نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(غزل)
نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر کیا خطا مجھ سے ہوئ رات کہ اس کافر کا میں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لے کر باغ وہ دست جنوں تھا کبھی