مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
شعر نمبر 1:
مقدور ہمیں کب تیرے وصفوں کے رقم کا
اک قطعہ ہے یہ تیری ہی لوح و قلم کا
مشکل الفاظ کے معانی:
وصفوں: خوبیاں، صفات۔
رقم کرنا: لکھنا، تحریر کرنا۔
لوح و قلم: تختہ اور قلم (مراد تقدیر لکھنے والا قلم)۔
مفہوم:
اے باری تعالیٰ! ہم انسانوں کی یہ بساط ہی نہیں کہ ہم تیری بے پناہ صفات کو تحریر کر سکیں، یہ تو تیری ہی عطا ہے کہ ہم کچھ لکھنے کے قابل ہیں۔
تشریح:
خواجہ میر درد اردو شاعری کے سب سے بڑے صوفی شاعر مانے جاتے ہیں۔ اس شعر میں وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اپنی کم مائیگی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ! تیری ذات اتنی بلند اور تیری صفات اتنی لا محدود ہیں کہ مجھ جیسا عاجز بندہ انہیں الفاظ میں پرونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ انسان کی عقل اور اس کا فہم بہت محدود ہے، جبکہ تیری ذات زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہے۔ اگر میں تیری حمد و ثنا میں چند الفاظ لکھ بھی پاتا ہوں تو یہ میری اپنی قابلیت نہیں بلکہ یہ تیری ہی دی ہوئی توفیق ہے۔ قلم کی جنبش سے لے کر کاغذ کی وسعت تک سب کچھ تیرا ہی پیدا کردہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پوری کائنات تیری حمد کا ایک قطعہ ہے اور ہم جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ اسی عظیم لوح و قلم کا ایک ادنیٰ سا حصہ ہے جو تو نے کائنات کی تقدیر لکھنے کے لیے استعمال کیا۔ درد یہاں یہ نکتہ واضح کر رہے ہیں کہ خالق کی تعریف کرنا مخلوق کے بس میں نہیں، کیونکہ تعریف کرنے والا خود اپنے خالق کا محتاج ہے۔ ہم جتنا بھی علم حاصل کر لیں، تیری جلالت اور تیرے حسنِ کامل کا ایک فیصد بھی بیان نہیں کر سکتے۔ یہ احساسِ عجز ہی اصل میں بندگی کی معراج ہے۔ جب بندہ یہ مان لیتا ہے کہ وہ کچھ نہیں اور سب کچھ اللہ ہی ہے، تو وہ معرفت کی منزل پا لیتا ہے۔
شعر نمبر 2:
عزت سے تیری جلوہ نما تاب و تواں ہے
کس کی کہ وہاں تک گزر ہووے قدم کا
مشکل الفاظ کے معانی:
عزت: عظمت، بڑائی، جاہ و جلال۔
جلوہ نما: ظاہر ہونا، روشن ہونا۔
تاب و تواں: قوت، طاقت، ہمت۔
گزر: رسائی، پہنچ۔
مفہوم:
تیری عظمت کی وجہ سے ہر طرف تیرا ہی نور ظاہر ہے، لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ تیری ذات کی اصل حقیقت تک پہنچ سکے۔
تشریح:
اس شعر میں خواجہ میر درد اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی بے پناہ طاقت کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے نور سے منور ہے۔ سورج کی روشنی ہو یا ستاروں کی چمک، یہ سب اللہ کی عظمت کے جلوے ہیں۔ لیکن ان جلووں کے باوجود انسانی عقل کی پرواز بہت مختصر ہے۔ انسان کتنا ہی صاحبِ علم کیوں نہ ہو جائے، وہ اللہ کی ذات کی حقیقت اور اس کے مکمل ادراک تک نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ نے اپنی عظمت کے ایسے پردے ڈال رکھے ہیں کہ وہاں تک کسی کے قدموں کی رسائی ممکن نہیں۔ “گزر ہووے قدم کا” سے مراد یہ ہے کہ انسان کی سوچ اور فکر بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں اللہ کی ذات کا اصل مقام ہے۔ یہ کائنات اللہ کی قدرت کا ایک ادنیٰ سا کرشمہ ہے، جبکہ اس کی اصل حقیقت اتنی وسیع ہے کہ انسانی تخیل وہاں جا کر دم توڑ دیتا ہے۔ اللہ کا جلال ایسا ہے کہ اس کے سامنے ہر طاقتور کمزور اور ہر روشن چیز ہیچ ہے۔ درد یہاں صوفیانہ رنگ میں یہ سمجھا رہے ہیں کہ اللہ کو پانے کے لیے عقل نہیں بلکہ عشقِ صادق کی ضرورت ہے، کیونکہ عقل تو راستے میں ہی تھک کر رہ جاتی ہے۔ اللہ کی بڑائی کا اعتراف کرنا ہی انسانیت کا سب سے بڑا کمال ہے۔
شعر نمبر 3:
بسے ہیں تیرے سائے میں سب دیر و حرم کے
تجھی کو ہے گھر سب دیر و حرم کا
مشکل الفاظ کے معانی:
دیر و حرم: مندر اور مسجد (مراد تمام مذاہب)۔
بسے ہیں: آباد ہیں، رہ رہے ہیں۔
سایہ: پناہ، حفاظت، رحمت۔
مفہوم:
دنیا کے تمام انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب یا عبادت گاہ سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب تیرے ہی زیرِ سایہ اور تیری ہی پناہ میں ہیں۔
تشریح:
خواجہ میر درد اس شعر میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت اور اس کی ہمہ گیریت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ! تو پوری کائنات کا پالنے والا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں اور جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں، ان سب میں بسنے والے تیرے ہی بندے ہیں۔ “دیر و حرم” کی علامت سے مراد یہ ہے کہ چاہے کوئی مندر میں بیٹھا ہو یا مسجد میں، وہ حقیقت میں تجھی کو تلاش کر رہا ہے اور تجھی سے مانگ رہا ہے۔ تو کسی ایک گروہ یا قوم کا خدا نہیں بلکہ تو رب العالمین ہے۔ تیری رحمت کا سایہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں مسلم اور غیر مسلم سبھی شامل ہیں۔ ہر انسان اپنی اپنی سمجھ اور طریقے کے مطابق تیرے ہی سامنے سر بسجود ہے۔ یہ تیری ہی کریمی ہے کہ تو اپنے منکروں کو بھی رزق دیتا ہے اور انہیں اپنی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا۔ کائنات کی ہر سمت تیرا ہی گھر ہے کیونکہ ہر جگہ تیری ہی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ انسانوں نے اپنی آسانی کے لیے حدود مقرر کر لی ہیں، لیکن تیرے لیے کوئی حد نہیں۔ تو ہر جگہ موجود ہے اور ہر دل میں بستا ہے۔ درد کا یہ اندازِ فکر صلحِ کل اور انسانیت پسندی کا درس دیتا ہے کہ تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے اور سب اسی کی رحمت کے محتاج ہیں۔
شعر نمبر 4:
ڈر دل میں تیرے غضب کا اور بھروسہ
ہے تو ہے تیرے کرم کا
مشکل الفاظ کے معانی:
غضب: غصہ، ناراضگی، عذاب۔
بھروسہ: یقین، توکل، اعتماد۔
کرم: مہربانی، بخشش، عنایت۔
مفہوم:
میرے دل میں جہاں تیری ناراضگی اور عذاب کا ڈر ہے، وہیں مجھے تیری رحمت اور بخشش پر پورا یقین اور بھروسہ بھی ہے۔
تشریح:
اس شعر میں خواجہ میر درد نے انسانی بندگی کی دو اہم حالتوں یعنی “خوف” اور “رجا” (امید) کو یکجا کر دیا ہے۔ ایک سچے مومن کی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے بھی ڈرتا ہے اور اس کی رحمت سے بھی پرامید رہتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں ایک گناہگار بندہ ہوں اور مجھے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں میری کسی غلطی پر میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔ یہ ڈر مجھے برائیوں سے روکتا ہے اور مجھے اپنے نفس پر قابو پانے کی ہمت دیتا ہے۔ لیکن دوسری طرف، میرا دل مایوس نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تیری صفتِ رحیمی میرے گناہوں سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ اگر مجھ سے نادانی میں کوئی خطا ہو بھی گئی تو مجھے تیری بخشش پر پورا بھروسہ ہے۔ تو وہ ہستی ہے جو توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ یہ بھروسہ ہی میری زندگی کا اصل سہارا ہے۔ انسان کمزور ہے، وہ بار بار پھسلتا ہے، لیکن تیرا کرم اسے تھام لیتا ہے۔ درد یہاں یہ واضح کر رہے ہیں کہ صرف ڈر انسان کو مایوس کر دیتا ہے اور صرف بھروسہ اسے خود سر بنا دیتا ہے، اس لیے ان دونوں کے درمیان توازن ہی اصل ایمان ہے۔ میں تیری رضا چاہتا ہوں اور تیرے ہی کرم کا طلبگار ہوں۔
شعر نمبر 5:
خالی ہے بھلا بحر سے کوئی عالم کا؟
بنا ہے حباب ایک ایک قطرہ اس غم کا
مشکل الفاظ کے معانی:
بحر: سمندر۔
عالم: دنیا، کائنات۔
حباب: پانی کا بلبلہ۔
غم: دکھ، یا وجود کی عارضی حالت۔
مفہوم:
دنیا کی کوئی بھی جگہ اللہ کی قدرت کے سمندر سے خالی نہیں ہے، اور انسان کا وجود اس سمندر میں ایک عارضی بلبلے کی طرح ہے۔
تشریح:
اس شعر میں خواجہ میر درد نے کائنات کی حقیقت اور انسانی زندگی کی ناپائیداری کو نہایت خوبصورت استعارے کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ کائنات کو ایک وسیع سمندر سے تشبیہ دیتے ہیں جو اللہ کی قدرت اور اس کی ذات کا مظہر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا دنیا میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں اللہ موجود نہ ہو؟ جس طرح سمندر کا پانی ہر طرف پھیلا ہوتا ہے، اسی طرح اللہ کا نور اور اس کا وجود پوری کائنات پر محیط ہے۔ دوسری طرف وہ انسانی زندگی کو پانی کے بلبلے (حباب) سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بلبلہ پانی کی سطح پر پیدا ہوتا ہے، چند لمحے چمکتا ہے اور پھر دوبارہ پانی میں مل کر اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔ ہماری زندگی کی حقیقت بھی یہی ہے۔ ہم اس دنیا میں ایک مختصر وقت کے لیے آئے ہیں اور آخر کار ہمیں اپنے اصل یعنی اللہ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ اس مادی وجود کا غم اور اس کی تکالیف بھی اسی عارضی پن کا حصہ ہیں۔ انسان جتنا بھی خود کو اہم سمجھے، حقیقت میں وہ اس عظیم کائنات میں ایک حقیر سے قطرے کی مانند ہے جو اپنے وجود کے لیے سمندر کا محتاج ہے۔ درد یہاں فنا اور بقا کا فلسفہ سمجھا رہے ہیں کہ صرف اللہ کی ذات باقی رہنے والی ہے اور باقی سب کچھ ختم ہو جانے والا ہے۔
