خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ حفیظ تائب کی یہ نعت اردو نعت گوئی کے جدید دور کا ایک شاہکار ہے۔ ذیل میں آپ کی ہدایت کے مطابق اس کا مکمل علمی و ادبی جائزہ اور تشریح پیش ہے: شاعر کا تعارف: حفیظ تائب حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ

خوش خصال و خوش خیال و خوش خبر، خیرالبشرﷺ حفیظ تائب کا مختصر تعارف : حفیظ تائب (1931-2004) کا اصل نام عبدالحفیظ تھا۔ آپ عصرِ حاضر میں اردو اور پنجابی نعت گوئی کا ایک نہایت معتبر اور بلند پایہ نام ہیں۔ آپ کو “مجددِ نعت” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے نعت کو روایتی

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے پہلا شعر: ​ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے ​ مشکل الفاظ کے معانی: ​ارض: زمین ​سما: آسمان ​وسعت: پھیلاؤ، گنجائش ​سما سکے: سما جانا، گنجائش ہونا ​مفہوم: بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے نقش قدم