ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

پہلا شعر:

​ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے


  • مشکل الفاظ کے معانی:

    • ​ارض: زمین
    • ​سما: آسمان
    • ​وسعت: پھیلاؤ، گنجائش
    • ​سما سکے: سما جانا، گنجائش ہونا
  • ​مفہوم:

  • بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی عظیم اور وسیع ہے کہ زمین اور آسمان جیسی بڑی کائنات بھی اسے اپنے اندر نہیں سمو سکتیں، لیکن اللہ نے انسان کے دل کو اتنی وسعت عطا کی ہے کہ وہ وہاں سما جاتا ہے۔
  • ​تشریح:

  • خواجہ میر درد اردو شاعری میں تصوف کے سب سے بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس شعر میں وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور انسانی دل کی رفعت کا تقابل کر رہے ہیں۔ شاعر کا کہنا ہے کہ یہ کائنات جس کی وسعتوں کا کوئی کنارہ نہیں، جہاں زمین کا پھیلاؤ اور آسمانوں کی بلندیاں انسان کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں، یہ سب مل کر بھی اس خالقِ حقیقی کی وسعتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ زمین و آسمان اپنی تمام تر پہنائیوں کے باوجود اس ذاتِ باری تعالیٰ کو اپنے اندر جگہ دینے سے قاصر ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی نعمت عطا کی ہے جسے ‘دل’ کہتے ہیں۔ یہ دل دیکھنے میں تو گوشت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے لیکن اس کی روحانی وسعتیں کائنات سے بھی زیادہ ہیں۔ شاعر یہاں اس حدیثِ قدسی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ “میں (اللہ) زمین اور آسمان میں نہیں سماتا بلکہ اپنے بندہِ مومن کے دل میں سماتا ہوں”۔ بقول شاعر، انسان کا دل اگر عشقِ الٰہی سے منور ہو جائے تو وہ اس لامتناہی ذات کا مسکن بن جاتا ہے۔ زمین اور آسمان تو مادی چیزیں ہیں جبکہ انسانی دل ایک روحانی مرکز ہے، اسی لیے جو ذاتِ باری تعالیٰ پوری کائنات میں نہیں سما سکتی، وہ ایک سچے عاشق کے دل میں سما جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لیے باہر کی دنیا میں بھٹکنے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے، کیونکہ دل ہی وہ آئینہ ہے جہاں اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔

​دوسرا شعر:

​وحدت میں تیری حرفِ دوئی کا نہ آ سکے

آئینہ کیا مجال کہ تجھ سا دکھا سکے


  • مشکل الفاظ

    کے معانی:

    • ​وحدت: ایک ہونا، اکیلا ہونا
    • ​حرفِ دوئی: دو ہونے کا وہم یا بات، شرک
    • ​مجال: ہمت، طاقت
    • ​تجھ سا: تیرے جیسا
  • ​مفہوم:

  • بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے اور اس کی وحدانیت میں دوسرے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ آئینہ بھی اس قابل نہیں کہ وہ اللہ کا عکس دکھا سکے، کیونکہ عکس دکھانے کا مطلب دو ہونا ہوتا ہے۔
  • ​تشریح:

  • اس شعر میں خواجہ میر درد اللہ تعالیٰ کی توحید اور وحدانیت کو ایک بہت ہی باریک نکتے کے ذریعے بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ! تو اپنی ذات میں اکیلا اور واحد ہے اور تیری اس وحدانیت میں کسی دوسرے کی شرکت کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ ‘حرفِ دوئی’ سے مراد کسی دوسری طاقت یا ہستی کا وجود ہے، جس کی اللہ کی بادشاہت میں کوئی گنجائش نہیں۔ شاعر آئینے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئینہ عام طور پر کسی بھی چیز کا عکس دکھاتا ہے، جس سے بظاہر دو چیزیں نظر آتی ہیں—ایک اصل اور دوسرا عکس۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات اس قدر واحد اور بے مثال ہے کہ آئینے میں بھی اس کا عکس نہیں آ سکتا، کیونکہ اگر آئینے میں اس کا عکس نظر آ جائے تو وہ ‘دوئی’ (دو ہونے) کا گمان پیدا کرے گا، جو کہ اللہ کی شانِ وحدانیت کے خلاف ہے۔ اللہ کا کوئی ہمسر، کوئی شریک اور کوئی شبیہ نہیں ہے۔ کائنات کی ہر چیز اس کی تخلیق ہے لیکن اس کی ذات جیسا کوئی دوسرا موجود نہیں ہے۔ آئینہ تو صرف مادی اجسام کا عکس دکھاتا ہے، جبکہ اللہ کی ذات نورِ مطلق ہے جو مادی حدوں سے پاک ہے۔ اس لیے آئینے کی یہ ہمت ہی نہیں کہ وہ اس ذاتِ واحد کا عکس پیش کر سکے جو اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ واحد تھا، واحد ہے اور ہمیشہ واحد ہی رہے گا، اور اس کی اس وحدانیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔

​تیسرا شعر:

​قاصد نہیں یہ کام تیرا اپنی راہ لے

اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے


  • مشکل الفاظ

    کے معانی:

    • ​قاصد: پیغام لے جانے والا
    • ​راہ لے: اپنے راستے پر چلا جا
    • ​پیام: پیغام
  • ​مفہوم:

  • بقول شاعر، کسی قاصد کی یہ حیثیت نہیں کہ وہ اللہ کا پیغام انسان تک پہنچا سکے، یہ کام صرف انسانی دل ہی کر سکتا ہے جو عشقِ الٰہی سے لبریز ہو۔
  • ​تشریح:

  • اس شعر میں شاعر عشقِ حقیقی کے اس مقام کو بیان کر رہے ہیں جہاں کسی تیسرے واسطے یا ذریعے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ وہ قاصد کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے پیغام پہنچانے والے! تو اپنے راستے پر چلا جا کیونکہ یہ کام تیرے بس کا نہیں ہے۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ انتہائی راز و نیاز کا رشتہ ہے اور اس رشتے میں کسی قاصد کی مداخلت ممکن نہیں۔ اللہ کا حقیقی پیغام الفاظ کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک دلی کیفیت اور الہام کا نام ہے۔ شاعر کے مطابق، وہ دل جو اللہ کی محبت میں غرق ہو چکا ہو، وہی اللہ کی مرضی اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کوئی بھی خارجی ذریعہ اس روحانی پیغام کو منتقل نہیں کر سکتا جو براہِ راست اللہ کی طرف سے بندے کے دل پر نازل ہوتا ہے۔ یہاں ‘دل’ سے مراد وہ باطنی آنکھ اور احساس ہے جو سچائی کو پہچانتا ہے۔ عشقِ مجازی میں تو قاصد کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن عشقِ حقیقی میں صرف دل ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان رابطے کا سبب بنتا ہے۔ جب دل پاک ہو جاتا ہے تو وہ خود بخود اللہ کے احکامات اور اس کی رضا کو محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے قاصد کا یہاں کوئی کام نہیں، کیونکہ اللہ کی آواز کو سننے کے لیے کانوں کی نہیں بلکہ ایک بیدار دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

​چوتھا شعر:

​اے دشمنِ فنا یہ طلسمِ خیال ہے

ہم دوڑِ ہزار آپ سے باہر نہ جا سکے


  • مشکل الفاظ کے معانی:

    • ​دشمنِ فنا: وہ جو فنا نہ ہو (مراد اللہ) یا موت کو چیلنج کرنے والا خیال
    • ​طلسمِ خیال: خیالوں کا جادو
    • ​دوڑِ ہزار: بہت زیادہ بھاگ دوڑ، کوشش
  • ​مفہوم:

  • بقول شاعر، یہ کائنات اور اس کے معاملات ایک طرح کا خیالی جادو ہیں۔ انسان چاہے جتنی بھی کوشش کر لے اور جتنا بھی دور نکل جائے، وہ اللہ کی حدوں اور اس کی کائنات سے باہر نہیں نکل سکتا۔
  • ​تشریح:

  • اس شعر میں انسانی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کے اقتدارِ اعلیٰ کا ذکر کیا گیا ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ یہ دنیا جسے ہم حقیقت سمجھتے ہیں، دراصل ایک ‘طلسمِ خیال’ یا نظر کا دھوکہ ہے۔ ہم اس دنیا میں طرح طرح کی دوڑ دھوپ کرتے ہیں، نئی نئی منزلیں تلاش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اللہ کی بنائی ہوئی حدود سے ایک انچ بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ کائنات کی ہر سمت میں اسی کی حکمرانی ہے اور ہر ذرے پر اسی کا پہرہ ہے۔ انسان اپنی عقل اور تدبیر کے زور پر کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے، آخر کار اسے اسی ذاتِ واحد کی طرف لوٹنا ہے اور اسی کے زیرِ اثر رہنا ہے۔ ہم اس کائنات کے قیدی ہیں جس کا مالک اللہ ہے۔ ہماری تمام تر سائنسی اور ذہنی ترقی ہمیں اس خالق کے دائرہ اختیار سے باہر نہیں لے جا سکتی۔ اللہ اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ جہاں بھی ہم نظر دوڑاتے ہیں، وہاں اسی کی قدرت کے نمونے موجود ہیں۔ شاعر یہاں یہ سبق دے رہے ہیں کہ اپنی طاقت اور بھاگ دوڑ پر غرور کرنے کے بجائے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے قبضے میں ہے اور ہم کسی بھی صورت اس کی گرفت سے فرار حاصل نہیں کر سکتے۔

​پانچواں شعر (مقطع):

​جو اس نشے میں مست ہے کب ہوش میں آئے وہ

سوائے حشر کے اسے کوئی نہ لا سکے


  • مشکل الفاظ کے معانی:

    • ​نشہ: یہاں مراد عشقِ الٰہی کا نشہ ہے
    • ​مست: بے خود، ڈوبا ہوا
    • ​حشر: قیامت کا دن
  • ​مفہوم:

  • بقول شاعر، جو شخص اللہ کی محبت کے نشے میں مست ہو جاتا ہے، وہ دنیاوی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ اسے اب قیامت کے دن سے پہلے ہوش نہیں آ سکتا۔
  • ​تشریح:

  • یہ غزل کا مقطع ہے جس میں خواجہ میر درد عشقِ الٰہی کی انتہا بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ عشقِ حقیقی ایک ایسا نشہ ہے جو انسان پر طاری ہو جائے تو پھر وہ دنیا کی تمام فکروں اور ہوش و حواس سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان کو اپنے وجود کی بھی خبر نہیں رہتی اور وہ ہمہ وقت اللہ کی یاد اور اس کے مشاہدے میں کھویا رہتا ہے۔ ایسے شخص کو دنیا کی کوئی مادی چیز یا کوئی نصیحت ہوش میں نہیں لا سکتی۔ اس کی یہ بے خودی اتنی گہری ہوتی ہے کہ اب اسے ہوش صرف اس وقت آئے گا جب کائنات کا نظام لپیٹ دیا جائے گا، یعنی قیامت (حشر) کے دن۔ جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے، تب ہی اس عاشقِ صادق کی آنکھ کھلے گی۔ یہ شعر دراصل صوفیانہ مقامِ ‘فنا’ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بندہ اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں گم کر دیتا ہے اور وہ دنیا کے لیے بظاہر بے ہوش یا دیوانہ معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اللہ کے قرب کی سب سے اعلیٰ منزل پر ہوتا ہے۔ عشق کا یہ نشہ دنیاوی شراب کے نشے سے بالکل مختلف ہے کیونکہ یہ انسان کو خدا کے قریب کرتا ہے اور اسے ابدی سکون عطا کرتا ہے جس کا اختتام صرف دیدارِ الٰہی پر ہی ممکن ہے۔

Leave a Reply