ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے پہلا شعر: ​ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے ​ مشکل الفاظ کے معانی: ​ارض: زمین ​سما: آسمان ​وسعت: پھیلاؤ، گنجائش ​سما سکے: سما جانا، گنجائش ہونا ​مفہوم: بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے نقش قدم

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا شعر نمبر 1 سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجومِ یاس جی گھبرا گیا مشکل الفاظ کے معانی: حسرت: افسوس، محرومی، وہ خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو۔ چھا گیا: غالب آگیا۔ ہجومِ یاس: ناامیدی اور مایوسی کی کثرت۔ جی گھبرا گیا: طبیعت کا پریشان ہونا۔