پردے کے پیچھے سے اقتدار کے مرکز تک: مجتبیٰ خامنہ ای اور ایران کا نیا دور

پردے کے پیچھے سے اقتدار کے مرکز تک: مجتبیٰ خامنہ ای اور ایران کا نیا دور

تمہید: پرچم کی حرمت اور نفسیاتی فتح ایک تعارف

تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی نفسیات، ایمان اور مزاحمت کی علامت بن جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایران ہمیشہ ایک مرکزی کردار رہا ہے۔ انقلابِ ایران سے لے کر آج تک ایران نے بارہا ایسے فیصلے کیے ہیں جنہوں نے عالمی طاقتوں کو حیران کر دیا۔

حالیہ حالات میں ایران کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشمکش، اور قیادت کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں نے پوری دنیا کی نظریں ایران پر مرکوز کر دی ہیں۔ ایسے میں ایرانی قیادت کا تسلسل اور مزاحمتی پالیسی ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔

یہ مضمون ایران کی تاریخی مزاحمت، اس کی قیادت، اور موجودہ حالات میں اس کے سیاسی اور روحانی عزم کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔

میدانِ جنگ کا ایک قدیم اور مسلمہ اصول ہے کہ جب تک لشکر کا پرچم بلند رہتا ہے، شکست قبول نہیں کی جاتی۔ کہتے ہیں میدان جنگ میں پرچم نہ گرنے دینا، آدھی جنگ جیتنے کے مترادف ہے۔ اگر اس بیانیے کو موجودہ جیو پولیٹیکل منظر نامے پر لاگو کیا جائے، تو سید علی خامنہ ای کی شہادت کے فوراً بعد ان کے صاحبزادے، مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور تیسرے سپریم لیڈر نامزدگی اور انتخاب، حملہ آور امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کے منہ پر کسی بھی سٹیلتھ میزائل سے بڑی چپیڑ ہے۔ یہ محض ایک شخصیت کی جگہ دوسری شخصیت کا آجانا نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے دنیا کو دیا جانے والا ایک طاقتور پیغام ہے کہ مزاحمت کی قیادت کا تسلسل برقرار ہے اور پرچم گرنے نہیں دیا جائے گا۔

تاریخی پس منظر: ایرانی نفسیات اور بہادری کی داستانیں

ایران کی تاریخ محض سات دہائیوں پر محیط نہیں ہے، بلکہ یہ ہزاروں سال پرانی تہذیب کا تسلسل ہے۔ ایرانی نفسیات میں غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت اور اپنی خودمختاری کا تحفظ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ قدیم فارس کی داستانوں سے لے کر جدید دور کے انقلابی جذبوں تک، ایرانی قوم نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں ہے۔

1979 کا اسلامی انقلاب اسی نفسیات کا ایک اہم موڑ تھا، جب ایرانی عوام نے امریکہ نواز پہلوی شاہی حکومت کا تختہ الٹ کر ایک آزاد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اس کے فوراً بعد، ایران عراق جنگ (1980-1988) کے دوران، جب پوری دنیا صدام حسین کی پشت پناہی کر رہی تھی، ایران نے تن تنہا آٹھ سال تک اپنی سرزمیں کا دفاع کیا۔ یہ وہ دور تھا جس نے ایران کی موجودہ قیادت اور عسکری نظریے کو جنم دیا۔ اسی جنگ کی بھٹی میں تپ کر آئی آر جی سی (اسلامک ریولیوشنری گارڈز کور) جیسی طاقتور فورس ابھری، جس کا نیٹ ورک آج پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا ہوا ہے۔

یہ بہادری کے قصے محض ماضی کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ موجودہ ایران اسرائیل اور ایران امریکہ تنازعے کی بنیاد ہیں۔ ایرانی قوم اپنے عقیدے اور “ایمان کی طاقت” پر پختہ یقین رکھتی ہے، جو انہیں مادی وسائل کی کمی کے باوجود سپر پاورز کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے۔

انقلابِ ایران 1979: ایک تاریخی موڑ

1979 میں ایران میں ہونے والا انقلاب دنیا کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ اس انقلاب نے نہ صرف ایک بادشاہت کا خاتمہ کیا بلکہ ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی جسے اسلامی جمہوریہ ایران کہا جاتا ہے۔

اس انقلاب کی قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی۔ ان کے نظریات نے لاکھوں ایرانیوں کو متحد کیا۔ شاہ ایران کے خلاف عوامی تحریک نے بالآخر بادشاہت کو ختم کر دیا اور ایک اسلامی نظام قائم ہوا۔

یہ انقلاب صرف ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی تبدیلی تھی جس نے ایران کی خارجہ پالیسی کو بھی تبدیل کر دیا۔

ایران اور جنگِ عراق (1980–1988)

انقلاب کے فوراً بعد ایران کو ایک بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا جب عراق نے ایران پر حملہ کر دیا۔

یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور اس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس جنگ نے ایرانی قوم کو ایک نئی شناخت دی۔ ایرانی عوام نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود مزاحمت جاری رکھی۔

اس جنگ کے دوران ایران کے نوجوانوں نے جس بہادری کا مظاہرہ کیا وہ آج بھی ایرانی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ جنگ کے محاذ پر قربانیاں دینے والے نوجوانوں کو ایران میں آج بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اسی جنگ نے ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت کو بھی مضبوط بنایا۔

مجتبیٰ خامنہ ای: سایہ سے حقیقت تک کا سفر

تاریخ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو طاقت کے بے حد قریب رہتے ہیں مگر خود کبھی روشنی میں نہیں آتے۔ وہ فیصلے کرتے ہیں مگر فیصلوں پر ان کا نام نہیں ہوتا، وہ حکم دیتے ہیں مگر زبان کے بجائے اشارے سے، وہ سنتے ہیں مگر کبھی بولتے نہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای تین دہائیوں تک ایسے ہی رہے۔ نہ کوئی تقریر، نہ کوئی جمعے کا خطبہ، نہ کوئی انتخابی امیدواری، اور نہ ہی کوئی وزارت۔ بیشتر ایرانی اُن کا چہرہ جانتے تھے مگر آواز نہیں۔ اور آج وہی آدمی، چھپن برس کی عمر میں، ایک فیصلہ کن جنگ کے عین بیچ، اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر بن گیا ہے۔

یہ واقعہ محض ایک جانشینی نہیں ہے۔ یہ ایک گہری نفسیاتی اور سیاسی داستان ہے جو چالیس سال پہلے شروع ہوئی تھی۔

ابتدائی زندگی اور جنگ کا تجربہ

مجتبیٰ کی پیدائش 8 ستمبر 1969 کو مشہد میں ہوئی، وہ شہر جو ایران کی مذہبی روح کا دارالخلافہ ہے، جہاں امام رضا کا روضہ ہے اور جہاں عقیدے کی جڑیں سطح سے کہیں گہری اتری ہوئی ہیں۔ اس کے بچپن کا زمانہ وہ تھا جب ایران انقلاب کی آگ میں پک رہا تھا اور اس کے باپ علی خامنہ ای ایک اہم مگر ابھی غیر اقتداری شخصیت تھے۔ پھر 1979 کا انقلاب آیا، پھر جنگ آئی، پھر باپ 1981 میں صدر بنا، اور پھر 1989 میں امام خمینی کی رحلت کے بعد وہ سپریم لیڈر بن گیا۔ مجتبیٰ نے بیس برس کی عمر میں دیکھا کہ طاقت کیسے منتقل ہوتی ہے، کس کے ہاتھوں منتقل ہوتی ہے، اور کون فیصلہ کرتا ہے کہ یہ منتقلی ہوگی یا نہیں۔

اس سے بھی پہلے، 1986 میں، جب مجتبیٰ صرف سترہ برس کا تھا، اسے ایران عراق جنگ کے محاذ پر بھیجا گیا۔ “حبیب بٹالین” میں اس نے وہ کچھ دیکھا جو صرف جنگ دکھا سکتی ہے: مٹی میں دفن دوست، بے نام قبریں، اور وہ خاموش زبان جو بارود سکھاتا ہے۔ اُس بٹالین میں جو لوگ اس کے ساتھ تھے وہ بعد میں آئی آر جی سی کے سب سے طاقتور افسر بنے۔ ان میں حسین تائب (آئی آر جی سی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ) اور حسین نجات (تہران کی سیکورٹی کے کمانڈر) شامل ہیں۔ محاذ پر بنے یہ رشتے اُس نے برسوں تک سینچے اور یہی وہ نیٹ ورک بنا جو آج ان کے اقتدار کی اصل بنیاد ہے۔ جنگ نے انہیں محض ہتھیار نہیں دیے، بلکہ وفادار آدمی دیے۔

قم کا حوزہ علمیہ اور نظریاتی تربیت

جنگ کے بعد مجتبیٰ قم کے حوزہ علمیہ میں آئے۔ یہاں انہوں نے ایک انتہائی اہم استاد کا انتخاب کیا: آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی۔ یہ وہ شخصیت تھے جن کا نظریہ سیاسی اسلام کے سخت گیر پہلوؤں کی عکاسی کرتا تھا۔ مصباح یزدی کا ماننا تھا کہ انبیاء کرام کثرت رائے پر یقین نہیں رکھتے تھے، بلکہ صرف ایک رائے صحیح ہوتی ہے۔ انہوں نے عوام کے بارے میں سخت آراء کا اظہار کیا اور لکھا کہ ایران کو “خاص ہتھیار” (جن سے مراد جوہری ہتھیار تھے) حاصل کرنے کا حق ہے۔ جمہوریت کے بارے میں ان کا موقف یہ تھا کہ اگر عوام خدا کی مرضی کے خلاف کچھ چاہتے ہیں تو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ مجتبیٰ نے اسی مکتب فکر میں سیاسی اسلام کی تعلیم مکمل کی۔

“رہبر کا دربان” اور اقتدار کی انجینئرنگ

قم سے واپس تہران آنے کے بعد مجتبیٰ نے اپنے باپ کے دفتر (بیتِ رہبری) میں کام شروع کیا۔ رفتہ رفتہ وہ سپریم لیڈر کے دروازے کے محافظ بن گئے۔ ہر ملاقات سے پہلے مجتبیٰ کی رضامندی، ہر درخواست سے پہلے مجتبیٰ کا فلٹر، ہر سیاسی فیصلے میں مجتبیٰ کی پس پردہ موجودگی۔ الجزیرہ کے تجزیہ کار علی ہاشم نے انہیں “اپنے باپ کا دربان” کہا، جو ایک نامکمل تعریف ہے۔ مجتبیٰ نے نہ صرف دروازے کی پہریداری کی بلکہ دروازے کے اندر کی پوری دنیا کو بھی ازسرنو ترتیب دیا۔ چیتھم ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے والد کے دفتر کو، جو کبھی ایک انتظامی ادارہ تھا، ایک مرکزی کمان میں بدل دیا جو فوج، انٹیلی جنس اور معیشت کی نگرانی کرتا تھا۔

2005 کے انتخابات میں محمود احمدی نژاد کی صدارت میں آمد کو تجزیہ کار مجتبیٰ کی سیاسی انجینئرنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ پھر 2009 کی “سبز تحریک” آئی، جب لاکھوں لوگ سڑکوں پر آئے اور یہ نعرہ لگایا: “مجتبیٰ بمیر، رہبری را پس بگیر” (مجتبیٰ مر جا، رہبری واپس لو)۔ ان احتجاجات کو کچلنے کے عمل کی نگرانی مجتبیٰ نے بذاتِ خود کی، جس کی رپورٹیں کئی آزاد ذرائع میں موجود ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے 2019 میں انہیں پابندیوں کی فہرست میں ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ “اپنے باپ کے غیر مستقر علاقائی عزائم اور ملکی جبر کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔”

انتخاب کا تنازعہ اور نفسیاتی بوجھ

ایک انتہائی غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ علی خامنہ ای نے خود اپنے بیٹے کو جانشین نہیں چنا تھا۔ مختلف ذرائع کے مطابق، علی خامنہ ای کو اپنے بیٹے کی قیادت کا خیال پسند نہیں تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ اسلامی جمہوریہ کو پہلوی بادشاہت جیسا رنگ دے دے گا، جسے 1979 میں ختم کیا گیا تھا۔ انہوں نے 2025 میں ممکنہ جانشینوں کی ایک فہرست تیار کی تھی، جس میں مجتبیٰ کا نام شامل نہیں تھا۔

لیکن آج مجتبیٰ اسی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی تہ ہے جسے سمجھے بغیر ان کی شخصیت کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ آدمی جو باپ کی چھاؤں میں رہا، باپ کی خواہش کے بغیر باپ کا عہدہ لے کر بیٹھا ہے۔ کیا وہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس کرے گا کہ باپ غلط تھا اور وہ صحیح؟ کیا وہ اپنی جائزیت (legitimacy) کے خلاء کو شدت یا سخت پالیسیوں سے بھرنے کی کوشش کرے گا؟ کیا وہ ایک ایسے شخص کی طرح حکمرانی کرے گا جسے اپنی اہلیت پر خود کو اور دوسروں کو یقین دلانا ہو؟

مجلس خبرگان کا اجلاس اور مغربی تاثر

مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ آئی آر جی سی نے اسمبلی آف ایکسپرٹس (مجلس خبرگان) کے اراکین پر شدید دباؤ ڈالا تاکہ یہ فیصلہ ہوسکے۔ رپورٹوں کے مطابق، فضا “غیر فطری” تھی، مخالف آوازوں کو محدود وقت دیا گیا، اور آٹھ ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ مغربی مبصرین کا تاثر یہ ہے کہ جو نظام پہلوی بادشاہت کا متبادل تھا، اس نے خاموشی سے ایک خاندانی جانشینی قبول کر لی۔

تاہم، ایرانی ذرائع بیان کرتے ہیں کہ مجلس خبرگان نے مکمل رضامندی سے مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب کیا ہے۔ ان کے نزدیک، والد کی شہادت کے بعد کانٹوں کے اس تاج کو اٹھانا، امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ڈیفائینس (سربلندی) کی علامت ہے۔ نیا سپریم لیڈر جانتا ہے کہ اس نامزدگی کو قبول کرنا ایک طرح سے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے، اور یہی ان کی دلیری کا ثبوت ہے۔

مذہبی لقب کا مسئلہ

مجتبیٰ کے حوالے سے ایک اور اہم نقطہ ان کا مذہبی عہدہ ہے۔ وہ “حجت الاسلام” ہیں، “آیت اللہ” نہیں۔ ایران کا آئین کہتا ہے کہ سپریم لیڈر کا مذہبی مرتبہ بلند ہونا چاہیے۔ جب 1989 میں علی خامنہ ای سپریم لیڈر بنے، تو وہ بھی آیت اللہ نہیں تھے، اور اس وقت آئین میں ترمیم کی گئی تھی۔ اب احتمال ہے کہ وہی عمل مجتبیٰ کے لیے دہرایا جائے گا یا انہیں غیر سرکاری طور پر آیت اللہ کہلوانا شروع کر دیا جائے گا، جیسا کہ ابراہیم رئیسی کے ساتھ ہوا۔

مالیاتی الزامات

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ ایک وسیع مالی نیٹ ورک سے منسلک ہیں جو ایران سے باہر اثاثے منتقل اور سنبھالتا ہے۔ الزامات میں لندن اور دبئی میں جائیدادیں اور شپنگ میں حصہ داریاں شامل ہیں۔ 2009 میں برطانوی حکومت نے ایک اکاؤنٹ منجمد کیا تھا جس کی مالیت ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر تھی اور جو مبینہ طور پر مجتبیٰ کے زیرِ کنٹرول تھا۔ تاہم، انقلاب سے وابستہ افراد ان الزامات کو مغربی ذرائع ابلاغ کا پروپیگنڈا سمجھتے ہیں، کیونکہ مغربی میڈیا گزشتہ پچاس برسوں میں کبھی ایران پر مہربان نہیں رہا۔

مستقبل کا منظر نامہ: تصادم یا مصلحت؟

اب سوال ایران کے مستقبل کا ہے۔ مغربی میڈیا کا خیال ہے کہ مجتبیٰ امریکہ کو ناقابلِ مفاہمت دشمن سمجھیں گے اور تنازعے کو بڑھانے کا زیادہ امکان ہے، مصالحت کا کم۔ وہ ایک تصادمی رہنما ثابت ہو سکتے ہیں۔

مجتبیٰ کے تین نفسیاتی محرک ہیں جو ایران کی آنے والی پالیسی کو سمجھنے کی کنجی ہیں:

ادارہ جاتی مضبوطی کا سہارا: وہ شخصی جائزیت کے خلاء کو پُر کرنے کے لیے آئی آر جی سی (فوج) پر بے پناہ انحصار کریں گے۔ جب رہنما فوج پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرے، تو یہ ملک کی سیاست نہیں، بلکہ ملک کی شناخت بدل دیتا ہے۔

ذاتی سانحات کا اثر: مجتبیٰ کے کئی قریبی ساتھی، ان کی ماں، بیوی اور باپ ایک ہی جنگی ضرب میں مارے جا چکے ہیں۔ ایک آدمی جس نے اپنے گھر کو مٹتے دیکھا ہو، وہ سیاست میں ذاتی درد اور انتقام کا عنصر لا سکتا ہے، جو پالیسی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

جوہری نظریہ: ان کے استاد، مصباح یزدی، جوہری ہتھیاروں کو ایک اسلامی حق سمجھتے تھے۔ ایک ایسا رہبر جسے مذہبی جائزیت کم ملی، مگر ادارہ جاتی مدد زیادہ، وہ اپنی جائزیت ثابت کرنے کے لیے کسی بڑے اور جرات مندانہ اقدام (جیسے جوہری تجربہ) کا سہارا لے سکتا ہے۔

ٹرمپ کا بیان اور ایرانی ردعمل

ڈونلڈ ٹرمپ نے مجتبیٰ کو “لائٹ ویٹ” (کم وزن) کہا اور دعویٰ کیا کہ وہ امریکہ کی منظوری کے بغیر زیادہ دیر نہیں چلیں گے۔ یہ بیان ایک بڑی سفارتی غلطی ہو سکتی ہے۔ جس رہنما کو علانیہ دشمن کم زور کہے، وہ رہنما جانتا ہے کہ اب اسے ثابت کرنا ہے کہ وہ کمزور نہیں ہے۔ اور یہ اثبات پریس کانفرنس میں نہیں، بلکہ تصادم میں ہوتا ہے۔ مجلس خبرگان نے ٹرمپ کے اعلامیے کو روندتے ہوئے قیادت کا پرچم اس خاندان کے شہسوار کو تھما دیا ہے جس کے باپ نے عزیمت سے میدان میں جان دی تھی۔ اس حساب سے مجتبیٰ کی نمائندگی ایرانی عزیمت کی علامت ہے۔

اختتامیہ: خاموشی کی حکمت عملی اور آنے والا طوفان

تین دہائیاں پردے کے پیچھے رہنے والا آدمی آج پردے کے سامنے ہے، مگر اس کا فطری رجحان ابھی بھی پس پردہ کام کرنے کا ہے۔ وہ آواز جسے ایران نے کبھی نہیں سنا، اب پوری دنیا سن رہی ہے، مگر اس آواز میں کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا کیونکہ انہوں نے آج تک کوئی عوامی تقریر نہیں کی۔ ان کا خاموش رہنا عادت نہیں، بلکہ ایک گہری حکمتِ عملی تھی۔ اور وہ آدمی جو طاقت میں آنے سے پہلے اتنا محتاط ہو، وہ طاقت میں آ کر اور بھی محتاط ہوگا، یا اتنے سالوں کی خاموشی کے بعد جب بولنے کا فیصلہ کرے گا تو آواز بہت اونچی ہوگی۔

پردے کے پیچھے رہنے والے آدمیوں سے ڈرنا چاہیے۔ وہ اس لیے نہیں کہ وہ ظالم ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ صبور (صبر کرنے والے) ہوتے ہیں۔ اور صبر کے ساتھ دہکائی ہوئی آگ وہ آگ ہوتی ہے جو جلدی نہیں بجھتی۔ اسی لیے کربلا میں حسینی قافلے کے جلائے گئے خیموں کی حدت آج تیرہ سو برس بعد بھی محسوس ہوتی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کا دورِ اقتدار ایران اور مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نیا، پرپیچ اور ممکنہ طور پر تصادم سے بھرپور باب ہے۔

Leave a Reply