نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو

رسمِ جفا کامیاب، دیکھئیے، کب تک رہے

رسمِ جفا کامیاب، دیکھئیے، کب تک رہے بسم اللہ الرحمن الرحیم شعر 1 رسمِ جفا کامیاب، دیکھئیے، کب تک رہے حُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے، کب تک رہے مشکل الفاظ رسمِ جفا: ظلم و زیادتی کا رواج کامیاب: غالب، مؤثر حُبِ وطن: وطن سے محبت مستِ خواب: غفلت کی نیند میں ڈوبا ہوا مفہوم ظلم

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے شعر نمبر 1 رسمِ جفا دیکھیے کامیاب کب تک رہے حبِّ وطن مست خواب دیکھیے کب تک رہے مشکل الفاظ کے معانی: رسمِ جفا: ظلم و ستم کا طریقہ/رواج۔ حبِّ وطن: وطن سے محبت کا جذبہ۔ محوِ خواب: نیند میں ڈوبا ہوا، غافل۔ مفہوم: دیکھنا یہ ہے

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے

رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے، کب تک رہے حُبِ وطن، مستِ خواب، دیکھئیے، کب تک رہے دل پہ رہا مدتوں غلبہء یاس و ہراس قبضہء خرم و حجاب، دیکھئیے، کب تک رہے تابہ کجا ہوں دراز سلسلہ ہائے فریب ضبط کی، لوگوں میں تاب، دیکھئیے، کب تک

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں شعر نمبر 1 بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترکِ الفت پر وہ کیوں کر یاد آتے ہیں مشکل الفاظ کے معانی: ترکِ الفت: محبت چھوڑ دینا، تعلق ختم کرنا۔ برابر: مسلسل، لگاتار۔ الٰہی: اے میرے اللہ، اے میرے رب۔ کیوں کر: کس طرح،

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم شعر نمبر 1 ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم مشکل الفاظ کے معانی: ٹھانی تھی: پختہ ارادہ کیا تھا۔ ناچار: مجبور۔ جی: دل/جان۔ مفہوم: میں نے دل میں یہ

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم ہنستے جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم منہ دیکھ دیکھ روتے ہیں کس بے کسی سے ہم ہم سے نہ بولو

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلوم حرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا شعر نمبر 1: اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: اثر: تاثر، نتیجہ۔ رنج: دکھ، غم، مصیبت۔ راحت فزا: خوشی یا سکون میں اضافہ کرنے والا۔ مفہوم: میرے دکھوں اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے