شکوہ بند نمبر 12

شکوہ بند نمبر 12 محفلِ کون و مکاں میں سحروشام پھرے مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے؟ دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے! بحرِ ظُلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

شکوہ بند نمبر 11

 شکوہ بند نمبر 11 آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز بندہ و صاحب و مُحتاج و غنی ایک ہوئے! تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

شکوہ از علامہ محمد اقبال

شکوہ از علامہ محمد اقبال شاعر مشرق ، حکیم الامت اور مفکر پاکستان سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم شکوہ کے تمام بند ۔۔۔۔۔۔۔ بند نمبر 1 :  شکوہ (1911) محمد اقبال کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوں نالے بُلبُل کے سُنوں اور