بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
شعر نمبر 1 (مطلع)
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
مشکل الفاظ: بس کہ (چونکہ)، دشوار (مشکل)، میسر (دستیاب/ممکن)، انساں ہونا (اخلاق و آدمیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونا)۔
مفہوم: چونکہ دنیا میں کسی بھی کام کا پایۂ تکمیل تک پہنچنا بہت مشکل ہے، اسی طرح انسان کے لیے بھی محض پیدا ہو جانا کافی نہیں، بلکہ حقیقی انسانیت کا درجہ حاصل کرنا بہت کٹھن کام ہے۔
تشریح: یہ شعر غالب کی فلسفیانہ فکر کا شاہکار ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ کائنات میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ کام خود بخود آسان ہو جائیں گے، مگر حقیقت میں آسانی کا حصول ہی سب سے بڑی دشواری ہے۔ دوسرے مصرعے میں غالب “آدمی” اور “انسان” کے درمیان ایک گہری لکیر کھینچتے ہیں۔ آدمی سے مراد گوشت پوست کا وہ وجود ہے جو حیاتیاتی طور پر پیدا ہوتا ہے، جبکہ “انسان” وہ ہے جو شعور، اخلاق اور اعلیٰ انسانی اقدار کا حامل ہو۔ ایک مکمل انسان بننے کے لیے نفس کی قربانی اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ بقولِ غالب، جس طرح ہر کام آسانی سے نہیں ہوتا، اسی طرح ہر چلتا پھرتا آدمی “انسان” کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔
بقولِ شاعر:
ہے بہت مشکل کہ ہو ہر کام میں آسانی تجھے
ورنہ مشکل بھی نہیں تھی آدمیت کی نمود
شعر نمبر 2 (حسنِ مطلع)
وائے دیوانگیِ شوق کہ ہردم مجھ کو
آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا
مشکل الفاظ: وائے (افسوس/تعجب)، دیوانگیِ شوق (محبت کا جنون)، ہردم (ہر وقت)، آپ جانا (خود چلے جانا)۔
مفہوم: میرے شوق کی دیوانگی کا کیا عالم ہے کہ میں خود ہی بے اختیاری میں محبوب کی گلی کی طرف چل پڑتا ہوں اور جب وہاں پہنچتا ہوں تو خود اپنے اس فعل پر حیران ہوتا ہوں۔
تشریح: اس شعر میں غالب نے نفسیاتی کیفیت “خود فراموشی” کو بیان کیا ہے۔ عشق کا جنون جب انتہا کو چھوتا ہے تو انسان کے حواس اس کے بس میں نہیں رہتے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے بارہا عہد کیا کہ اب محبوب کی گلی کا رخ نہیں کروں گا، لیکن میرا شوق مجھے کھینچ کر وہیں لے جاتا ہے۔ جب وہاں پہنچ کر ہوش آتا ہے تو میں اپنی ہی بے بسی اور دیوانگی پر حیرت زدہ رہ جاتا ہوں کہ میں تو یہاں نہ آنے کا فیصلہ کر چکا تھا، پھر قدم یہاں کیسے پہنچ گئے۔ یہ کشمکش انسانی جبلت اور عقل کے درمیان جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔
بقولِ شاعر:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
شعر نمبر 3
عشرتِ قتل گہِ اہل تمنا مت پوچھ
عیدِ نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
مشکل الفاظ: عشرت (خوشی)، قتل گہ (قتل ہونے کی جگہ)، اہل طرح (عشق کی راہ پر چلنے والے)، شمشیر (تلوار)، عریاں (ننگی تلوار)۔
مفہوم: عشق کی راہ میں قربان ہونے والوں کی خوشی کا حال نہ پوچھو، ان کے لیے محبوب کے ہاتھ میں ننگی تلوار دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے عید کا چاند دیکھنا۔
تشریح: غالب یہاں صوفیانہ اور عاشقانہ روایت کو ایک نئی بلندی عطا کرتے ہیں۔ عام انسان موت سے ڈرتا ہے، لیکن سچا عاشق محبوب کے ہاتھوں قتل ہونے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہے۔ جب محبوب قتل کرنے کے ارادے سے تلوار میان سے نکالتا ہے، تو اس تلوار کی چمک عاشق کی آنکھوں کے لیے عید کے چاند کی مانند فرحت بخش ہوتی ہے۔ یہاں “شمشیر کا عریاں ہونا” اور “عید کا چاند” کے درمیان ایک خوبصورت تشبیہ دی گئی ہے، کیونکہ عید کا چاند بھی خمیدہ (مڑا ہوا) ہوتا ہے اور تلوار بھی۔ یہ موت کا خوف نہیں بلکہ محبوب سے وصال کی ایک صورت ہے۔
بقولِ شاعر:
جاں دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
شعر نمبر 4
لے گئے خاک میں ہم داغِ تمنائے نشاط
تو ہو اور آپ بہ صد رنگِ گلستاں ہونا
مشکل الفاظ: خاک (قبر/مٹی)، داغِ تمنائے نشاط (خوشی کی حسرت کا داغ)، صد رنگ (سو رنگوں والا/بہت زیادہ)۔
مفہوم: ہم اپنی ادھوری خواہشات اور خوشیوں کی حسرتیں لے کر قبر میں چلے گئے، اب ہماری دعا ہے کہ تم سلامت رہو اور تمہاری زندگی چمن کی طرح رنگین رہے۔
تشریح: اس شعر میں ایثار اور قربانی کا جذبہ نمایاں ہے۔ عاشق اپنی محرومیوں کا رونا رونے کے بجائے محبوب کی سلامتی کی دعا کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری زندگی تو ناکامیوں اور نامراد تمناؤں کی نذر ہو گئی اور میں یہ حسرتیں لے کر دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں، لیکن میرے مرنے کا ملال نہ کرنا۔ میری دعا ہے کہ تمہاری زندگی ہمیشہ بہاروں سے عبارت رہے اور تم چمن کے پھولوں کی طرح مہکتے رہو۔ یہ غالب کا وہ اسلوب ہے جہاں وہ غم کو انفرادی سطح سے اٹھا کر ایک آفاقی دعا بنا دیتے ہیں۔
بقولِ شاعر:
ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
شعر نمبر 5
عشرتِ پارہِ دل زخمِ تمنا کھانا
لذتِ ریشِ جگر غرقِ نمک داں ہونا
مشکل الفاظ: پارہِ دل (دل کا ٹکڑا)، زخمِ تمنا (خواہش کا زخم)، ریشِ جگر (جگر کا زخم)، غرقِ نمک داں (نمک میں ڈوبا ہوا)۔
مفہوم: میرے دل کے ٹکڑوں کی خوشی اسی میں ہے کہ وہ مزید زخمی ہوں، اور میرے جگر کے زخموں کا مزہ اسی میں ہے کہ ان پر نمک چھڑکا جائے۔
تشریح: یہ شعر “لذتِ آزار” (تکلیف میں مزہ لینا) کی بہترین مثال ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ عشق میں ملنے والے دکھ اب میری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں اور مجھے ان دکھوں سے انسیت ہو گئی ہے۔ جس طرح نمک زخم پر لگنے سے تکلیف دیتا ہے، غالب کے نزدیک وہ تکلیف اب ایک لذت بن چکی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی تمنائیں زخمی رہیں تاکہ عشق کا جذبہ جوان رہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان مصائب کو گلے لگانا سیکھ لیتا ہے اور غم اس کی شخصیت کو جلا بخشتا ہے۔
بقولِ شاعر:
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
شعر نمبر 6
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا
مشکل الفاظ: جفا (ظلم)، توبہ (باز آ جانا)، زودِ پشیماں (جلد شرمندہ ہونے والا)۔
مفہوم: میرے مرنے کے بعد محبوب نے ظلم و ستم سے توبہ کر لی، افسوس کہ وہ اتنی جلدی شرمندہ ہوا جب میں فائدہ اٹھانے کے لیے زندہ ہی نہ رہا۔
تشریح: اس شعر میں غالب نے طنز کا سہارا لیا ہے۔ محبوب عمر بھر ظلم کرتا رہا اور جب عاشق قتل ہو گیا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ غالب “ہائے” کہہ کر اس پشیمانی پر طنز کر رہے ہیں کہ اس توبہ کا کیا فائدہ جو وقت گزرنے کے بعد کی جائے۔ “زودِ پشیماں” کہہ کر محبوب کی اس صفت کا مذاق اڑایا ہے کہ وہ شرمندہ تو ہوا مگر تب، جب سب کچھ ختم ہو گیا۔ یہ انسانی زندگی کے اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اکثر قدر تب کرتے ہیں جب انسان کھو دیتے ہیں۔
بقولِ شاعر:
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شعر نمبر 7 (مقطع)
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
مشکل الفاظ: چار گرہ (کپڑے کی ایک چھوٹی سی پیمائش)، گریباں (قمیص کا اوپر کا حصہ)۔
مفہوم: غالب! اس تھوڑے سے کپڑے کی قسمت پر کتنا افسوس ہے جسے ایک عاشق کا گریبان بننا نصیب ہوا (کیونکہ عاشق اسے جنون میں پھاڑ دے گا)۔
تشریح: مقطع میں غالب نے اپنی حالتِ زار پر پردہ ڈالتے ہوئے ایک کپڑے کے ٹکڑے سے ہمدردی جتائی ہے۔ جنونِ عشق میں عاشق اپنا گریبان چاک کر دیتا ہے۔ غالب کہتے ہیں کہ وہ کپڑا کتنا بدقسمت ہے جو میرے جسم پر سجا، کیونکہ اسے تو پھٹنا ہی تھا۔ یہاں “چار گرہ” کا لفظ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کی زندگی اور اس کی متاع بہت مختصر ہے، اور وہ بھی عشق کی نذر ہو جاتی ہے۔ یہ غالب کی انفرادیت ہے کہ وہ اپنے غم کو ایک اشارے میں بیان کر کے خاموش ہو جاتے ہیں۔
بقولِ شاعر:
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
