اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(تشریح)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اردو غزل کے وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے غزل کی روایتی فرسودگی کو ختم کر کے اس میں ایک نئی روح پھونکی۔ زیرِ نظر غزل بارہویں جماعت کے نصاب کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں شاعر نے اپنی داخلی کیفیات،

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(غزل)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی ہماری زندگی! یارو ہماری زندگی کب تھی علائق سے ہُوں بیگانہ ولیکن اے دلِ غمگِیں تجھے کچھ یاد تو ہوگا، کسی سے دوستی کب تھی حیاتِ چند روزہ بھی، حیاتِ جاوِداں نِکلی ! جو کام آئی جہاں

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل) اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں میں جن

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تفصیلی تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(تفصیلی تشریح) شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ: چونکہ۔ دشوار: کٹھن۔ میسر: دستیاب۔ انساں ہونا: اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کا حامل ہونا۔ مفہوم: دنیا میں کسی بھی کام کا پایۂ

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ (چونکہ)، دشوار (مشکل)، میسر (دستیاب/ممکن)، انساں ہونا (اخلاق و آدمیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونا)۔ مفہوم: چونکہ دنیا میں کسی بھی کام کا

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے از غالب

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا غالب کی غزل کی تشریح شعر نمبر 1 :  بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے تشریح : غالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی جدت پسندی ہے۔ بیان اور اسلوب کی جدت اُن کی پہچان ہے۔ انہوں