کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
شعر نمبر 1 (مطلع)
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
مشکل الفاظ: نوا سنجِ فغاں (آہ و زاری کرنے والا)، زباں ہونا (بولنے کی طاقت یا شکایت کرنا)۔
مفہوم: جب انسان نے اپنی خوشی سے کسی کو دل دے دیا ہے، تو اب دکھوں پر رونا دھونا کیسا؟ جب دل ہی پاس نہیں رہا تو زبان سے شکایت کرنا فضول ہے۔
تفصیلی تشریح: اس شعر میں غالب نے روایتی عشق کے اس تصور کی نفی کی ہے جس میں عاشق ہر وقت روتا دھوتا اور فریاد کرتا نظر آتا ہے۔ غالب کا استدلال انتہائی منطقی اور خوددارانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دل دینا ایک ایسا فیصلہ تھا جو انسان نے خود کیا، تو اب اس کے نتیجے میں ملنے والے دکھوں پر واویلا کرنا چہ معنی دارد؟ “نوا سنجِ فغاں” سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی تکلیف کا چرچا دنیا میں کرے۔ غالب کے نزدیک، جب آپ نے اپنا دل (جو کہ تمام جذبات کا مرکز ہے) محبوب کے حوالے کر دیا، تو اب آپ کے پاس وہ محرک ہی نہیں بچا جو شکایت پیدا کرے۔ دوسرے مصرعے میں وہ ایک جسمانی استعارے سے بات سمجھاتے ہیں کہ جس طرح دل کے بغیر زندگی کا نظام نہیں چلتا، اسی طرح جب دل ہی آپ کے پاس نہیں تو زبان سے حرفِ شکایت نکالنا غیر منطقی ہے۔ یہ شعر عاشق کو صبر اور وقار کا درس دیتا ہے کہ وہ اپنے غم کو اپنی ذات تک محدود رکھے۔
بقولِ شاعر:
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
شعر نمبر 2
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
مشکل الفاظ: خو (عادت)، وضع (طریقہ/انداز)، سبک سر (ہلکا ہونا/ذلیل ہونا)، بدگمان (ناراض/شک کرنا)۔
مفہوم: اگر محبوب اپنی بے وفائی اور ظلم کی عادت نہیں چھوڑتا، تو ہم بھی اپنی خودداری کا راستہ کیوں چھوڑیں؟ ہم اپنی عزتِ نفس کو گرا کر اس سے اپنی ناراضگی کی وجہ کیوں پوچھیں؟
تفصیلی تشریح: یہ شعر غالب کی “انا” کا شاہکار ہے۔ اردو شاعری میں عام طور پر عاشق محبوب کے سامنے گڑگڑاتا ہے اور اس کی بے رخی پر سوال کرتا ہے، مگر غالب یہاں ایک نیا رخ پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب اگر اپنی “خو” یعنی بے وفائی اور تغافل کی عادت پر قائم ہے، تو میں بھی اپنی “وضع” یعنی خودداری اور وقار کو نہیں بدلوں گا۔ غالب کے نزدیک محبوب سے یہ پوچھنا کہ “تم مجھ سے کیوں ناراض ہو؟” اپنی ذات کو ہلکا کرنے کے مترادف ہے۔ اگر ہم محبوب کے سامنے یہ سوال لے کر جائیں گے تو ہم “سبک سر” ہو جائیں گے، یعنی ہماری کوئی عزت باقی نہیں رہے گی۔ غالب یہاں یہ پیغام دیتے ہیں کہ عشق میں جان تو دی جا سکتی ہے مگر اپنی عزتِ نفس (Self-respect) پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعر ان تمام لوگوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو محبت میں ذلت کو اپنا مقدر سمجھ لیتے ہیں۔
بقولِ شاعر:
بندگی میں بھی وہ آزاد و خود آرا ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
شعر نمبر 3
کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
مشکل الفاظ: تاب لانا (برداشت کرنا)، خوںِ جگر (جگر کا لہو پینا/بہت زیادہ دکھ سہنا)۔
مفہوم: ایسی محبت پر لعنت ہو جو غم برداشت کرنے کی سکت نہ رکھتی ہو۔ وہ محبت ہی کیا جس میں مسلسل دکھ اور جگر کا خون پینا شامل نہ ہو۔
تفصیلی تشریح: اس شعر میں غالب نے عشق کے حقیقی معیار کو بیان کیا ہے۔ وہ ایسی سطحی محبت کو مسترد کرتے ہیں جو محض خوشیوں تک محدود ہو یا جس میں تھوڑا سا غم آنے پر عاشق گھبرا جائے۔ “لگے آگ اس محبت کو” ایک عوامی محاورہ ہے جسے غالب نے نہایت مہارت سے شعری پیرائے میں ڈھالا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عشق کا راستہ کانٹوں کی سیج ہے، اگر اس میں دکھ سہنے اور جگر کا خون پینے کا حوصلہ نہیں ہے تو پھر اس میدان میں قدم رکھنا ہی فضول ہے۔ “خوںِ جگر” کا استعارہ اس کٹھن ریاضت کی طرف اشارہ ہے جو ایک عاشق کو کندن بناتی ہے۔ غالب کے نزدیک عشق کی لذت وصال میں نہیں بلکہ اس مستقل درد میں ہے جو انسان کو مادی دنیا سے بلند کر دیتا ہے۔ یہ شعر ان کے بلند حوصلے اور ہمت کی علامت ہے کہ وہ غمِ عشق کو ایک نعمت کے طور پر قبول کرنے کے حامی ہیں۔
بقولِ شاعر:
لذتِ سنگ بہ اندازہِ رسوائی ہے
جتنا ہو دردِ تمنا اتنی ہی پہنائی ہے
شعر نمبر 4
وفا کیسی، کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگِ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو
مشکل الفاظ: سنگِ دل (پتھر دل محبوب)، سنگِ آستاں (چوکھٹ کا پتھر)۔
مفہوم: جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمیں اپنا سر ہی پھوڑنا ہے، تو پھر اے بے رحم محبوب! ہم تیری ہی چوکھٹ کے پتھر سے کیوں ٹکرائیں؟ ہم کہیں اور جا کر یہ کام کر لیں گے۔
تفصیلی تشریح: اس شعر میں غالب نے محبوب کے ظلم اور اپنی بیزاری کو بڑے انوکھے طنزیہ انداز میں پیش کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے وفا اور عشق کی بہت باتیں کر لیں، لیکن تم اتنے بے حس ہو کہ تمہارے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اب اگر مجھے اس عشق میں ناکامی کے بعد اپنا سر ہی پھوڑنا ہے (جو کہ دیوانگی کی علامت ہے)، تو اب میں تمہاری چوکھٹ کی منت کیوں کروں؟ میں نے تمہاری چوکھٹ کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ شاید وہاں کوئی رحم ملے گا، مگر جب تم پتھر دل ہو تو تمہاری چوکھٹ کے پتھر میں اور کسی عام پتھر میں کوئی فرق نہیں۔ غالب کا یہ انداز دراصل محبوب کو یہ جتانا ہے کہ اب میری دیوانگی بھی تمہاری محتاج نہیں رہی۔ یہ ایک عاشق کی انتہائی مایوسی مگر اس مایوسی میں بھی ایک مخصوص “اکڑ” کا اظہار ہے۔
بقولِ شاعر:
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
شعر نمبر 5
قفس میں ہوں گر اس پر بھی نہ چہکوں تو بتلاؤ
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
مشکل الفاظ: قفس (پنجرہ/قید)، چہکنا (بولنا/نغمہ سرائی)، خانہ ویرانی (گھر کی بربادی)۔
مفہوم: میں قید میں ہوں لیکن اس کے باوجود اگر میں نغمہ سرائی نہ کروں تو کیا کروں؟ انسان کی بربادی کے لیے کیا یہی فتنہ کافی نہیں ہے؟
تفصیلی تشریح: اس شعر میں غالب نے قید اور آزادی کے تصور کو اپنی مخصوص معنویت عطا کی ہے۔ قفس یا پنجرہ یہاں دنیا کی پابندیوں یا غمِ عشق کی قید کی علامت ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ ایک پرندہ جب قید ہو جاتا ہے تو اس کے پاس صرف چہکنے کا آپشن ہی رہ جاتا ہے تاکہ وہ اپنے غم کو نغمے میں بدل سکے۔ اگر وہ قید میں بھی خاموش رہے تو اس کی گھٹن اسے مار ڈالے گی۔ “خانہ ویرانی” سے مراد دل کی وہ بربادی ہے جو عشق میں مقدر ہوتی ہے۔ غالب کے نزدیک انسان کا وجود ہی اس کی قید ہے، اور اس قید میں نغمہ سرائی (شاعری) کرنا اس کا دفاعی نظام ہے۔ یہ شعر فنکار کی اس مجبوری کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کے باوجود اپنے فن کے ذریعے اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔
بقولِ شاعر:
قفس میں ہوں مگر نالے مرے لب پر نہیں آتے
الٰہی اب کسے حالِ دلِ مضطر سنائیں ہم
شعر نمبر 6
نثار اس پر کہ جو ایما میں تمہاری بات پا جائے
جو تم سے آزمانا چاہتے ہو ہم نہیں ہیں وہ
مشکل الفاظ: نثار (قربان)، ایما (اشارہ/رمز)، آزمانا (امتحان لینا)۔
مفہوم: میں اس شخص پر قربان جو تمہارے اشارے سے بات سمجھ جائے، لیکن اگر تم ہمیں آزمانا چاہتے ہو تو یاد رکھو ہم وہ (عام) لوگ نہیں ہیں۔
