کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں

جان سے اپنے جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں

موت کیا آکے فقیروں سے تجھے لینا ہے

مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں

دید وادید جو ہو جائے غنیمت سمجھو

جوں شرر ورنہ ہم اے اہل نظر جاتے ہیں

آنکھیں اس بزم میں سیکی ہیں جنہوں نے ٹک بھی

شمع کی طرح گریباں لیے تر جاتے ہیں

ہم کسی راہ سے واقف نہیں جوں نور نظر

رہنما تو ہی تو ہو جاتا ہے جدھر جاتے ہیں

اے رگ ابر یہ مژگاں بھی اگر ٹک برسیں

کہ پل میں کئی تالاب تو بھر جاتے ہیں

آہ معلوم نہیں ساتھ سے اپنے شب و روز

لوگ جاتے ہیں چلے سو یہ کدھر جاتے ہیں

تا قیامت نہیں ٹلنے کا دل عالم سے

دردؔ ہم اپنے

عوض چھوڑے اتر جاتے ہیں

Leave a Reply