اس شعر میں مصحفی نے دنیا کو “دشتِ جنوں” یعنی دیوانگی کے صحرا سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عشق کی راہ اتنی کٹھن ہے کہ جو بھی اس راہ پر چلا، اسے آزمائشوں نے گھیر لیا۔ روایتی شاعری میں دیوانہ اپنے ہوش و حواس کھو کر اپنا گریباں چاک کر دیتا ہے، مصحفی اسی استعارے کو استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی جنون یا عشق کا شکار ہے۔ کوئی مادی اشیاء کے پیچھے دیوانہ ہے تو کوئی حقیقی عشق میں سرشار۔ لیکن اس سفر میں ہر ایک کو زخم لگے ہیں اور کسی کا دامن بھی سلامت نہیں رہا۔ چاہے وہ پھول ہوں یا انسان، بہار کی آمد (یا عشق کی لہر) سب کے گریباں چاک کر دیتی ہے۔ یہ شعر انسانی جدوجہد اور اس میں پیش آنے والی تکالیف کا احاطہ کرتا ہے، جہاں سکونِ قلب اور سلامتیِ دامن ایک خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔

بقول شاعر:

موسم بدلا، رت بدلی، اہل جنوں پہ باغ ہوئے

فصلِ بہار کے آتے آتے کتنے گریباں چاک ہوئے

شعر نمبر 3:

پردۂ خاک میں سو رہے جا کر افسوس

پردۂ رخسار پہ کیا کیا مہِ تاباں لے کر

مشکل الفاظ کے معانی:

پردۂ خاک: مٹی کی چادر، قبر۔

پردۂ رخسار: چہرے کا حسن۔

مہِ تاباں: چمکتا ہوا چاند۔

مفہوم: نہایت افسوس کا مقام ہے کہ وہ لوگ جن کے چہرے چاند کی طرح روشن اور خوبصورت تھے، آج وہ مٹی کے نیچے دفن ہو کر منوں مٹی تلے سو رہے ہیں۔

تشریح:

یہ شعر حسن کی بے ثباتی اور موت کی بے رحمی کا نوحہ ہے۔ مصحفی کہتے ہیں کہ وقت کی گردش کسی کو معاف نہیں کرتی۔ اس دنیا میں ایسے حسین و جمیل لوگ آئے جن کے حسن سے دنیا روشن تھی، جن کے چہرے چاند کی مانند چمکتے تھے، لیکن موت نے انہیں بھی نہ بخشا۔ آج وہ تمام خوبصورت چہرے خاک کا رزق بن چکے ہیں۔ شاعر نے “مہِ تاباں” (چمکتا چاند) کہہ کر انسانی حسن کی انتہا بیان کی ہے اور “پردۂ خاک” کہہ کر موت کی خاموشی کو واضح کیا ہے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظاہری خوبصورتی فانی ہے اور انسان کو اپنے انجام سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جس حسن پر انسان غرور کرتا ہے، آخر کار اسے اندھیری قبر کا حصہ بننا ہے۔ مصفحی کا انداز یہاں انتہائی دردمندانہ اور حسرتناک ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

بقول شاعر:

سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں (مرزا غالب)

شعر نمبر 4:

ابر کی طرح کر دیویں گے عالم کو نہال

ہم جدھر جاویں گے یہ دیدۂ گریاں لے کر

مشکل الفاظ کے معانی:

ابر: بادل۔

عالم: دنیا۔

نہال کرنا: سیراب کرنا، خوشحال کرنا۔

دیدۂ گریاں: روتی ہوئی آنکھیں۔

مفہوم: میں جدھر بھی اپنی روتی ہوئی آنکھیں لے کر جاؤں گا، اپنے آنسوؤں سے پوری دنیا کو بادل کی طرح سیراب اور شاداب کر دوں گا۔

تشریح:

اس شعر میں مصحفی نے غلو (مبالغہ آرائی) سے کام لیتے ہوئے اپنے غم کی شدت کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دکھ اور درد کی انتہا اتنی زیادہ ہے کہ ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو عام پانی نہیں بلکہ رحمت کے بادل کی طرح ہیں۔ جس طرح بادل بنجر زمین کو زندگی بخشتا ہے، اسی طرح شاعر کے آنسو دنیا کے غموں کو دھو ڈالیں گے یا اس کی اشک باری سے ہر طرف سیلاب آ جائے گا۔ یہاں “نہال کرنا” ایک طنزیہ اور گہرا معنی بھی رکھتا ہے کہ شاعر کی تڑپ اور دکھ اتنے عالمگیر ہیں کہ وہ پوری دنیا کو اپنے غم میں شریک کر لیتے ہیں۔ یہ روایتی عاشقانہ شاعری کا انداز ہے جہاں عاشق اپنے آنسوؤں کو دریا یا بادل سے تشبیہ دیتا ہے تاکہ اپنی قلبی کیفیت کی وسعت کو ظاہر کر سکے۔