تفصیلی تشریح: اس شعر میں غالب نے محبوب کو ایک واضح چیلنج دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسے عاشق ہوں گے جو تمہارے اشاروں پر ناچتے ہوں گے اور تمہاری ہر رمز کو سمجھ کر فدا ہو جاتے ہوں گے، میں ایسے لوگوں کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن اگر تمہارا خیال ہے کہ تم ہمیں تڑپا کر یا ہمارا امتحان لے کر ہمیں نیچا دکھاؤ گے، تو یہ تمہاری بھول ہے۔ “ہم نہیں ہیں وہ” کے الفاظ غالب کی اس عظیم خود اعتمادی کی عکاسی کرتے ہیں جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ محبوب کو صاف بتا رہے ہیں کہ ہماری خودداری کسی آزمائش کی محتاج نہیں اور نہ ہی ہم اتنے کمزور ہیں کہ تمہارے کھیل کا حصہ بنیں۔ یہ مقطع غزل کے پورے موڈ کو ایک فاتحانہ رنگ میں ختم کرتا ہے۔
بقولِ شاعر:
غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں
شعر نمبر 7 : (مقطع)
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
مشکل الفاظ کے معانی
نکالا چاہتا ہے: حاصل کرنا چاہتا ہے / پورا کرنا چاہتا ہے۔
طعنوں سے: طنز کر کے / گلہ و شکوہ کر کے۔
بے مہر: بے وفا / بے مروت / جس میں محبت نہ ہو۔
مہرباں: شفقت کرنے والا / محبت کرنے والا۔
مفہوم
اے غالب! کیا تو طنز و طعنے دے کر اپنا مطلب نکالنا چاہتا ہے؟ اگر تو محبوب کو بے وفا اور سنگدل کہے گا، تو وہ تیری اس تلخ کلامی کو سن کر تجھ پر محبت کیوں نچھاور کرنے لگا؟ (یعنی طعنوں سے محبت حاصل نہیں ہوتی)۔
: تفصیلی تشریح
مرزا غالب کا یہ مقطع ان کے کلام کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے جسے اردو ادب میں “نفسیاتی حقیقت نگاری” کہا جاتا ہے۔ غالب روایتی عاشقوں کی طرح محض روتے دھوتے نہیں ہیں، بلکہ وہ عشق کے معاملات میں عقل اور منطق کو بھی شامل رکھتے ہیں۔ اس مقطع میں غالب نے خود کو مخاطب کر کے ایک ایسی عالمگیر حقیقت بیان کی ہے جو انسانی تعلقات کی بنیاد ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے غالب! تیرا یہ طریقہ کار نہایت غیر منطقی ہے کہ تو ایک طرف تو محبوب سے وصال اور محبت کی توقع رکھتا ہے اور دوسری طرف اسے سرِ عام “بے مہر” (بے وفا) اور سنگدل کہہ کر طعنے دے رہا ہے۔ غالب یہاں دراصل ایک عاشق کی اس نفسیاتی الجھن کو بیان کر رہے ہیں جہاں وہ غمِ عشق میں مبتلا ہو کر اپنی زبان پر قابو نہیں رکھ پاتا اور محبوب کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے۔
غالب کے نزدیک محبوب بھی ایک انسان ہے جس کی اپنی انا اور وقار ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو طعنے دے یا اسے بے مروت ثابت کرنے کی کوشش کرے، تو جواب میں محبت کی توقع رکھنا حماقت ہے۔ دنیا کا اصول ہے کہ سختی سے سختی پیدا ہوتی ہے اور طنز سے دوریاں بڑھتی ہیں۔ غالب بڑے لطیف انداز میں سمجھا رہے ہیں کہ اگر تم کسی کے دل میں جگہ بنانا چاہتے ہو تو تمہارا لہجہ دھیما اور اندازِ بیاں دلنشین ہونا چاہیے۔ محبوب کو “بے مہر” کہہ کر تم اسے مزید ضدی اور سرکش بنا رہے ہو۔ یہ غالب کی اپنی ذات پر ایک طنز بھی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا محبوب سنگدل ہے، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس سنگدلی کا علاج طعنہ زنی نہیں ہے۔ اردو شاعری میں غالب کا یہ اسلوب انہیں تمام شعراء سے ممتاز کرتا ہے کیونکہ وہ جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی حماقتوں پر ہنسنا بھی جانتے ہیں۔ اس مقطع میں طنز و مزاح کی ایک ہلکی سی لہر بھی موجود ہے جو قاری کو محظوظ کرتی ہے اور اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ محبت کے حصول کا راستہ شکایت نہیں بلکہ صبر و استقامت ہے۔
بقولِ شاعر :
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
(مرزا غالب)
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
(مرزا غالب)
