ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے پہلا شعر: ​ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے ​ مشکل الفاظ کے معانی: ​ارض: زمین ​سما: آسمان ​وسعت: پھیلاؤ، گنجائش ​سما سکے: سما جانا، گنجائش ہونا ​مفہوم: بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آ سکے آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے میں وہ فتادہ ہوں کہ بغیر از فنا مجھے نقش قدم

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا شعر نمبر 1 شعر: کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یکجا ہونا مشکل الفاظ کے معانی: تنہا ہونا: اکیلا رہ جانا ملن: ملاپ، یکجا ہونا صورت: طریقہ، رستہ ممکن: جو ہو سکے مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یک جا ہونا سرِ صحرا تو عناصر بھی بھٹک جاتے ہیں اس سفر میں کسے راس آئے گا دریا ہونا کیسے بھوُلوں، وہ شبِ ہجر کے سنّاٹے میں خشک پتّے کا

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے شعر نمبر 1 :  ہوائے دورِ مے خوشگوار راہ میں ہے خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: دورِ مے: شراب کا دور (مراد خوشی اور مسرت کا وقت)۔ خوشگوار: دلپسند، اچھی لگنے والی۔ خزاں: پجھڑ کا موسم (مراد دکھ اور

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش رہتی ایک آدھ دن بہار اے کاش یہ جو دو آنکھیں مند گئیں میری اس پہ وا ہوتیں ایک بار اے کاش کن نے اپنی مصیبتیں نہ گنیں رکھتے میرے بھی غم شمار اے کاش جان آخر تو جانے والی تھی