اب دل ہے مقام بے کسی کا
نہ اب دل ہے مقام بے کسی کا اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لُو بھلا کسی کا پھر دیکھتے عیش آدمی کا بنتا جو فلک مری خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوس
نہ اب دل ہے مقام بے کسی کا اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لُو بھلا کسی کا پھر دیکھتے عیش آدمی کا بنتا جو فلک مری خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوس
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں مرزا غالب کی یہ غزل اردو ادب کے شاہکار پاروں میں سے ایک ہے۔ اس میں انسانی جذبات، فلسفہِ زندگی اور عشق کے نازک پہلوؤں کو جس مہارت سے بیان کیا گیا ہے، وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔ ذیل
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب کی یہ غزل اردو ادب کا شاہکار ہے جس میں انسانی جذبات، فلسفہ اور شوخی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے
چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا
چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا خواجہ حیدر علی آتش اردو زبان کے ان شعراء میں سے ہیں جن کے کلام میں وقار، خودداری اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔ ان کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے، جس میں محبوب کے حسن، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے
اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم حسرت موہانی کی خوبصورت غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم۔ حسرت موہانی اردو شاعری میں “رئیس المتغزلین” کے لقب سے جانے جاتے ہیں، جن کی شاعری میں عشق کی پاکیزگی اور سیاست کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔ شعر نمبر 1 اپنا سا شوق