جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا   کبھی ہر جلوۂ صد رنگ حاصل تھا نگاہوں کو اب اشک خون بھی چشمِ شوق کو حاصل نہیں ہوتا   ہر اک کارِ تمنا پر یہ مجبوری،

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا

سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا شعر نمبر 1 سکوں درکار ہے لیکن سکوں حاصل نہیں ہوتا ذرا جو دل کو ٹھہرا دے وہ دردِ دل نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: سکوں: آرام، اطمینانِ قلب درکار: ضرورت، حاجت ٹھہرا دے: سکون بخشے، مطمئن کر دے دردِ دل: عشق کی تڑپ، دلی اضطراب

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(تشریح)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری اردو غزل کے وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے غزل کی روایتی فرسودگی کو ختم کر کے اس میں ایک نئی روح پھونکی۔ زیرِ نظر غزل بارہویں جماعت کے نصاب کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں شاعر نے اپنی داخلی کیفیات،

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(غزل)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی ہماری زندگی! یارو ہماری زندگی کب تھی علائق سے ہُوں بیگانہ ولیکن اے دلِ غمگِیں تجھے کچھ یاد تو ہوگا، کسی سے دوستی کب تھی حیاتِ چند روزہ بھی، حیاتِ جاوِداں نِکلی ! جو کام آئی جہاں

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح) شعر نمبر 1: اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی مشکل الفاظ کے معنی: ہم سخن: ساتھ گفتگو کرنے والا، دوست۔ تقاضا: مطالبہ، ضرورت۔ ہونٹ سینا: خاموشی اختیار کرنا۔ مفہوم: اے میرے دوست! موجودہ

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل) اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں میں جن

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی(غزل)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی شور برپا ہے خانۂ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے شعر نمبر 1: نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: تخت و تاج: بادشاہت، سیاسی اقتدار۔ سپاہ: فوج، عسکری قوت۔ مردِ قلندر: درویش، وہ انسان جو دنیاوی حرص