سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا   کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا   ہر اک کارِ تمنا پر یہ مجبوری،

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا شعر نمبر 1 سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: سکوں: آرام، اطمینانِ قلب درکار: ضرورت، حاجت ٹھہرا دے: سکون بخشے، مطمئن کر دے دردِ دل: عشق کی تڑپ، دلی اضطراب