سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا   کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا   ہر اک کارِ تمنا پر یہ مجبوری،

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا شعر نمبر 1 سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: سکوں: آرام، اطمینانِ قلب درکار: ضرورت، حاجت ٹھہرا دے: سکون بخشے، مطمئن کر دے دردِ دل: عشق کی تڑپ، دلی اضطراب

جگ میں آ کر ادھر دیکھا ادھر دیکھا

جگ میں آکر ادھر دیکھا ادھر دیکھا شعر نمبر 1 ​شعر: جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا ​مفہوم: اس دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے جس سمت بھی اپنی نظر دوڑائی، مجھے کائنات کے ہر منظر اور ہر ذرے میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور