نظم سراغ راہرو از جوش ملیح آبادی

درج ذیل میں جوش ملیح آبادی کی نظم “سراغِ راہرو” کا جامع تعارف، الفاظ کے معانی، مفہوم اور تفصیلی تشریح پیش ہے۔
شاعر کا تعارف:
شبیر حسن خاں نام، پہلے شبیرؔ تخلص کرتے تھے پھر جوشؔ اختیار کیا۔ 1898 ء میں ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیرؔ، دادا محمد احمد خاں احمدؔ اور پردادا فقیر محمد خاں گویاؔ معروف شاعر تھے۔ اس طرح شاعری انہیں وراثت میں ملی تھی۔ ان کا گھرانا جاگیرداروں کا گھرانا تھا۔ ہر طرح کا عیش و آرام میسر تھا لیکن اعلیٰ تعلیم نہ پاسکے۔ آخرکار مطالعے کا شوق ہوا اور زبان پر عبور حاصل کرلیا۔ شعر کہنے لگے تو عزیزؔ لکھنوی سے اصلاح لی۔ ملازمت کی تلاش ہوئی تو طرح طرح کی دشوایوں کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر کار دارالترجمہ عثمانیہ میں ملازمت مل گئی۔ کچھ مدت وہاں گزارنے کے بعد دہلی آئے اور رسالہ ’’کلیم‘‘ جاری کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی تعلق رہا۔ سرکاری رسالہ ’آج کل‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ اسی رسالہ سے وابستہ تھے کہ پاکستان چلے گئے۔ وہاں لغت سازی میں مصروف رہے۔ وہیں 1982ء میں وفات پائی۔
جوشؔ نے کچھ غزلیں بھی کہیں لیکن ان کی شہرت کا دارومدار نظموں پر ہے۔ انہوں نے تحریک آزادی کی حمایت میں نظمیں کہیں تو انہیں ملک گیر شہرت حاصل ہوگئی اور انہیں شاعرانقلاب کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ ان کی سیاسی نظموں پر طرح طرح کے اعتراضات کیے گئے۔ خاص طور پر یہ بات کہی گئی کہ وہ سیاسی شعور سے محروم اور انقلاب کے مفہوم سے ناآشنا ہیں۔ ان نظموں میں خطابت کے جوش کو سوا اور کچھ نہیں لیکن اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ملک میں سیاسی بیداری پیدا کرنے اور تحریک آزادی کو فروغ دینے میں جوشؔ کی نظموں کا بڑا حصہ ہے۔
شاعر انقلاب کے علاوہ جوشؔ کی ایک حیثیت شاعر فطرت کی ہے۔ مناظر فطرت میں جوشؔ کے لئے بے حد کش ہے۔ وہ ان کی ایسی جیتی جاگتی تصویریں کھینچتے ہیں کہ میر انیس کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی جوشؔ کی انقلابی شاعری کے تو قائل نہیں لیکن مناظر فطرت کی تصویر کشی میں جوشؔ نے جس مہارت کا ثبوت دیا ہے اس کے قائل ہیں۔ فرماتے ہیں ’’جوشؔ نے مناظر فطرت پر جس کثرت سے نظمیں لکھی ہیں اس کی مثال پوری اردو شاعری میں نہیں ملے گی‘‘۔ صبح و شام، برسات کی بہار، گھٹا، بدلی کا چاند، ساون کا مہینہ، گنگا کا گھاٹ، یہ تمام مناظر جوشؔ کی نظموں میں رقصاں وجولاں ہیں۔ بدلی کا چاند، البیلی صبح، تاجدار صبح، آبشار نغمہ، برسات کی چاندنی وہ زندۂ جاوید نظمیں ہیں جن کے سبب جوشؔ فطرت ہی نہیں بلکہ پیغمبر فطرت کہلائے۔
جوشؔ کی تیسری حیثیت شاعر شباب کی ہے۔ وہ عشق مجازی کے شاعر ہیں اور وصل محبوب کے طلبگار۔ ہجر کے مصائب برداشت کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ انہیں ہر اچھی صورت پسند ہے اور وہ بھی اس وقت تک جب تک وصال میسر نہ ہو۔ ’’مہترانی‘‘ ’’مالن‘‘ اور ’’جامن والیاں‘‘ جوشؔ کی مزیدار نظمیں ہیں۔ اس قبیل کی دوسری نظموں کے نام ہیں۔ ’’اٹھتی جوانی‘‘، ’’جوانی کے دن‘‘، ’’جوانی کی رات‘‘ ’’فتنۂ خانقاہ‘‘، پہلی مفارقت‘‘ ’’جوانی کی آمد آمد‘‘، ’’جوانی کا تقاضا‘‘۔