بقول شاعر:

ہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہا دیں

شبنم کی طرح ہمیں رونا نہیں آتا

شعر نمبر 5:

پھر تری سوئے اسیرانِ قفس بادِ صبا

خبر آمدِ ایامِ بہار لے کر

مشکل الفاظ کے معانی:

سوئے: کی طرف۔

اسیرانِ قفس: پنجرے کے قیدی۔

بادِ صبا: صبح کی ٹھنڈی ہوا، پیام رساں ہوا کی قسم۔

ایامِ بہار: بہار کے دن۔

مفہوم: اے صبا! تو ایک بار پھر قفس میں قید پرندوں (یا غلاموں) کی طرف بہار کی آمد کی خوشخبری لے کر آئی ہے، جو ان کی محرومی کا احساس دلا رہی ہے۔

تشریح:

یہ شعر سیاسی اور سماجی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مصحفی کے دور میں برصغیر کے مسلمان زوال کا شکار تھے اور غلامی کی زنجیریں مضبوط ہو رہی تھیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جب باغ میں بہار آتی ہے تو بادِ صبا قید پرندوں کو بھی اس کی خبر دیتی ہے۔ لیکن ایک قیدی کے لیے بہار کی خبر خوشی سے زیادہ دکھ کا باعث ہوتی ہے کیونکہ وہ اس بہار کا لطف اٹھانے کے لیے آزاد نہیں ہوتا۔ یہاں “اسیرانِ قفس” سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی آزادی کھو چکے ہیں۔ یہ شعر غلامی کی تکلیف اور آزادی کی قدر و قیمت کا احساس دلاتا ہے۔ صبا کا پیغام ان قیدیوں کے لیے تڑپ اور بے چینی کا باعث بنتا ہے کہ باہر کی دنیا میں پھول کھل رہے ہیں لیکن ان کا مقدر صرف دیواریں اور زنجیریں ہیں۔

بقول شاعر:

آتی ہے دم بدم مجھے یادِ عہدِ رفتہ

پھر تازہ ہو رہا ہے داغِ دلِ تمنا

شعر نمبر 6 (مقطع):

مصحفی گوشۂ عزلت کو سمجھے تختِ شہٰی

کیا کرے گا تو عبث ملکِ سلیماں لے کر

مشکل الفاظ کے معانی:

گوشۂ عزلت: تنہائی کا گوشہ، گوشہ نشینی۔

تختِ شہٰی: بادشاہ کا تخت۔

عبث: فضول، بے کار۔

ملکِ سلیماں: حضرت سلیمانؑ جیسی عظیم سلطنت۔

مفہوم: اے مصحفی! تو اپنی تنہائی اور قناعت کو ہی شاہی تخت سمجھ، تیرے لیے حضرت سلیمانؑ جیسی بڑی سلطنت بھی فضول ہے اگر تجھے روحانی سکون میسر نہیں۔

تشریح:

غزل کے مقطع میں مصحفی نے تصوف اور قناعت کا اعلیٰ درس دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیاوی جاہ و حشم اور بادشاہت عارضی اور بے معنی ہے۔ اگر انسان کو اپنے اندر کا سکون اور اللہ کی قربت مل جائے تو وہ گوشۂ تنہائی میں بھی خود کو بادشاہ محسوس کرتا ہے۔ حضرت سلیمانؑ کی سلطنت دنیا کی عظیم ترین سلطنت مانی جاتی ہے، لیکن شاعر کے نزدیک وہ بھی ایک درویش کے استغنا کے سامنے ہیچ ہے۔ سچا سکون محلات میں نہیں بلکہ اللہ کی یاد اور دنیاوی حرص سے دوری میں ہے۔ مصحفی خود کو نصیحت کر رہے ہیں کہ دنیا کی طلب چھوڑ کر اللہ کی رضا پر شاکر رہنا ہی اصل بادشاہی ہے۔ یہ شعر صوفیانہ فکر کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

بقول شاعر:

کچھ نظر آیا نہ پھر جب تو نظر آیا مجھے

جس طرف دیکھا مقامِ لا مکاں نظر آیا مجھے

Leave a Reply