یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے

سن تو سہی

یوں کہنے کو پیرایہ اظہار بہت ” یوں کہنے کو پیرا یہ اظہار بہت ہے” آج کی اس پوسٹ میں ہم  اس غزل کی تشریح ، مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی پیش کریں گے ۔ اس غزل کی شاعری زہرا نگاہ ہیں ۔ شعر نمبر 1 :  یوں کہنے کو پیرایہ اظہار بہت ہے