تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت مصیبت ملامت بلائیں

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا شعر نمبر 1 سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجومِ یاس جی گھبرا گیا مشکل الفاظ کے معانی: حسرت: افسوس، محرومی، وہ خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو۔ چھا گیا: غالب آگیا۔ ہجومِ یاس: ناامیدی اور مایوسی کی کثرت۔ جی گھبرا گیا: طبیعت کا پریشان ہونا۔

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجوم یاس جی گھبرا گیا تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفا پر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری جی میں یہ کس کا تصور آ گیا میں

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے شعر نمبر 1 اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے شام کے بعد بھی سورج نہ بجھایا جائے مشکل الفاظ کے معانی: اعجاز: معجزہ، کوئی انوکھا یا غیر معمولی کام۔ بجھایا جائے: ختم کیا جائے، گل کیا جائے۔ مفہوم: موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہمیں

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے

اب تو کچھ اور ہی اعجاز دکھایا جائے اب تو کچھ اور ہی اعجاز، دکھایا جائے شام کے بعد بھی سورج نہ بجھایا جائے نئے انسان سے تعارف جو ہوا تو بولا میں ہوں سقراط، مجھے زہر پلایا جائے موت سے کس کو مفر ہے مگر ،انسانوں کو پہلے جینے کا ،سلیقہ تو سکھایا جائے

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا شعر نمبر 1 شعر: کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یکجا ہونا مشکل الفاظ کے معانی: تنہا ہونا: اکیلا رہ جانا ملن: ملاپ، یکجا ہونا صورت: طریقہ، رستہ ممکن: جو ہو سکے مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا

کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا کچھ غلط بھی تو نہیں تھا میرا تنہا ہونا آتش و آب کا ممکن نہیں یک جا ہونا سرِ صحرا تو عناصر بھی بھٹک جاتے ہیں اس سفر میں کسے راس آئے گا دریا ہونا کیسے بھوُلوں، وہ شبِ ہجر کے سنّاٹے میں خشک پتّے کا

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں شعر نمبر 1 کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل الفاظ کے معانی: صد شکر: سو بار شکر، بہت زیادہ شکر۔ ہجر: جدائی، فراق۔ مفہوم:

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہات نہیں صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا شعر نمبر 1 نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹا دیا مشکل الفاظ کے معانی: ناوکِ نیم کش: آدھا کھینچا ہوا تیر (مراد: تکلیف دہ طنز یا ادھوری ضرب)۔ دلِ ریزہ ریزہ: