عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک

عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک عشرت زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک پھول بھی ہنس نہ سکے چاک جگر ہونے تک رات کٹ جائے گی چھا جائے گا زنداں پر سکوت شور زنجیر ہے دیوار میں در ہونے تک ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی