اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم گھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر مسرور ہیں تری

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا شعر نمبر 1 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا مشکل الفاظ کے معانی: مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔ خورشید: سورج۔ ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔ مفہوم: کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری اردو شاعری کے خداے سخن، میر تقی میر کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس ہزار جائے گئی طبع بدگماں میری وہ نقش

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے پہلا شعر: ​ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے ​ مشکل الفاظ کے معانی: ​ارض: زمین ​سما: آسمان ​وسعت: پھیلاؤ، گنجائش ​سما سکے: سما جانا، گنجائش ہونا ​مفہوم: بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے نقش قدم

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا شعر نمبر 1: مقدور ہمیں کب تیرے وصفوں کے رقم کا اک قطعہ ہے یہ تیری ہی لوح و قلم کا مشکل الفاظ کے معانی: مقدور: طاقت، بساط، قدرت۔ وصفوں: خوبیاں، صفات۔ رقم کرنا: لکھنا، تحریر کرنا۔ لوح و قلم: تختہ اور قلم (مراد تقدیر لکھنے والا

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا حقا! کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا اُس مسندِ عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے کیا تاب؟ گزر ہووے تعقل کے قدم کا بستے ہیں ترے سایہ میں سب شیخ و برہمن آباد ہے تجھ سے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے   شعر نمبر 1 زمین سے رشتہ دیوار و در بھی رکھنا ہے اسی میں اپنا کوئی نام و بر بھی رکھنا ہے مشکل الفاظ کے معانی: دیوار و در: گھر، مکان، ٹھکانہ۔ رشتہ: تعلق، واسطہ۔ نام و بر (نام و نشاں): پہچان، اپنی موجودگی کا