خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا شعر نمبر 1 خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا مشکل الفاظ کے معانی: خاطر: مراد احترام، پاس یا لحاظ۔ لحاظ: شرم و حیا، مروت۔ ایمان جانا: اعتبار ختم ہونا، سچائی کا دامن ہاتھ سے چھوٹ

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میں سنسان گھر یہ کیوں

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے شعر نمبر 1 پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے مشکل الفاظ کے معانی پھرے راہ سے: راستے سے واپس لوٹ جانا۔ اجل: موت۔ مر رہی: تڑپ رہی تھی یا بہت دیر کر دی۔ مفہوم محبوب میری طرف آ رہا تھا

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے

پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی بہت دیر کی مہرباں آتے آتے سنا ہے کہ آتا ہے سر نامہ بر کا کہاں رہ گیا ارمغاں آتے آتے یقیں ہے کہ ہو جائے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے شعر نمبر 1 : یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے مشکل الفاظ کے معانی: آرزو: خواہش، تمنا گل: پھول روبرو: آمنے سامنے بلبلِ بے تاب: بے چین بلبل (جو پھول کا عاشق ہے) گفتگو: بات چیت

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے شعر نمبر 1 :  ہوائے دورِ مے خوشگوار راہ میں ہے خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: دورِ مے: شراب کا دور (مراد خوشی اور مسرت کا وقت)۔ خوشگوار: دلپسند، اچھی لگنے والی۔ خزاں: پجھڑ کا موسم (مراد دکھ اور

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے   گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے   عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں نہ کوئی شہر نہ کوئی

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش شاعر کا تعارف: میر تقی میر میر تقی میر کو “خدائے سخن” اور “شہنشاہِ غزل” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا حسین مجموعہ ہے۔ شعر نمبر :1 گل کو ہوتا صبا قرار کاش رہتی اک آدھ دن بہار کاش مشکل

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا شعر نمبر 1: جس سر کو غرور آج ہے یہاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا مشکل الفاظ کے معانی: تاجوری: بادشاہت، سر پر تاج ہونا۔ نوحہ گری: ماتم کرنا، رونا دھونا۔ غرور: تکبر، گھمنڈ۔ مفہوم: آج جس شخص کو اپنی