وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے
شعر نمبر 1 (مطلع)
وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے
جو پلک جھپک میں گزر گئے، مجھے پھر وہی مہ و سال دے
مفہوم: اے پروردگار! میری آنکھوں کو دوبارہ وہ خواب عطا کر جو ملاقات کی خوشی کا احساس دلاتے تھے، اور وہ دورِ مسرت جو پل بھر میں بیت گیا اسے دوبارہ لوٹا دے۔
تشریح:
اس مطلع میں محسن احسان ایک دعا اور التجا کے پیرائے میں ماضی کی خوبصورت یادوں کی واپسی کی تمنا کر رہے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کی تلخیوں نے خوابوں کے رنگ چھین لیے ہیں، اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہے کہ میری بنجر آنکھوں کو دوبارہ ان خوابوں سے سیراب کر دے جن میں محبوب کے وصال کی خوشی رچی بسی ہو۔ “نشاطِ شامِ وصال” کی ترکیب اس قلبی سکون کو ظاہر کرتی ہے جو ایک عاشق کو اپنے مقصود کو پا کر حاصل ہوتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں انسانی فطرت کی ایک بڑی سچائی بیان کی گئی ہے کہ خوشی کا وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ شاعر حسرت بھرے انداز میں کہتا ہے کہ وہ سال جو خوشیوں کی بہتات کی وجہ سے “پلک جھپکنے” میں گزر گئے، وہ اسے دوبارہ میسر آ جائیں۔ یہ شعر دراصل حال کی پریشانیوں سے فرار اور ماضی کے پرامن اور خوشحال ایام کی واپسی کی ایک جذباتی پکار ہے۔
بقولِ شاعر:
وہ وقت جو ہم نے گزارا تھا، وہ آج بھی دل کو پیارا ہے
اے کاش! وہ لمحے لوٹ آئیں، یہ دل کا ایک سہارا ہے
شعر نمبر 2
یہ گداگروں کی ہیں بستیاں، یہاں چشم پوشی گناہ ہے
تو امیرِ شہرِ جمال ہے، تو زکوٰۃِ حسن و جمال دے
مفہوم: یہ دنیا ضرورت مندوں کی بستی ہے جہاں کسی کی حاجت سے نظر چرانا اخلاقی گناہ ہے، تو چونکہ حسن کا مالک ہے اس لیے اس جمال کی خیرات یا زکوٰۃ ہمیں بھی عطا کر۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر نے استعاراتی زبان استعمال کرتے ہوئے محبوب کو “امیرِ شہرِ جمال” قرار دیا ہے، یعنی وہ جو حسن اور خوبیوں میں سب سے بلند مرتبہ رکھتا ہے۔ دوسری طرف وہ خود کو اور تمام اہل دنیا کو “گداگر” کہتا ہے جو توجہ اور کرم کے پیاسے ہیں۔ شاعر کا استدلال یہ ہے کہ جس طرح مالدار پر زکوٰۃ فرض ہے تاکہ غریبوں کا بھلا ہو، اسی طرح جس کو اللہ نے حسن اور مرتبے سے نوازا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو نظر انداز نہ کرے (چشم پوشی نہ کرے)۔ “چشم پوشی گناہ ہے” کہہ کر شاعر نے ایک بڑا سماجی اور اخلاقی درس دیا ہے کہ اپنی نعمتوں میں دوسروں کو شریک نہ کرنا خود غرضی ہے۔ یہ شعر محبوب کی برتری اور عاشق کی عاجزی کا ایک نہایت عمدہ نمونہ ہے، جس میں صوفیانہ رنگ بھی جھلکتا ہے۔
بقولِ شاعر:
تیرا حسن ہے دولتِ بے بہا، مری زیست ایک سوال ہے
کبھی اپنی دید کی بھیک دے، ترا تشنہ لب یہ وصال ہے
شعر نمبر 3
مجھے شوقِ سیرِ سما نہیں، میں اسیرِ حرص و ہوا نہیں
میں قفس میں عمر گزار دوں، وہ ضمانتِ پر و بال دے
مفہوم: مجھے آسمانوں کی سیر کا کوئی شوق نہیں اور نہ ہی میں دنیاوی لالچ کا قیدی ہوں، میں پنجرے میں بھی خوش رہوں گا بشرطیکہ مجھے اپنی پرواز کی آزادی کی ضمانت مل جائے۔
تشریح:
یہ شعر آزادیِ اظہار اور انسانی وقار کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ دنیاوی جاہ و حشم یا آسمانوں کی بلندیوں کا حریص نہیں ہے، وہ ایک قناعت پسند انسان ہے۔ اس کی طلب مادی نہیں بلکہ نظریاتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر اسے قید (قفس) میں بھی ڈال دیا جائے تو اسے کوئی اعتراض نہیں، مگر شرط یہ ہے کہ اس کی سوچ اور اس کے پروں کی طاقت (نظریاتی آزادی) پر قدغن نہ لگائی جائے۔ “ضمانتِ پر و بال” سے مراد وہ قوت ہے جو انسان کو قید میں رہ کر بھی ذہنی طور پر آزاد رکھتی ہے۔ یہ شعر ان لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے جو اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے اور اپنی خودی کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک جسمانی قید سے زیادہ خطرناک ذہنی اور فکری غلامی ہے۔
بقولِ شاعر:
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
شعر نمبر 4
مرا غم شناس کوئی تو ہے، میرے آس پاس کوئی تو ہے
میرے حرف کو جو خلوص دے، میرے لفظ کو جو کمال دے
مفہوم: میری تنہائی میں کوئی تو ایسی ہستی ہے جو میرے دکھوں کو سمجھتی ہے اور وہی میری شاعری کو سچائی اور کمال عطا کرتی ہے۔
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنی تنہائی میں ایک غیبی سہارے کا ذکر کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا چاہے مجھے نہ سمجھے، لیکن کوئی ایسی ہستی (خالق یا سچا محبوب) ضرور موجود ہے جو میرے غموں سے واقف ہے۔ یہ “غم شناس” ہستی ہی شاعر کی تخلیقی قوت کا منبع ہے۔ شاعر کی دعا ہے کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ (حرف) محض بے جان نہ ہوں بلکہ ان میں “خلوص” کی تاثیر ہو اور وہ فن کے اعتبار سے “کمال” کے درجے پر فائز ہوں۔ ایک فنکار کے لیے اس سے بڑی کوئی بات نہیں کہ اس کا کلام لوگوں کے دلوں پر اثر کرے، اور یہ اثر تبھی پیدا ہوتا ہے جب لفظوں کے پیچھے سچا درد اور خلوص موجود ہو۔ یہ شعر شاعر کی فنی جستجو اور روحانی وابستگی کا اظہار ہے۔
بقولِ شاعر:
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
شعر نمبر 5
تجھے زعمِ خود نگری سہی، مجھے فخرِ قربِ حبیب ہے
میں ہوں عکس عکس میں جلوہ گر، مجھے آئینوں سے نکال دے
مفہوم: اگر تجھے اپنی ذات پر غرور ہے تو مجھے اپنے محبوب کے قرب پر فخر ہے، میں ہر آئینے میں نظر آ رہا ہوں، تو مجھے کہاں کہاں سے نکالے گا؟
تشریح:
یہ شعر انا اور خودی کے فلسفے پر مبنی ہے۔ شاعر اپنے حریف یا دنیا کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تمہیں اپنی ظاہری شخصیت پر کتنا ہی تکبر (زعمِ خود نگری) کیوں نہ ہو، میری طاقت میرا وہ روحانی تعلق ہے جو مجھے اپنے محبوب یا خالق سے حاصل ہے۔ “میں ہوں عکس عکس میں جلوہ گر” ایک صوفیانہ تصور ہے، جس کا مطلب ہے کہ شاعر کی سچائی اور اس کا نظریہ ہر طرف پھیل چکا ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ “آئینوں سے نکال دے” ایک چیلنج ہے کہ تم میری فکر کو مٹا نہیں سکتے کیونکہ وہ اب ہر جگہ عکس کی طرح موجود ہے۔ یہ شعر حق کی آفاقیت اور باطل کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔
شعر نمبر 6
وہی تیرگی کی روایتیں، وہی ظلمتوں کی حکایتیں
تو وکیلِ صبحِ حیات ہے، کوئی روشنی کی مثال دے
مفہوم: معاشرے میں اب بھی وہی پرانے اندھیرے اور ظلم کی کہانیاں رائج ہیں، تو چونکہ زندگی کی صبح کا علمبردار ہے اس لیے کوئی نئی امید یا روشنی دکھا تاکہ یہ اندھیرا ختم ہو۔
تشریح:
اس شعر میں محسن احسان معاشرے میں پھیلی ہوئی ناامیدی اور ظلم و ستم کا ذکر کر رہے ہیں۔ “تیرگی کی روایتیں” اور “ظلمتوں کی حکایتیں” ان فرسودہ نظاموں اور ناانصافیوں کی علامت ہیں جو انسانیت کو اندھیرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ شاعر معاشرے کے رہبر یا مسیحا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اب بہت ہو چکا، ان پرانی باتوں کو چھوڑو اور کوئی عملی روشنی (امید) پیدا کرو۔ “وکیلِ صبحِ حیات” وہ شخص ہے جو زندگی، ترقی اور انصاف کا علمبردار ہو۔ یہ شعر ایک سماجی مطالبہ ہے کہ ہمیں محض ماضی کے دکھوں کا رونا نہیں رونا چاہیے بلکہ ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہیے تاکہ یہ حبس اور اندھیرا ختم ہو سکے۔
بقولِ شاعر:
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
دیوارِ ستم کے سائے میں، اب حالِ گدا کیا لکھنا
شعر نمبر 7
نہ ہے چاہ منصب و جاہ کی، نہ ہوس ہے تخت و کلاہ کی
میں غریب ہوں تو غیور رکھ، مجھے صرف رزقِ حلال دے
مفہوم: مجھے نہ تو بڑے عہدے کی تمنا ہے اور نہ ہی اقتدار کا لالچ، میری بس اتنی دعا ہے کہ غریبی میں بھی میری غیرت سلامت رہے اور مجھے حلال رزق نصیب ہو۔
تشریح:
یہ شعر اخلاقیات اور خودداری کا ایک عظیم نمونہ ہے۔ شاعر اپنی قناعت پسندی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے دنیاوی رتبوں (منصب و جاہ) اور بادشاہت (تخت و کلاہ) کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ چیزیں انسان کو اکثر مغرور اور بے راہ رو بنا دیتی ہیں۔ شاعر کی اصل دولت اس کی “غیرت” ہے، اس لیے وہ اللہ سے التجا کرتا ہے کہ اسے چاہے کتنا ہی غریب رکھے لیکن اس کی غیرتِ نفس کو کبھی ٹھیس نہ لگنے دے۔ “رزقِ حلال” کی دعا اس بات کی علامت ہے کہ وہ حرام کے لقمے اور ناجائز دولت کے انبار سے بہتر اس تھوڑی سی روزی کو سمجھتا ہے جو محنت اور سچائی سے حاصل کی گئی ہو۔ یہ شعر بارہویں جماعت کے طلبا کے لیے کردار سازی کا بہترین سبق ہے۔
بقولِ شاعر:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
شعر نمبر 8
میری سوچ میں نئے موسموں کی شگفتگی کی شمیم ہو
میں اسیرِ فکرِ قدیم ہوں، مجھے تازگیِ خیال دے
مفہوم: اے اللہ! میری سوچ میں نئی رتوں کی خوشبو بھر دے، میں پرانے اور فرسودہ خیالات کا قیدی بن چکا ہوں، مجھے جدید اور تازہ فکر عطا کر۔
تشریح:
محسن احسان اس شعر میں فکری ارتقاء کی بات کر رہے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ انسان اکثر “فکرِ قدیم” یعنی پرانی سوچ اور لکیر کی فقیری میں گم رہتا ہے جس سے ترقی کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ شاعر دعا گو ہے کہ اس کے خیالات میں “نئے موسموں کی شگفتگی” (تازگی) پیدا ہو۔ “شمیم” کے معنی خوشبو کے ہیں، یعنی اس کی سوچ ایسی ہو جو دوسروں کے لیے بھی باعثِ مسرت ہو۔ یہ شعر جمود کو توڑنے اور حالات کے مطابق نئی فکر اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔ ایک زندہ قوم وہی ہے جو اپنے ماضی سے سبق سیکھے مگر اپنی نظریں مستقبل کی تبدیلیوں پر رکھے اور اپنے خیالات میں ہمہ وقت وسعت پیدا کرے۔
شعر نمبر 9 (مقطع)
ہے دعائے محسنِ بے نوا کہ نگارِ شعر کو ہو عطا
وہ چمک جو تابشِ مہر دے، وہ مہک جو نافِ غزال دے
مفہوم: مجھ بے آواز شاعر (محسن) کی یہ دعا ہے کہ میری شاعری کو وہ چمک ملے جو سورج جیسی ہو اور وہ خوشبو ملے جو ہرن کی ناف (مشک) جیسی ہو۔
تشریح:
غزل کے مقطع میں شاعر نے اپنے لیے “بے نوا” (عاجز یا جس کی آواز نہ ہو) کا لفظ استعمال کر کے اپنی انکساری کا ثبوت دیا ہے۔ وہ اللہ سے اپنے فن (نگارِ شعر) کی بقا کی دعا مانگ رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے کلام میں دو خوبیاں ہوں: اول “تابشِ مہر” یعنی سورج کی طرح چمک، جو لوگوں کے ذہنوں سے اندھیرے نکال کر انہیں حق کی روشنی دکھائے۔ دوم “نافِ غزال” یعنی ہرن کی ناف سے نکلنے والی مشک کی خوشبو، جو پڑھنے والوں کے دلوں کو معطر کر دے اور ان کے جذبوں کو مہکا دے۔ شاعر کی خواہش ہے کہ اس کا فن محض الفاظ کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس کی تاثیر آفاقی اور دائمی ہو، جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر رہتی دنیا تک اپنا اثر برقرار رکھے۔
