سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا

 

کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو

اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا

 

ہر اک کارِ تمنا پر یہ مجبوری، یہ مختاری

مجھے آساں نہیں ہوتا، تجھے مشکل نہیں ہوتا

 

ہمیں ہنگامہ آرا تھے مگر ہم جب سے ڈوبے ہیں

کہیں طوفان نہیں اٹھتا، کہیں ساحل نہیں ہوتا

 

تماشا سوز ہے ہر جلوۂ اندازِ یکتائی

تمہی تم ہو کوئی پردہ بھی اب حائل نہیں ہوتا

 

رہا اک اک قدم پر پاسِ آدابِ طلب ورنہ

وہ ہم تھے جہاں پانا تیرا مشکل نہیں ہوتا

ازل سے اپنا مقصودِ طلب ہے کون اے تابشؔ

کہ پائے جستجو شرمندۂ منزل نہیں ہوتا

Leave a Reply