دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا(تشریح)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا شعر نمبر 1: دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا مشکل الفاظ کے معنی: اندوہ گیں: غم زدہ، دکھی۔ ہمدم: دوست، ساتھی۔ کہیں: یہاں مراد پاس یا ساتھ ہے۔ مفہوم: جب تک میں اس

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا ( غزل)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا رونے سے کام بس کہ شب اے ہم نشیں رہا  آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا نازُک مزاج تھا میں بہت اس چمن کے بیچ  جب

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو شعر نمبر 1: کیا فرق داغ و گل میں کہ جس گل میں بو نہ ہو کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو مشکل الفاظ کے معنی: بو: خوشبو، مہک۔ داغ: دھبہ، نشان۔ تو: یہاں مراد اللہ

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں شعر نمبر 1: کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں مشکل الفاظ: مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔ گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔ مفہوم: حقیقی جرات مند

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں شعر نمبر ۱: یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں مفہوم: ہم جیسے بھی ہیں، ہمیں اس بات پر ناز ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے کچھ لمحات اپنے محبوب کی رفاقت

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے شعر نمبر 1 (مطلع) وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے جو پلک جھپک میں گزر گئے، مجھے پھر وہی مہ و سال دے مفہوم: اے پروردگار! میری آنکھوں کو دوبارہ وہ خواب عطا کر جو ملاقات کی خوشی کا

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے 1 ۔وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے جو نشاط شام وصال دے  جو پلک جھپک میں گزر گئے مجھے پھر وہی مہ و سال دے 2 ۔ یہ گداگروں کی ہیں بستیاں یہاں چشم پوشی گناہ ہے تو امیر شہر جمال ہے تو زکوة

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں   اور  بھی ہیں شعر نمبر 1 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں مفہوم: اسمان پر نظر آنے والے ان گنت ستاروں کے پار بھی بے شمار دنیائیں موجود ہیں، اور اللہ کی محبت و معرفت کے راستے میں ابھی کئی کٹھن آزمائشیں باقی

سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں شعر نمبر 1: سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مفہوم: تمام خوبصورت چہرے دوبارہ نظر نہیں آتے، کچھ پھولوں کی صورت میں زمین سے باہر آ گئے ہیں، ورنہ نہ جانے