سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا   کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا   ہر اک کارِ تمنا پر یہ مجبوری،