شکوہ بند نمبر 24

شکوہ بند نمبر 24

وادئ نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا

قیس دیوانہ نظارہء محمل نہ رہا

حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے دِل نہ رہا

گھر یہ اُجڑا ہے کہ تُو رونقِ محفل نہ رہا

اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی

بے حجابانہ سوئے محفلِ ما باز آئی

Leave a Reply