کام مردوں کے جو ہیں
شعر نمبر 1:
کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں
جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔
گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔
مفہوم:
حقیقی جرات مند لوگ وہی ہیں جو مشکل اور عظیم کاموں کی تکمیل کے لیے اپنی جان تک کی بازی لگا دیتے ہیں۔
تشریح:
خواجہ میر درد اس شعر میں انسانی جرات اور اولوالعزمی کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں بڑے کارنامے انجام دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، یہ صرف ان “مردوں” کا کام ہے جو ہمت اور حوصلے کے پیکر ہوتے ہیں۔ “مرد” سے مراد یہاں صنف نہیں بلکہ وہ کردار ہے جو حق اور سچائی کی خاطر جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ جب انسان اپنی جان کی پروا کرنا چھوڑ دیتا ہے اور کسی بڑے مقصد (جیسے وطن کی حفاظت، دین کی سربلندی یا حق گوئی) سے وابستہ ہو جاتا ہے، تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ زندہ جاوید ٹھہرے جنہوں نے مصلحت پسندی کے بجائے جرات مندی کا راستہ چنا۔
بقولِ شاعر:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں
شعر نمبر 2:
موت کیا آ کے فقیروں سے تجھے لینا ہے
مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
فقیروں: اللہ والے، درویش، صوفیا۔
مرنے سے آگے مرنا: موت سے پہلے اپنی خواہشاتِ نفسانی کو مار دینا (فنا فی اللہ ہونا)۔
مفہوم:
اے موت! تجھے ان درویشوں سے کیا ملے گا؟ یہ لوگ تو طبعی موت سے پہلے ہی اپنی انا اور خواہشات کو ختم کر کے مر چکے ہیں۔
تشریح:
یہ شعر تصوف کے ایک اہم نظریے “موتوا قبل ان تموتوا” (مرنے سے پہلے مر جاؤ) کی عکاسی کرتا ہے۔ درد فرماتے ہیں کہ جو اللہ والے دنیاوی لذتوں، حرص اور طمع سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں، ان کے لیے موت کوئی ڈراؤنی چیز نہیں رہتی۔ انہوں نے تو جیتے جی اپنے نفسِ امارہ کو قابو کر لیا ہوتا ہے، اس لیے جسمانی موت ان کے لیے محض ایک لبادے کی تبدیلی ہے۔ موت ان لوگوں کو ڈراتی ہے جو دنیا سے جڑے ہوتے ہیں۔ جب ایک صوفی نے دنیا کی محبت ہی دل سے نکال دی، تو موت اسے کیا نقصان پہنچائے گی؟ یہ درویش تو پہلے ہی بقائے دوامی کے سفر پر نکل چکے ہوتے ہیں۔
بقولِ شاعر:
دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
شعر نمبر 3:
دید وا دید جو ہو جائے غنیمت سمجھو
جوں شرر ورنہ ہم اہل نظر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
دید وا دید: ملاقات، ایک دوسرے کو دیکھنا۔
غنیمت: بہت بڑی نعمت، فائدہ۔
جو شرر: چنگاری کی طرح۔
اہلِ نظر: بصیرت رکھنے والے، انسان۔
مفہوم:
انسانی زندگی چنگاری کی طرح مختصر ہے، لہٰذا اس مختصر وقت میں جو تھوڑی بہت ملاقات ہو جائے اسے بڑی نعمت سمجھنا چاہیے۔
تشریح:
اس شعر میں خواجہ میر درد نے زندگی کی بے ثباتی اور اختصار کو ایک خوبصورت تشبیہ “شرر” (چنگاری) سے واضح کیا ہے۔ جس طرح ایک چنگاری لمحہ بھر کو نمودار ہوتی ہے اور پھر فنا ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح انسانی زندگی کا دورانیہ بھی کائنات کے تناظر میں نہایت مختصر ہے۔ ہم یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں آئے۔ اس مختصر قیام کے دوران اگر ہمیں دوستوں اور پیاروں کے ساتھ بیٹھنے اور دیکھنے کا موقع ملے، تو اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ ملاقاتیں اور صحبتیں دوبارہ نہیں ملیں گی۔ شاعر ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ تلخیوں کو بھلا کر باہمی تعلقات کو اہمیت دیں کیونکہ وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔
بقولِ شاعر:
غنیمت ہے یہ دید و دید یارا
جہاں مندی گئیں آنکھیں نہ میں ہوں نہ تو ہے
شعر نمبر 4:
بے ہنر دشمنیِ اہلِ ہنر سے آکر
منہ پہ چڑھتے تو ہیں پر جی سے اتر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
بے ہنر: نااہل، صلاحیت سے محروم۔
اہلِ ہنر: باصلاحیت، صاحبِ علم و کمال۔
منہ پہ چڑھنا: بدتمیزی کرنا، گستاخی کرنا، مقابلہ کرنا۔
جی سے اترنا: عزت کھو دینا۔
مفہوم:
نااہل لوگ جب باصلاحیت لوگوں سے حسد کی بنا پر بدتمیزی کرتے ہیں، تو وہ وقتی طور پر تو سامنے آ جاتے ہیں مگر لوگوں کے دلوں میں اپنی عزت کھو دیتے ہیں۔
تشریح:
یہ شعر معاشرتی رویوں کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ معاشرے میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جن کے پاس اپنا کوئی کمال نہیں ہوتا، وہ اہل کمال سے حسد کرتے ہیں۔ وہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے لائق اور قابل لوگوں پر تنقید کرتے ہیں، ان سے الجھتے ہیں اور زبان درازی کرتے ہیں۔ درد کہتے ہیں کہ ایسے لوگ بدتمیزی کر کے اپنا نام تو اچھال لیتے ہیں لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ شرافت اور قابلیت کا مقابلہ گستاخی سے نہیں کیا جا سکتا۔ نتیجے کے طور پر، وہ باہمی معاملات میں اور لوگوں کی نظروں میں اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ ان کا شور و غل انہیں بڑا نہیں بنا سکتا بلکہ ان کی پستی کو مزید واضح کر دیتا ہے۔
بقولِ شاعر:
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے
شعر نمبر 5:
ہم کسی راہ سے واقف نہیں جوں نورِ نظر
رہنما تو ہی ہوتا ہے جدھر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
جوں: کی مانند، طرح۔
نورِ نظر: آنکھوں کی روشنی۔
رہنما: راستہ دکھانے والا۔
مفہوم:
ہمیں اپنی زندگی کے راستوں کا کوئی علم نہیں، ہم تو آنکھ کی روشنی کی طرح بے بس ہیں، تو ہی (اے اللہ) ہمارا حقیقی رہنما ہے، ہم جہاں بھی جاتے ہیں تیری ہی رہنمائی میں جاتے ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے اپنی بے بسی اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کا اظہار کیا ہے۔ وہ انسان کی مثال آنکھ کی روشنی (نورِ نظر) سے دیتے ہیں۔ جس طرح آنکھ کی روشنی خود کچھ نہیں دیکھ سکتی جب تک اللہ کی دی ہوئی بصارت کام نہ کرے، اسی طرح انسان خود سے سیدھے راستے کا انتخاب نہیں کر سکتا۔ زندگی کا سفر پیچیدہ ہے اور انسان ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ لیکن جب وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اللہ اس کا رہنما بن جاتا ہے۔ یہ شعر توکل اور اللہ کی حاکمیت کا بہترین درس دیتا ہے کہ انسان کی ہر حرکت اور ہر منزل اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
بقولِ شاعر:
گلوں میں رنگ بھرے، چاند تاروں میں وہ ہے
رہنا ہے کہاں، جلوہ گر نہیں ہوتا
شعر نمبر 6:
آہ معلوم نہیں ان ساتھ سے اپنے شب و روز
لوگ جاتے ہیں چلے سو یہ کدھر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
ان سات سے: ان کے ساتھ۔
شب و روز: دن رات۔
سو یہ کدھر جاتے ہیں: یہ کہاں چلے جاتے ہیں؟ (موت کے بعد کی منزل کی طرف اشارہ)۔
مفہوم:
بڑا افسوس ہے کہ وہ لوگ جو دن رات ہمارے ساتھ رہتے تھے، ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، اور ہمیں معلوم نہیں کہ وہ آخر کس انجان بستی کی طرف چلے گئے ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں انسانی بے بسی اور موت کے پراسرار پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ درد کہتے ہیں کہ ہمارے قریبی دوست، عزیز و اقارب جن کے بغیر ہم ایک لمحہ رہنے کا تصور نہیں کرتے تھے، وہ اچانک موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ یہ رخصت ہونا اس قدر پراسرار ہے کہ کوئی نہیں جانتا وہ کہاں گئے۔ اگرچہ عقیدہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ آخرت کے سفر پر ہیں، لیکن ظاہری طور پر ان کا یوں غائب ہو جانا ایک دردناک سوال چھوڑ جاتا ہے۔ یہ شعر زندگی کے عارضی پن اور جدائی کے دکھ کو بڑی گہرائی سے بیان کرتا ہے۔
بقولِ شاعر:
کتنے احباب ہو گئے رخصت
موت مارتی ہے قسطوں میں
شعر نمبر 7:
تا قیامت نہیں مٹنے کا دلِ عالم سے درد
ہم اپنے بعد چھوڑے اثر جاتے ہیں
مشکل الفاظ:
تا قیامت: قیامت تک۔
دلِ عالم: دنیا کا دل، لوگوں کے دل۔
اثر: اپنا نقش، اپنا کلام۔
مفہوم:
اے درد! میرا نام اور میرا کلام دنیا کے دلوں سے قیامت تک نہیں مٹ سکے گا کیونکہ میں اپنے پیچھے اپنی شاعری کی صورت میں ایک گہرا اثر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
تشریح:
یہ غزل کا مقطع ہے جس میں شاعر نے اپنی فنکارانہ عظمت کا اظہار کیا ہے۔ اردو شاعری میں شعرا اکثر اپنے کلام کی بقا کا دعویٰ کرتے ہیں۔ درد کا دعویٰ ان کے خلوص اور سوز و گداز پر مبنی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ میں جسمانی طور پر دنیا سے چلا جاؤں گا، لیکن میرا غم، میرا احساس اور میرا کلام (جو کہ خونِ جگر سے لکھا گیا ہے) لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ جو کلام سچائی پر مبنی ہو، اسے کبھی زوال نہیں آتا۔ آج صدیوں بعد بھی درد کی شاعری پڑھی جا رہی ہے، جو ان کے اس دعوے کی صداقت کی دلیل ہے۔
بقولِ شاعر:
یاد آئیں گے زمانے کو مثال کے لیے
جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے