سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا
شعر نمبر 1
سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا
ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
سکوں: آرام، اطمینانِ قلب
درکار: ضرورت، حاجت
ٹھہرا دے: سکون بخشے، مطمئن کر دے
دردِ دل: عشق کی تڑپ، دلی اضطراب
مفہوم:
انسان کو زندگی میں اطمینان کی ضرورت ہے لیکن وہ اسے میسر نہیں آتا۔ کوئی بھی ایسا غم یا دردِ محبت نہیں ہے جو دل کی بے چینی کو مستقل قرار دے سکے۔
تشریح:
اس شعر میں تابش دہلوی انسانی فطرت کے ایک بڑے المیے کو بیان کر رہے ہیں۔ انسان روزِ اول سے سکون کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، لیکن کائنات کا نظام حرکت اور اضطراب پر قائم ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر موڑ پر سکون کی طلب ہوتی ہے، لیکن جوں جوں ہم اسے پانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ہم سے دور بھاگتا ہے۔ یہاں ‘دردِ دل’ سے مراد وہ عشق ہے جو بظاہر بے چین کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہی تڑپ زندگی کی علامت ہے۔ شاعر کا استدلال یہ ہے کہ اگر دل میں تڑپ ہے تو سکون ناممکن ہے، اور اگر سکون مل جائے تو وہ دل، دل نہیں رہتا بلکہ ایک مردہ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔ کائنات کی ہر شے تغیر پذیر ہے، اس لیے قیام کا تصور ہی محال ہے۔ انسان مادی آسائشوں میں سکون ڈھونڈتا ہے مگر سکونِ قلب تو مشیتِ الٰہی اور تسلیم و رضا میں پوشیدہ ہے، جسے پانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔
بقول شاعر:
سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
شعر نمبر 2
کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو
اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
جلوۂ صد رنگ: سینکڑوں رنگوں کے نظارے، محبوب کی رعنائیاں
خونِ چشمِ شوق: آنکھوں سے بہنے والے خون کے آنسو، شدید غم
مفہوم:
ایک وقت وہ تھا جب میری آنکھیں ہر طرح کے خوبصورت نظاروں اور محبوب کے جلووں سے لطف اندوز ہوتی تھیں، مگر اب غم کی یہ انتہا ہے کہ آنکھوں میں رونے کے لیے خون کے آنسو بھی باقی نہیں رہے۔
تشریح:
یہ شعر ماضی کی یادوں اور حال کی محرومیوں کا ایک دردناک تقابل ہے۔ تابش دہلوی کہتے ہیں کہ انسانی زندگی میں ایک دور ایسا آتا ہے جب ہر طرف خوشیاں، رعنائیاں اور محبوب کے جلوے بکھرے ہوتے ہیں۔ ‘جلوۂ صد رنگ’ سے مراد وہ کیف و سرور کی کیفیت ہے جو آغازِ عشق یا شباب کے دور میں میسر ہوتی ہے۔ اس وقت دنیا کی ہر شے خوبصورت لگتی تھی۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدل گئے اور اب وہ تمام رونقیں ختم ہو چکی ہیں۔ اب شاعر اس مقام پر ہے جہاں اسے نہ صرف خوشی میسر نہیں، بلکہ غم کا اظہار کرنے کے لیے آنسو بھی ختم ہو چکے ہیں۔ ‘خونِ چشمِ شوق’ کا نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ شاعر کا وجود اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور اس کے احساسات جمود کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہ انتہا درجے کی یاسیت اور محرومی کا بیان ہے جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
بقول شاعر:
دلِ خوں گشتہ وفا کی ہے یہ قیمت کہ اب
اشک آنکھوں میں نہیں خونِ جگر بھی نہ رہا
شعر نمبر 3
ہر اک کارِ تممنا پر یہ مجبوری، یہ مختاری
مجھے آساں نہیں ہوتا، تجھے مشکل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
کارِ تمنا: آرزو کی تکمیل کا کام
مختاری: مکمل اختیار ہونا، قدرت ہونا
آساں: سہل، آسان
مفہوم:
اپنی خواہشات کی تکمیل کے معاملے میں، میں (انسان) انتہائی مجبور ہوں جبکہ تو (اللہ یا محبوب) مکمل بااختیار ہے۔ جو کام میرے لیے ناممکن ہے، وہ تیرے لیے معمولی سی بات ہے۔
تشریح:
اس شعر میں تابش دہلوی نے فلسفۂ ‘جبر و قدر’ کو بڑے خوبصورت انداز میں سمویا ہے۔ وہ خالقِ کائنات اور مخلوق کے درمیان موجود فرق کو واضح کر رہے ہیں۔ انسان اپنی خواہشات اور تمناؤں کا اسیر ہے، وہ چاہتا ہے کہ اس کی ہر آرزو پوری ہو، مگر اس کے پاس وسائل اور اختیار کی کمی ہے۔ وہ ‘کارِ تمنا’ میں قدم قدم پر اپنی مجبوری کا احساس کرتا ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو ‘کُن فیکون’ کی مالک ہے، جس کے لیے کائنات کا بڑے سے بڑا کام بھی کوئی مشکل نہیں رکھتا۔ اس شعر کو ‘عشقِ مجازی’ کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں عاشق اپنے محبوب کی بے نیازی اور اپنے عجز کا رونا رو رہا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے میرے مالک/محبوب! میری بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ میں اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتا، اور تیری قدرت یہ ہے کہ تو جو چاہے پل بھر میں کر دے۔
بقول شاعر:
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا
شعر نمبر 4
ہمیں ہنگامہ آرا تھے مگر ہم جب سے ڈوبے ہیں
کہیں طوفان نہیں اٹھتا، کہیں ساحل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
ہنگامہ آرا: رونق لگانے والا، ہلچل مچانے والا
ساحل: کنارہ
مفہوم:
جب تک ہم اس دنیا میں تھے، ہماری وجہ سے محفلوں میں رونق اور عشق کے سمندر میں ہلچل تھی۔ مگر ہمارے جانے (یا گوشہ نشین ہونے) کے بعد اب نہ کوئی طوفان اٹھتا ہے اور نہ کسی کو منزل ملتی ہے۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنی انفرادی اہمیت اور وجود کی تاثیر کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محفل کی تمام تر رونقیں اور زندگی کے تمام تر ہنگامے ہمارے دم قدم سے تھے۔ ہم وہ لوگ تھے جو جمود کو توڑتے تھے اور معاشرے یا راہِ عشق میں حرکت پیدا کرتے تھے۔ ‘ڈوبنے’ سے مراد یہاں موت بھی ہو سکتی ہے اور عشق میں خود کو فنا کر لینا بھی۔ شاعر کا دعویٰ ہے کہ ہمارے بعد اب وہ پہلے جیسا جذبہ اور تڑپ کہیں نظر نہیں آتی۔ اب سمندر (زندگی) میں سکوت طاری ہے، نہ کوئی طوفان اٹھانے والا ہے اور نہ ہی کوئی مسافر اپنی منزل (ساحل) تک پہنچنے کی جستجو کر رہا ہے۔ یہ شعر ایک عظیم انسان یا سچے عاشق کے اٹھ جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو ظاہر کرتا ہے۔ تابشؔ یہاں کلاسیکی روایات کے اس زوال کا ماتم بھی کر رہے ہیں جو ان کی نظر میں ان کی نسل کے ساتھ ختم ہو رہا ہے۔
بقول شاعر:
بجھ گئے دیئے سارے، اٹھ گئے سب اہل نظر
اب کس کے انتظار میں بیٹھے ہو راہ گزار میں
شعر نمبر 5
تماشا سوز ہے ہر جلوۂ اندازِ یکتائی
تمہی تم ہو کوئی پردہ بھی اب حائل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
تماشا سوز: نظر کو جلانے والا، انتہائی روشن
جلوۂ اندازِ یکتائی: اللہ کی وحدانیت کا جلوہ
حائل: رکاوٹ بننے والا، پردہ
مفہوم:
تیری وحدانیت اور تیرے حسن کا جلوہ اس قدر غالب آ چکا ہے کہ اب مجھے کائنات کی ہر شے میں صرف تو ہی نظر آتا ہے اور میرے اور تیرے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہا۔
تشریح:
یہ شعر تصوف اور ‘وحدت الوجود’ کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ کی ذات سے اپنے شدید قرب اور مشاہدۂ حق کا بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے باری تعالیٰ! تیری واحدہ لاشریک ذات کے جلوے اس قدر تابناک ہیں کہ انہوں نے میری بصارت کو خیرہ کر دیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ میں جدھر دیکھتا ہوں، مجھے تیری ہی قدرت اور تیرا ہی عکس نظر آتا ہے۔ عام انسانوں کے لیے کائنات کے مادی پردے حقیقت تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتے ہیں، مگر عشق کی اس منزل پر پہنچ کر شاعر کے لیے وہ تمام حجابات اٹھ چکے ہیں۔ اب کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے نور کی گواہی دے رہا ہے۔ یہ وہ مقامِ عرفان ہے جہاں ‘میں’ مٹ جاتی ہے اور صرف ‘تو’ باقی رہ جاتا ہے۔ تابشؔ نے اس شعر میں فلسفیانہ گہرائی اور قلبی واردات کو یکجا کر دیا ہے۔
بقول شاعر:
جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
شعر نمبر 6
رہا اک اک قدم پر پاسِ آدابِ طلب ورنہ
وہ ہم تھے جہاں پانا تیرا مشکل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
پاس: لحاظ، احترام
آدابِ طلب: مانگنے یا چاہنے کے طریقے، عشق کے ضابطے
مفہوم:
اے محبوب! ہمیں تیری طلب میں آدابِ عشق کا خیال رکھنا پڑا، ورنہ ہم اس مقام پر تھے کہ تجھے پانا ہمارے لیے ذرا بھی مشکل نہ تھا۔
تشریح:
یہ شعر عشق کے اعلیٰ آداب اور وقار کا آئینہ دار ہے۔ تابش دہلوی کہتے ہیں کہ سچا عاشق کبھی بھی محبوب کی رسوائی کا باعث نہیں بنتا اور نہ ہی وہ اپنی ضد سے محبوب کو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ عشق نام ہے قربانی اور احترام کا۔ شاعر کہتے ہیں کہ میرے پاس وہ ہمت اور وسائل موجود تھے کہ میں تجھے حاصل کر لیتا، مگر ‘آدابِ طلب’ نے میرے قدم روک دیے۔ میں نے سوچا کہ اگر میں نے تجھے زبردستی یا بے اصولی سے پا لیا تو یہ عشق کی توہین ہوگی۔ عشق کی معراج وصال نہیں بلکہ محبوب کی رضا اور اس کا احترام ہے۔ یہ شعر طلبہ کو یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کے ہر مقصد میں حصول سے زیادہ طریقے اور سلیقے کی اہمیت ہوتی ہے۔ شاعر نے اپنی ‘عاجزی’ کو اپنی ‘طاقت’ بنا کر پیش کیا ہے، جو کہ ایک بلند پایہ شعری کمال ہے۔
بقول شاعر:
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
شعر نمبر 7 (مقطع)
ازل سے اپنا مقصودِ طلب ہے کون اے تابشؔ
کہ پائے جستجو شرمندۂ منزل نہیں ہوتا
مشکل الفاظ کے معانی:
مقصودِ طلب: جس کی خواہش کی جائے، اصل مقصد
پائے جستجو: تلاش کرنے والے پاؤں، کوشش
مفہوم:
اے تابش! میں نہ جانے روزِ اول سے کس مقصد کی تلاش میں ہوں کہ میری کوششیں اور سفر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اور میری منزل ابھی تک نہیں ملی۔
تشریح:
غزل کے مقطع میں تابش دہلوی اپنی زندگی کی مسلسل تگ و دو اور ناآسودہ خواہشات کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ خود سے سوال کرتے ہیں کہ آخر وہ کون سا عظیم مقصد ہے جس کے پیچھے وہ ازل سے بھاگ رہے ہیں؟ انسانی زندگی ایک لامتناہی سفر کا نام ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ میں تھک کر نہیں بیٹھا، میرے ‘پائے جستجو’ ابھی تک رواں دواں ہیں، مگر دکھ اس بات کا ہے کہ منزل ابھی تک خواب ہی بنی ہوئی ہے۔ یہاں ‘منزل’ سے مراد حقیقتِ مطلق بھی ہو سکتی ہے اور وہ آدرش معاشرہ یا محبوب بھی جس کا خواب ہر حساس انسان دیکھتا ہے۔ شاعر کا یہ اعتراف کہ ان کی جستجو ابھی تک جاری ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک زندہ اور متحرک انسان ہیں جو کبھی ہار نہیں مانتا۔ یہ مقطع پوری غزل کے موضوع ‘بے سکونی’ اور ‘تلاش’ کو سمیٹ لیتا ہے۔
بقول شاعر:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