جوشؔ کی شاعری میں سب سے زیادہ قابل توجہ چیز ہے۔ ایک دلکش اور جاندار زبان! جوشؔ کو زبان پر مکمل عبور حاصل ہے۔ انہیں بجا طور پر لفظوں کا بادشاہ کہا گیا ہے۔ مترنم الفاظ کے انتخاب کا انہیں بہت سلیقہ ہے۔ ان کی تشبیہوں اور استعاروں میں بے حد لطافت پائی جاتی ہے۔
شعر نمبر 1
جہاں زمیں پر رگڑ کا نشاں ہویدا ہے
دلیل اس کی ہے سانپ اس طرف سے گزرا ہے
مشکل الفاظ کے معانی:
ہویدا: ظاہر، عیاں، صاف نظر آنے والا۔
دلیل: ثبوت، منطقی وجہ۔
مفہوم:
زمین پر موجود رگڑ کا نشان اس بات کا پختہ ثبوت ہے کہ یہاں سے کوئی سانپ گزرا ہے، کیونکہ نشان بغیر کسی وجہ کے پیدا نہیں ہوتا۔
تشریح:
اس شعر میں جوش ملیح آبادی کائنات کے ایک بنیادی منطقی قانون “علت و معلول” (Cause and Effect) کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں زمین پر کوئی لکیر یا رگڑ کا نشان نظر آتا ہے، تو انسانی عقل اسے دیکھ کر خود بخود یہ نتیجہ اخذ کر لیتی ہے کہ یہاں سے کوئی رینگنے والی مخلوق، خصوصاً سانپ گزرا ہے۔ یہ نشان محض اتفاق نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک گزرنے والے کی موجودگی کا پتہ دے رہا ہے۔ جوش اس سادہ سی مثال سے ایک گہری حقیقت واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کائنات میں موجود ہر اثر کے پیچھے کوئی نہ کوئی مؤثر ضرور ہوتا ہے۔ جس طرح رگڑ کی لکیر سانپ کے وجود کی گواہی دیتی ہے، اسی طرح کائنات کی ہر علامت کسی پوشیدہ حقیقت یا طاقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ آثار دیکھ کر صاحبِ آثار تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس شعر کی اٹھارہ سے بیس سطروں پر مبنی تشریح میں یہ پہلو نمایاں ہے کہ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے وجود کے لیے کسی محرک کی محتاج ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ بیانی سے یہ نکتہ سمجھایا ہے کہ علامات کبھی جھوٹ نہیں بولتیں اور عقلِ سلیم ان علامات کی مدد سے چھپے ہوئے حقائق کو پا لیتی ہے۔ سانپ کا گزرنا ایک عمل ہے اور نشان اس کا نتیجہ، اور دنیا کا کوئی بھی نتیجہ اپنے عمل کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔
شعر نمبر 2
نشان ہلال نما راہ میں بتاتے ہیں
کہ تھوڑی دُور پہ آگے سوار جاتے ہیں
مشکل الفاظ کے معانی:
ہلال نما: پہلی رات کے چاند کی طرح، مڑا ہوا، خمیدہ۔
راہ: راستہ۔
مفہوم:
راستے میں گھوڑوں کے سموں کے چاند نما نشانات یہ بتا رہے ہیں کہ ابھی کچھ دیر پہلے یہاں سے کوئی سوار گزرے ہیں۔
تشریح:
جوش ملیح آبادی اس شعر میں مشاہدے کی قوت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی راستے میں ہلال (پہلی رات کے چاند) کی شکل کے نشانات بنے ہوں، تو ایک سمجھدار مسافر فوراً سمجھ جائے گا کہ یہ گھوڑوں کے نعل کے نشانات ہیں۔ یہ نشانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کوئی قافلہ یا سوار اس راستے پر سفر کر رہا ہے اور وہ ابھی زیادہ دور نہیں پہنچا ہوگا۔ شاعر یہاں وقت اور فاصلے کے تعلق کو بھی بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نشانات کی تازگی بتاتی ہے کہ سوار ابھی کچھ ہی دور آگے گئے ہیں۔ یہ شعر بھی پچھلے شعر کی طرح استدلال پر مبنی ہے کہ کوئی بھی حرکت اپنے پیچھے اپنی موجودگی کا پتہ چھوڑ جاتی ہے۔ جوش یہاں بتانا چاہتے ہیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنی زبانِ حال سے کسی عظیم سوار یا خالق کے گزرنے کا پتہ دے رہا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ پوری دنیا ایک شاہراہ ہے جس پر مختلف آثار بکھرے ہوئے ہیں۔ ان نشانات کو دیکھ کر مسافر کو منزل کا پتہ چلتا ہے یا کم از کم یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کوئی یہاں سے گزرا ہے۔ یہ شعر انسانی تجسس اور کھوج کی علامت ہے جو مادی نشانات سے حقیقتِ حال تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔
شعر نمبر 3
غبارِ راہ نشاں ہے کسی تگ و پو کا
یقین ہوتا ہے نقش قدم سے راہرو کا
مشکل الفاظ کے معانی:
غبارِ راہ: راستے کی دھول۔
تگ و پو: دوڑ دھوپ، کوشش، سخت جدوجہد۔
راہرو: مسافر، راستہ چلنے والا۔
مفہوم:
راستے میں اڑتی ہوئی دھول اس بات کا نشان ہے کہ کوئی بڑی جدوجہد یا دوڑ ہو رہی ہے، اور پیروں کے نشان سے مسافر کے ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔
تشریح:
اس شعر میں جوش ملیح آبادی انسانی زندگی اور کائنات کی چہل پہل کا فلسفہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر فضا میں مٹی اور دھول اڑتی ہوئی نظر آئے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کوئی خاموشی سے نہیں بیٹھا بلکہ کوئی دوڑ رہا ہے یا کوئی بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ “تگ و پو” کا لفظ حرکت اور زندگی کی علامت ہے۔ شاعر کے نزدیک ساکت ہونا موت ہے اور حرکت کرنا زندگی۔ جب کسی راستے پر مسافر چلتا ہے تو اس کے پاؤں کی ٹھوکروں سے مٹی اڑتی ہے، یہی غبار اس کی محنت اور سفر کا گواہ بن جاتا ہے۔ پھر جب ہم زمین پر پاؤں کے نشان (نقشِ قدم) دیکھتے ہیں تو ہمارا گمان یقین میں بدل جاتا ہے کہ یہاں سے کوئی زندہ جاوید انسان گزرا ہے۔ یہ تشریح اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان کے اعمال اس دنیا میں اس کی پہچان بن کر رہ جاتے ہیں۔ جس طرح غبارِ راہ کسی کی دوڑ دھوپ کا پتہ دیتا ہے، اسی طرح دنیا کے ہنگامے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں زندگی رواں دواں ہے۔ جوش کے ہاں حرکت و عمل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، وہ نشاناتِ قدم کو محض نشان نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخ اور وجود کا ثبوت مانتے ہیں۔ یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم بھی اپنے پیچھے ایسے نقشِ قدم چھوڑ جائیں کہ آنے والے ہماری جدوجہد کو پہچان سکیں۔
شعر نمبر 4
صنم تراش نہ ہو تو صنم نہیں بنتا
قدم نہ ہو تو نشان ِ قدم نہیں بنتا
مشکل الفاظ کے معانی:
صنم تراش: بت بنانے والا، مورتی بنانے والا۔
صنم: بت، معشوق، مورتی۔
مفہوم:
جس طرح بغیر کسی کاریگر کے بت وجود میں نہیں آ سکتا، بالکل اسی طرح بغیر کسی کے چلے قدموں کا نشان نہیں بن سکتا۔
تشریح:
یہ شعر اس نظم کا فکری نکتہ عروج ہے جہاں جوش ایک عالمگیر سچائی بیان کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی تخلیق اپنے خالق کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک خوبصورت بت خود بخود پتھر سے نہیں نکل آتا، بلکہ اس کے پیچھے ایک “صنم تراش” کے ذہن کی تخلیق اور ہاتھوں کی مہارت چھپی ہوتی ہے۔ کاریگر کی عدم موجودگی میں پتھر محض ایک پتھر ہی رہتا ہے۔ اسی طرح زمین پر پائے جانے والے قدموں کے نشانات بذاتِ خود کچھ نہیں ہیں، وہ تو اس پاؤں کے محتاج ہیں جو ان پر پڑا تھا۔ جوش اس تمثیل کے ذریعے خدا کے وجود کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ کائنات جو اتنی ترتیب اور خوبصورتی سے سجی ہوئی ہے، اس کا کوئی نہ کوئی “صنم تراش” یا خالق ضرور ہے۔ جس طرح نقشِ قدم دیکھ کر ہم پاؤں والے کا انکار نہیں کر سکتے، اسی طرح کائنات کی تخلیقات دیکھ کر ہم خالق کا انکار نہیں کر سکتے۔ یہ تشریح عقلی اور فلسفیانہ بنیادوں پر کھڑی ہے کہ ہر شے کا ایک مآخذ ہوتا ہے۔ جوش کی قادر الکلامی ہے کہ انہوں نے اتنے بڑے فلسفے کو قدم اور نشانِ قدم کی سادہ سی مثال میں سمو دیا ہے۔ یہ شعر ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم کائنات کی مصنوعات کو دیکھ کر اس کے صانع (بنانے والے) کو پہچاننے کی کوشش کریں۔
شعر نمبر 5
یونہی یہ راہ کہ ہے جس کا نام کاہ کشاں
یونہی یہ نقش ِ قدم ماہ و نیّر ِ تاباں
مشکل الفاظ کے معانی:
کاہ کشاں: کہکشاں، ستاروں کا جھرمٹ (Milky Way)۔
ماہ: چاند۔
نیّرِ تاباں: چمکتا ہوا سورج یا روشن ستارے۔
مفہوم:
اسی طرح یہ کہکشاں بھی ایک راستہ ہے اور اس میں چمکنے والے چاند اور سورج دراصل کسی عظیم مسافر کے نقشِ قدم ہیں۔
تشریح:
اس شعر میں جوش ملیح آبادی زمین سے نظریں اٹھا کر آسمان کی وسعتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح زمین پر دھول اور قدموں کے نشان ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح آسمان پر پھیلی ہوئی یہ کہکشاں (Galaxy) دراصل ایک عظیم شاہراہ ہے۔ اس شاہراہ پر جو روشن چاند اور چمکتے ہوئے سورج ہمیں نظر آتے ہیں، یہ محض آسمانی اجسام نہیں ہیں بلکہ یہ اس “عظیم حقیقت” یا “خالقِ کائنات” کے نقشِ قدم ہیں جو اس کائنات کے راستے سے گزرا ہے۔ شاعر نے کہکشاں کو ایک پگڈنڈی سے تشبیہ دی ہے اور ستاروں و سیاروں کو ٹھوکروں سے اڑنے والے ذرات یا قدموں کے نشانات قرار دیا ہے۔ یہ ایک نہایت بلند پایہ تخیل ہے جہاں مادی دنیا اور روحانی دنیا ایک ہو جاتی ہیں۔ جوش یہ بتانا چاہتے ہیں کہ چاند اور سورج کی روشنی دراصل اس عظیم راہرو کے حسن کا عکس ہے جو ان راستوں سے گزرا ہے۔ یہاں سے نظم کا رنگ فلسفیانہ سے صوفیانہ اور کائناتی ہو جاتا ہے۔ کہکشاں کا وجود اس بات کی گواہی ہے کہ یہاں سے کوئی بہت ہی جاہ و جلال والا مسافر گزرا ہے جس کے قدموں کی دھمک سے یہ ستارے روشن ہو گئے ہیں۔ یہ تشریح کائنات کی وسعت اور اس کے پیچھے چھپے ہوئے عظیم محرک کی عکاسی کرتی ہے۔
شعر نمبر 6
یونہی یہ گرد ِ سر ِ راہ خوش نما تارے
رواں ہیں جن کی جبینوں سے حسن کے دھارے
مشکل الفاظ کے معانی:
گردِ سرِ راہ: راستے کی دھول۔
خوش نما: خوبصورت، دلکش۔
جبییں: ماتھا، پیشانی۔
مفہوم:
یہ خوبصورت ستارے راستے میں اڑنے والی گرد کی مانند ہیں، جن کے ماتھے سے حسن اور روشنی کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔
تشریح:
جوش ملیح آبادی نے اس شعر میں تشبیہ کا ایک انوکھا رنگ بھرا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رات کے وقت آسمان پر جو ستارے ہمیں جھلملاتے نظر آتے ہیں، وہ دراصل اس کائناتی راستے کی دھول (غبار) ہیں جس پر وہ عظیم راہرو چلا تھا۔ عام طور پر دھول مٹیالی اور گدلی ہوتی ہے، لیکن اس عظیم مسافر کے راستے کی دھول بھی اتنی “خوش نما” اور روشن ہے کہ وہ ستاروں کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ ان ستاروں کی پیشانیوں سے نور اور حسن کے دھارے بہہ رہے ہیں جو پوری کائنات کو منور کر رہے ہیں۔ شاعر کا یہ اندازِ بیاں کائنات کی تخلیق کو ایک سفر کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کا حسن دراصل اس سفر کا مرہونِ منت ہے جو خالق نے طے کیا یا جو حرکتِ مسلسل اس دنیا میں موجود ہے۔ ستاروں کی چمک کو “حسن کے دھارے” کہنا جوش کی الفاظ پر گرفت کا ثبوت ہے۔ یہ تشریح واضح کرتی ہے کہ کائنات میں جو بھی خوبصورتی موجود ہے، وہ کسی اعلیٰ و ارفع ذات کے گزرنے کا صدقہ ہے۔ جوش ہمیں بتاتے ہیں کہ جسے ہم محض مادی ستارے سمجھتے ہیں، وہ دراصل حسنِ ازل کی نشانیاں ہیں جو آسمان کی شاہراہ پر بکھری ہوئی ہیں۔
شعر نمبر 7
زمیں کا نور ہیں اور آسماں کی زینت ہیں
کسی کی شوخیء رفتار کی علامت ہیں
مشکل الفاظ کے معانی:
زینت: سجاوٹ، رونق۔
شوخیِ رفتار: تیز رفتاری، چلنے کا دلکش انداز۔
علامت: نشانی۔
مفہوم:
یہ تمام اجرامِ فلکی زمین کے لیے روشنی اور آسمان کے لیے سجاوٹ کا باعث ہیں، لیکن درحقیقت یہ کسی کے تیز اور دلکش گزرنے کی نشانی ہیں۔
تشریح:
نظم کے آخری شعر میں جوش ملیح آبادی اپنے پورے استدلال کو سمیٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ستارے، چاند اور سورج جو ہمیں زمین پر روشنی دیتے ہیں اور جن سے آسمان کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے، ان کی حقیقت محض اتنی نہیں ہے۔ اصل میں یہ سب اس “عظیم راہرو” کی “شوخیِ رفتار” یعنی اس کے تیز اور والہانہ انداز میں گزرنے کی علامات ہیں۔ شاعر نے کائنات کی تخلیق کو ایک حرکت اور رفتار کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ جب کوئی بہت تیزی اور شان سے گزرتا ہے تو اس کے پیچھے ایک تلاطم اور نشانات رہ جاتے ہیں۔ کائنات کا پورا نظام اسی “شوخیِ رفتار” کا کرشمہ ہے۔ زمین پر نور کا ہونا اور آسمان کا ستاروں سے سجنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں سے کوئی صاحبِ جمال و جلال گزرا ہے۔ یہ شعر اس حقیقت کو مکمل کرتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز، چاہے وہ زمین پر ہو یا آسمان پر، اپنے وجود کے لیے کسی اعلیٰ طاقت کی نشانی (Symbol) ہے۔ جوش نے اس نظم کے ذریعے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ کائنات کی ہر شے کا مطالعہ اس کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کے حوالے سے کرنا چاہیے۔ یہ تشریح انسان کو مادی دنیا سے بلند ہو کر حقائق کی تلاش کی ترغیب دیتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ کسی خالق کی جولانیِ طبع کا آئینہ دار ہے۔