تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

شعر نمبر 1

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔

خورشید: سورج۔

ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔

مفہوم:

کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی اور خوبصورتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے حسن کا ادھار لیا ہوا عکس ہے۔ سورج کی روشنی بھی اس کے حقیقی نور کا ایک ادنیٰ سا ظہور ہے۔

تشریح:

میر تقی میر اس شعر میں وحدت الوجود کے فلسفے کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے اپنی اصل میں ہیچ ہے اور اس کی تمام تر خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ سورج جو تمام دنیا کو روشن کرتا ہے، اس کی اپنی کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ باری تعالیٰ کے نور کا ایک چھوٹا سا ذرہ ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات کی ہر رنگینی، پھولوں کی مہک اور ستاروں کی چمک دراصل اس خالقِ حقیقی کے حسن کا پرتو ہے۔ ہم جسے حسنِ فطرت کہتے ہیں، وہ دراصل صانعِ حقیقی کی کاریگری ہے۔ یہ نور “مستعار” ہے، یعنی یہ چیزوں کی اپنی صفت نہیں بلکہ مانگی ہوئی روشنی ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو پا لیتا ہے تو اسے ہر شے میں خدا کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے۔ میر نے یہاں سورج جیسی عظیم الشان مخلوق کو بھی ایک “ذرہ” قرار دے کر خدا کی عظمت اور بڑائی کو بیان کیا ہے۔ یہ شعر تصوف کے اس نظریے کی عکاسی کرتا ہے کہ کائنات ایک آئینہ ہے جس میں محبوبِ حقیقی کا عکس نظر آتا ہے۔ اگر وہ اپنی تجلی ہٹا لے تو پوری کائنات اندھیرے میں ڈوب جائے اور اس کا وجود ختم ہو جائے۔

بقول شاعر:

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

شعر نمبر 2

ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبور تھا

پیدا ہر ایک نالے سے شورِ نشور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

ہنگامہ گرم کن: جوش پیدا کرنے والا، شور مچانے والا۔

دلِ ناصبور: بے صبر دل، بے قرار دل۔

نالہ: آہ و بکا، رونا۔

شورِ نشور: قیامت کا شور۔

مفہوم:

میرا بے قرار دل اس قدر درد سے بھرا ہوا تھا کہ میری ہر آہ اور ہر فریاد میں قیامت کا شور برپا تھا۔

تشریح:

اس شعر میں میر اپنے دل کی بے چینی اور سوزِ عشق کی شدت کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا دل عشق کی آگ میں اس قدر تڑپ رہا تھا کہ اس کے اندر ایک مستقل ہنگامہ برپا تھا۔ “دلِ ناصبور” سے مراد وہ دل ہے جس میں محبوب کی جدائی کا دکھ سمایا ہو اور اسے کسی پل چین نہ آئے۔ شاعر جب اس بے قراری میں آہ بھرتا ہے یا نالہ و فریاد کرتا ہے، تو اس کی آواز میں وہ تاثیر اور درد ہوتا ہے جو قیامت کے شور کی مانند سنائی دیتا ہے۔ یہاں “شورِ نشور” سے مراد دل کی وہ کیفیت ہے جہاں سکون کا نام و نشان نہ ہو۔ میر کی شاعری میں غم اور الم کا جو عنصر پایا جاتا ہے، یہ شعر اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ اپنے انفرادی دکھ کو کائناتی دکھ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ عاشق کی ایک آہ پوری بستی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ تڑپ صرف ظاہری نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ عشقِ صادق ہے جو انسان کے وجود کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے اور اسے ہر وقت نالہ و شیون پر مجبور رکھتا ہے۔

بقول شاعر:

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے

دل ہوا ہے چراغ مفلس کا

شعر نمبر 3

پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں

معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

آپ کو پہنچنا: اپنی حقیقت کو پہچاننا، خود شناسی۔

خدا کے تئیں: خدا تک۔

مفہوم:

جب میں نے اپنی ذات کو پہچانا، تب ہی مجھے خدا کی معرفت حاصل ہوئی۔ تب مجھے احساس ہوا کہ میں حقیقت سے کتنا دور بھٹک رہا تھا۔

تشریح:

یہ شعر مشہور صوفیانہ مقولے “جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا” کی شعری تفسیر ہے۔ میر فرماتے ہیں کہ انسان خدا کو باہر کی دنیا میں ڈھونڈتا پھرتا ہے، کبھی وہ اسے مسجد میں تلاش کرتا ہے اور کبھی مندر میں، لیکن خدا تو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ جب میں نے اپنے اندر جھانکا اور اپنی حقیقت کو سمجھا، تو مجھے ادراک ہوا کہ میرا وجود ہی اس کے نور کا مظہر ہے۔ اپنی ذات کی پہچان ہی دراصل معرفتِ الہیٰ کا راستہ ہے۔ شاعر کو اس بات کا افسوس ہے کہ وہ عمر بھر خود سے دور رہا اور باہر کی دنیا میں بھٹکتا رہا۔ “بہت میں بھی دور تھا” سے مراد وہ حجابات ہیں جو انسان اور خدا کے درمیان حائل ہوتے ہیں اور یہ حجابات انسان کی اپنی انا اور خودی کے ہوتے ہیں۔ جب انا مٹ جاتی ہے تو بندہ اور خدا ایک ہو جاتے ہیں۔ خود شناسی وہ پہلی سیڑھی ہے جو انسان کو کائنات کے اسرار و رموز سے واقف کرواتی ہے اور اسے اس مقام پر لے آتی ہے جہاں اسے ہر طرف خدا ہی خدا نظر آتا ہے۔

بقول شاعر:

من تو شدی تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

شعر نمبر 4

آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم

یک شعلہ برقِ خرمنِ صد کوہِ طور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

کلیم: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لقب۔

برقِ خرمن: ڈھیر کو جلانے والی بجلی۔

صد کوہِ طور: سو طور پہاڑ۔

مفہوم:

اے موسیٰ! میرے دل کی آگ ابھی پوری طرح بلند نہیں ہوئی تھی، ورنہ میرے دل کے عشق کا ایک شعلہ سینکڑوں طور پہاڑوں کو جلا کر راکھ کرنے کے لیے کافی تھا۔

تشریح:

میر تقی میر اس شعر میں عاشق کے دل کی تڑپ اور عشق کی آگ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کے تناظر میں بیان کر رہے ہیں۔ روایت ہے کہ طور پہاڑ پر خدا کی ایک تجلی نے اسے جلا کر سرمہ کر دیا تھا اور حضرت موسیٰ بے ہوش ہو گئے تھے۔ میر کہتے ہیں کہ اے کلیم! تم تو ایک تجلی نہ سہہ سکے، جبکہ عاشق کے دل میں تو عشق کی وہ آگ لگی ہوتی ہے جو ہزاروں طور پہاڑوں کو پل بھر میں بھسم کر سکتی ہے۔ یہاں شاعر نے انسانی دل کی وسعت اور اس میں موجود عشق کی طاقت کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میرے دل کی تڑپ اپنے عروج پر ہوتی تو کائنات کی کوئی شے اس کی تپش برداشت نہ کر پاتی۔ یہ عاشق کا دعویٰ نہیں بلکہ اس کی داخلی کیفیت کا بیان ہے کہ عشقِ حقیقی میں وہ قوت ہے جو مادیت کے ہر پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے۔ شاعر نے اپنی ذات کے کرب کو ایک ایسی آفاقی طاقت کے طور پر پیش کیا ہے جو معجزات دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بقول شاعر:

عشق کی آگ وہ آگ ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

شعر نمبر 5

مجلس میں رات ایک ترے پرتوے بغیر

کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

پرتو: عکس، سایہ، روشنی۔

بے حضور: جس کا دل محفل میں نہ ہو، غیر حاضر، بے چین۔

مفہوم:

کل رات محفل میں تمہارے حسن کی روشنی کے بغیر شمع ہو یا پروانہ، ہر کوئی اداس اور بے چین نظر آ رہا تھا۔

تشریح:

اس شعر میں محبوب کی اہمیت کو محفل کی رونق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ میر کہتے ہیں کہ اے محبوب! تیری موجودگی ہی محفل کی اصل جان ہے۔ اگر تو نہ ہو تو محفل کے تمام اجزاء بے جان اور بے اثر نظر آتے ہیں۔ رات کی مجلس میں شمع تو جل رہی تھی اور پروانہ بھی وہاں موجود تھا، لیکن تمہارے حسن کا وہ خاص عکس (پرتو) غائب تھا جو ہر شے کو زندگی بخشتا ہے۔ شمع کی روشنی ماند لگ رہی تھی اور پتنگا بھی اس والہانہ پن کے ساتھ قربان نہیں ہو رہا تھا جو تیری موجودگی میں ہوتا ہے۔ “بے حضور” کا لفظ یہاں بہت گہرا ہے، جس کا مطلب ہے کہ سب وہاں جسمانی طور پر تو موجود تھے لیکن ان کی روح اور توجہ غائب تھی۔ یعنی محبوب کے بغیر کائنات کا ہر حسن ادھورا اور ہر کشش پھیکی ہے۔ محبوب ہی وہ مرکزی نکتہ ہے جس کے گرد عاشق کی تمام دنیا گھومتی ہے۔ اگر وہ مرکز ہی موجود نہ ہو تو پوری ترتیب بگڑ جاتی ہے اور ہر کوئی اپنی جگہ پر ہونے کے باوجود غیر حاضر محسوس ہوتا ہے۔

بقول شاعر:

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

شعر نمبر 6

اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا

دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

فصل: موسم (مراد موسمِ بہار)۔

گل کا گریباں ہوا ہونا: پھول کا کھلنا (استعارہ: پاگل پن میں کپڑے پھاڑنا)۔

ذی شعور: عقل مند، سمجھدار۔

مفہوم:

بہار کے اس موسم میں جہاں خود پھول بھی اپنا گریباں چاک کر رہے ہیں، اگر کوئی عقل مند انسان بھی دیوانہ ہو گیا ہے تو اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔

تشریح:

اردو شاعری میں بہار کے موسم کو دیوانگی اور وحشت کا موسم قرار دیا گیا ہے۔ میر کہتے ہیں کہ جب بہار آتی ہے تو ہر طرف ہریالی اور رنگینی چھا جاتی ہے، لیکن یہ موسم عاشقوں کے لیے بے قراری لاتا ہے۔ پھول کا کھلنا دراصل اس کے گریباں کا چاک ہونا ہے۔ جب پھول جیسی نازک اور بے جان چیز بھی بہار کی شدت سے متاثر ہو کر اپنا گریباں پھاڑ لیتی ہے، تو انسان جو صاحبِ احساس ہے، اس کا دیوانہ ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہاں میر ایک بہت بڑی سچائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ معاشرے میں بہت عقل مند اور “ذی شعور” سمجھے جاتے تھے، عشق کی تپش اور بہار کی وحشت نے انہیں بھی پاگل کر دیا۔ یہ دیوانگی دراصل شعور کی آخری حد ہے جہاں عقل جواب دے جاتی ہے اور صرف جذبہ باقی رہ جاتا ہے۔ عشق کی دنیا میں عقل کا کوئی دخل نہیں، وہاں تو بڑے بڑے دانا بھی اپنا ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔

بقول شاعر:

عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے

عشق بیچارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم

شعر نمبر 7

منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا

اس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

منعم: امیر، دولت مند۔

قاقم و سنجاب: قیمتی جانوروں کی کھال سے بنے گرم کپڑے۔

رند: بے باک، مست، فقیر منش۔

عور: ننگا، مفلس۔

مفہوم:

اگر کسی امیر کے پاس سردی سے بچنے کے لیے قیمتی لبادے تھے تو کیا ہوا، اس غریب اور مفلس انسان کی رات بھی کٹ ہی گئی جس کے پاس تن ڈھانپنے کو کپڑا تک نہ تھا۔

تشریح:

