عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک

عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک

عشرت زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک

پھول بھی ہنس نہ سکے چاک جگر ہونے تک

رات کٹ جائے گی چھا جائے گا زنداں پر سکوت

شور زنجیر ہے دیوار میں در ہونے تک

ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے

رات سو رنگ بدلتی ہے سحر ہونے

سورج ابھرے گا تو چھٹ جائیں گے راہوں کے غبار

منزلیں گم مگر گرم سفر ہونے تک

 

منزل شب میں یہی رخت سفر ہے قابل

درد کی خیر مناتا ہوں سحر ہونے تک

Leave a Reply