
متحمل العزین سے کیا مراد ہے ؟ اس کی کم از کم دس مثالیں دیں ۔
اردو قواعد و انشا: ‘متحمل العزین’ کا مفہوم اور مثالیں
اردو زبان اپنی وسعت اور فصاحت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس زبان کے حسن کو بڑھانے کے لیے مختلف اصطلاحات اور قواعد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انہی میں سے ایک دلچسپ اور اہم اصطلاح ‘متحمل العزین’ ہے۔
متحمل العزین سے کیا مراد ہے؟
‘متحمل العزین’ (یا محتمل الضدین) سے مراد وہ جملہ یا فقرہ ہے جس کے دو مختلف یا متضاد معنی نکل سکتے ہوں۔ یہ ابہام عموماً دو وجوہات سے پیدا ہوتا ہے:
رموزِ اوقاف (Punctuation): جملے میں سکتہ (Comma) کی جگہ بدلنے سے معنی بدل جانا۔
لب و لہجہ: بولنے والے کے انداز سے ایک ہی جملے کے دو مختلف مفہوم پیدا ہونا۔
اردو ادب اور روزمرہ گفتگو میں اسے طنز، مزاح یا کسی خاص نکتے کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
متحمل العزین کی 10 بہترین مثالیں
ذیل میں چند ایسی مثالیں دی جا رہی ہیں جن سے اس اصطلاح کو سمجھنا نہایت آسان ہو جاتا ہے:
روکو مت آنے دو
(روکو، مت آنے دو): یعنی روک دیں، اندر نہ آنے دیں۔
(روکو مت، آنے دو): یعنی نہ روکیں، بلکہ آنے دیں۔
مارو مت چھوڑ دو
(مارو، مت چھوڑ دو): یعنی سزا دیں، رہا نہ کریں۔
(مارو مت، چھوڑ دو): یعنی تشدد نہ کریں، بلکہ جانے دیں۔
پڑھو مت کھیلو
(پڑھو، مت کھیلو): تعلیم پر توجہ دیں، کھیل سے پرہیز کریں۔
(پڑھو مت، کھیلو): پڑھائی چھوڑ دیں اور صرف کھیل کود کریں۔
اٹھو مت بیٹھو
(اٹھو، مت بیٹھو): کھڑے ہو جائیں، بیٹھنے کی اجازت نہیں۔
(اٹھو مت، بیٹھو): بیٹھے رہیں، اٹھنے کی ضرورت نہیں۔
جلاؤ مت دفن کرو
(جلاؤ، مت دفن کرو): آگ لگا دیں، زمین میں نہ دبا ئیں۔
(جلاؤ مت، دفن کرو): آگ نہ لگائیں بلکہ دفنا دیں۔
کل گدھے پر جا کر نظم پڑھنا
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ “گدھے” کے موضوع پر نظم سنائیں، جبکہ دوسرا مطلب یہ ہے کہ گدھے کی سواری کر کے جائیں اور نظم پڑھیں۔
کھاؤ مت پھینکو
(کھاؤ، مت پھینکو): اسے کھا لیں، ضائع نہ کریں۔
(کھاؤ مت، پھینکو): اسے نہ کھائیں بلکہ پھینک دیں۔
لکھو مت بولو
(لکھو، مت بولو): صرف تحریر کریں، زبان سے کچھ نہ کہیں۔
(لکھو مت، بولو): تحریر چھوڑیں، زبانی بات کریں۔
ایک قطرہ سمندر تیرے منہ کے آگے
تعریف کے طور پر: تیری عظمت کے سامنے سمندر بھی ایک قطرہ ہے۔
طنز کے طور پر: تیرا منہ اتنا بڑا ہے کہ سمندر بھی ایک قطرہ معلوم ہوتا ہے۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
حقیقی معنی میں: یہ ناممکن بات ہے (ناممکن کو ظاہر کرنا)۔
شاعرانہ معنی میں: نرم گفتگو سخت سے سخت دل کو موم کر سکتی ہے۔
خلاصہ
متحمل العزین اردو زبان کی وہ خوبصورتی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ تحریر میں رموزِ اوقاف اور گفتگو میں لہجے کی کتنی اہمیت ہے۔ ایک چھوٹے سے وقفے کی تبدیلی پورے جملے کے مقصد کو الٹ سکتی ہے۔