اس شعر میں دنیا کی بے ثباتی اور قناعت پسندی کا درس دیا گیا ہے۔ میر زندگی کے ایک کڑوے سچ کو بیان کرتے ہیں کہ وقت ہر حال میں گزر جاتا ہے، چاہے انسان عیش و عشرت میں ہو یا تکلیف میں۔ ایک امیر آدمی (منعم) اپنے پاس موجود قیمتی لباس (قاقم و سنجاب) پر فخر کر سکتا ہے کہ اس نے سردی بہت آرام سے گزاری، لیکن اس کے مقابلے میں وہ “رند” یا درویش صفت انسان جو بالکل “عور” (ننگا) تھا، اس کی رات بھی آخر کار بیت گئی۔ صبح ہونے پر دونوں برابر ہو گئے۔ یہ شعر انسانی زندگی کی دو انتہاؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ میر بتانا چاہتے ہیں کہ مادی اشیاء کی اہمیت عارضی ہے۔ موت اور وقت کسی میں تمیز نہیں کرتے۔ آخرت کے سفر میں یا وقت کے بہاؤ میں نہ تو امیر کی دولت کام آتی ہے اور نہ ہی غریب کی مفلسی اسے راستہ روکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اصل چیز انسان کا ظرف اور اس کی باطنی حالت ہے۔

بقول شاعر:

نہ گورِ سکندر نہ ہے قبرِ دارا

مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

شعر نمبر 8

ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر

اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

سپہر: آسمان، قسمت۔

شوخ: محبوب، شرارتی، بے پروا۔

راہ پہ لانا: ٹھیک کرنا، متوجہ کرنا۔

مفہوم:

اے آسمان! اگر ہم عشق میں برباد ہو کر خاک میں مل گئے تو کوئی بات نہیں، لیکن تجھے چاہیے تھا کہ اس بے پروا محبوب کو بھی تھوڑا سا عشق کا سبق سکھاتا۔

تشریح:

میر تقی میر اس شعر میں اپنی قسمت اور آسمان سے شکوہ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عشق میں اپنا سب کچھ لٹا دیا، یہاں تک کہ میں خاک نشین ہو گیا اور میری ہستی مٹ گئی، مجھے اپنی بربادی کا کوئی غم نہیں کیونکہ یہ تو عشق کا دستور ہے۔ لیکن مجھے شکایت اس بات کی ہے کہ محبوب اب تک ویسا ہی بے پروا اور ظالم ہے۔ اے گردشِ ایام! تو نے مجھے تو سبق سکھا دیا لیکن اس “شوخ” کو راہِ راست پر نہ لایا، اسے یہ نہ بتایا کہ محبت کرنے والوں کا درد کیا ہوتا ہے۔ عاشق چاہتا ہے کہ محبوب کو بھی تھوڑا سا احساسِ زیاں ہو تاکہ اسے پتہ چلے کہ کسی کا دل توڑنا کیا ہوتا ہے۔ یہاں میر کی انا اور ان کا کرب ایک ساتھ جھلک رہے ہیں۔ وہ اپنی مٹی ہونے کو تسلیم کرتے ہیں لیکن محبوب کی بے نیازی انہیں تڑپاتی ہے۔

بقول شاعر:

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ کسی سے عشق تھا

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

شعر نمبر 9

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا

یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

کاسۂ سر: کھوپڑی۔

یکسر: مکمل طور پر۔

استخوان: ہڈیاں۔

شکستوں سے چور: ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔

مفہوم:

کل چلتے چلتے میرا پاؤں ایک انسانی کھوپڑی پر پڑ گیا جو ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے بالکل چور چور ہو چکی تھی۔

تشریح:

یہ شعر میر کی “عبرت نگاری” کا بہترین نمونہ ہے۔ وہ ایک منظر کشی کرتے ہیں کہ میں راہ چل رہا تھا کہ اچانک میرا پاؤں ایک پرانی کھوپڑی سے ٹکرایا۔ وہ کھوپڑی وقت کی مار اور مٹی کے نیچے دبے رہنے کی وجہ سے انتہائی خستہ حال تھی۔ یہ منظر انسان کو اپنی اوقات یاد دلانے کے لیے کافی ہے۔ میر یہاں زندگی کی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں کہ یہ انسان جو آج غرور سے زمین پر چلتا ہے، کل کو اسے بھی اسی مٹی کا رزق بننا ہے اور اس کا سر جس پر اسے آج بڑا ناز ہے، راستوں کی خاک چھانے گا۔ یہ کھوپڑی کسی بادشاہ کی بھی ہو سکتی ہے اور کسی فقیر کی بھی، لیکن موت کے بعد دونوں کی حالت ایک جیسی ہو جاتی ہے۔ ہڈیوں کا چور چور ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وقت ہر غرور کو توڑ دیتا ہے۔

بقول شاعر:

جس سر کو آج ہے یہاں تاج وری کا دعویٰ

کل اس پہ یہیں شور ہے نوحہ گری کا

شعر نمبر 10

کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر

میں بھی کبھو کسو کا سرِ پر غرور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

بے خبر: غافل، نادان۔

کبھو کسو کا: کبھی کسی کا۔

سرِ پر غرور: تکبر سے بھرا ہوا سر۔

مفہوم:

اس کھوپڑی نے گویا مجھ سے کلام کیا اور کہا کہ اے غافل انسان! ذرا سنبھل کر چل، میں بھی کبھی کسی انسان کا وہ سر تھا جو تکبر اور غرور سے بھرا ہوا تھا۔

تشریح:

یہ پچھلے شعر کا تسلسل ہے اور میر کی شاعری کے مشہور ترین اشعار میں سے ایک ہے۔ جب شاعر کا پاؤں اس کھوپڑی پر پڑتا ہے، تو اسے ایک آواز سنائی دیتی ہے (یہ آواز دراصل شاعر کی اپنی بصیرت ہے)۔ وہ کھوپڑی پکار اٹھتی ہے کہ اے راہ چلنے والے! مجھے ٹھوکر نہ مار، ذرا دیکھ کر چل۔ میں ہمیشہ سے ایسی بے وقعت اور ٹوٹی ہوئی نہیں تھی۔ ایک وقت تھا جب میرے اندر بھی دماغ تھا، مجھ پر بھی بال تھے اور میں بھی غرور کے مارے زمین پر نظر نہیں رکھتا تھا۔ میں بھی کسی کا “سرِ پر غرور” تھا جسے اپنی طاقت اور حسن پر بڑا ناز تھا۔ لیکن آج دیکھو کہ میں راہوں کی دھول بن چکا ہوں اور کوئی بھی مجھے ٹھوکر مار کر گزر جاتا ہے۔ یہ شعر انسان کو عاجزی اور انکساری کا درس دیتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ دنیاوی جاہ و جلال سب فانی ہے۔ ہر عروج کو زوال ہے، اس لیے انسان کو اپنے اوپر غرور نہیں کرنا چاہیے۔

بقول شاعر:

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

شعر نمبر 11 (مقطع)

تھا وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہمیں میں میرؔ

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

مشکل الفاظ کے معانی:

رشکِ حورِ بہشتی: جنت کی حور جس پر رشک کرے۔

فہم: عقل، سمجھ۔

قصور: غلطی۔

مفہوم:

اے میر! وہ محبوب تو جنت کی حوروں جیسا خوبصورت تھا اور وہ ہمارے درمیان ہی موجود تھا، یہ تو ہماری عقل کا قصور تھا کہ ہم اسے پہچان نہ سکے۔

تشریح:

غزل کے آخری شعر میں میر اپنی کم فہمی کا اعتراف کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محبوب کا حسن تو ایسا تھا کہ جنت کی حوریں بھی اس پر رشک کریں۔ وہ کوئی چھپی ہوئی حقیقت نہیں تھی بلکہ وہ “ہمیں میں” یعنی ہمارے درمیان ہی موجود تھا۔ لیکن افسوس کہ ہم اپنی دنیاوی الجھنوں اور ناقص عقل کی وجہ سے اس کے مقام اور مرتبے کو نہ پہچان سکے۔ جب وہ سامنے تھا تو ہم نے قدر نہ کی اور اب جب وہ دور ہے تو ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے۔ یہ شعر انسانی فطرت کی عکاسی کرتا ہے کہ انسان اکثر اپنے قریب موجود نعمتوں اور خوبصورتیوں کی قدر نہیں کرتا۔ یہاں محبوب سے مراد محبوبِ حقیقی (خدا) بھی ہو سکتا ہے جو انسان کے پاس ہی ہوتا ہے لیکن انسان کی عقل پر پڑے ہوئے پردے اسے دیکھنے نہیں دیتے۔ میر نے بڑی خوبصورتی سے اپنی عقل کو قصور وار ٹھہرایا ہے کہ سارا حسن سامنے تھا مگر ہم ہی اندھے بنے رہے۔

بقول شاعر:

تیرے قریب رہ کر بھی نہ جانے کیوں

تیرے وصال کی حسرت وہی رہیں

Leave a Reply