دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔

آپ کی پیش کردہ غزل مولانا حسرت موہانی کے صوفیانہ رنگ اور “مشقِ سخن” و “چکی کی مشقت” کے حسین امتزاج کی عکاس ہے۔ ذیل میں اس غزل کا مکمل تجزیہ، تشریح اور تعارف پیش ہے۔

شاعر کا تعارف: مولانا حسرت موہانی

سید فضل الحسن، تخلص حسرت، اور قصبہ موہان کی نسبت سے موہانی کہلائے۔ آپ 1881ء میں پیدا ہوئے اور 1951ء میں وفات پائی۔ آپ اردو کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں “رئیس المتغزلین” کا خطاب دیا گیا۔ حسرت کی شخصیت دو متضاد دھاروں کا مجموعہ تھی: ایک طرف وہ کٹر انقلابی اور مجاہدِ آزادی تھے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، اور دوسری طرف وہ غزل کے وہ نازک خیال شاعر تھے جنہوں نے مٹتی ہوئی کلاسیکی غزل میں نئی روح پھونکی۔ ان کی شاعری میں پاکیزہ جذبات، سادگی، اور سوز و گداز نمایاں ہے۔ وہ عشقِ مجازی کو عشقِ حقیقی کا وسیلہ سمجھتے تھے۔

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا

طلب میری بہت کچھ ہے، مگر کیا

کرم تیرا ہے اک دریا عطا کا

کہاں تک ناز اٹھائے آخر اے حسن

ہوس تیرے مزاج خود ستا کا

نہیں معلوم کیا اے شاہ خوباں

تجھے کچھ حال اپنے مبتلا کا

بجائے اسم اعظم آپ کا نام

وظیفہ ہے مرا صبح و مسا کا

غضب کا سامنا ہے عاشقوں کو

دیار حق میں افواج بلا کا

نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم

تقاضا تھا یہی خوئے وفا کا

گنہ گارو چلو عفو الٰہی

بہت مشتاق ہے عرض خطا کا

تری محفل میں اہل دل کو جلوہ

نظر آ جائے گا شان خدا کا

اٹھایا ہے مزا دل نے بہت کچھ

محبت کے غم راحت فزا کا

جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔ

تمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا

Leave a Reply