عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک

عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک قابلِ اجمیری کی یہ غزل اردو ادب کے کلاسیکی رنگ اور جدید لب و لہجے کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ آپ کی ہدایات کے مطابق، فراہم کردہ اشعار کی مکمل تشریح اور دیگر تفصیلات ذیل میں درج ہیں: شعر نمبر 1 عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر

عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک

عشرتِ زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک عشرت زیست کہاں غم کے ہنر ہونے تک پھول بھی ہنس نہ سکے چاک جگر ہونے تک رات کٹ جائے گی چھا جائے گا زنداں پر سکوت شور زنجیر ہے دیوار میں در ہونے تک ظلمت و نور میں تفریق ابھی مشکل ہے رات سو رنگ بدلتی